چائے ۔۔۔ تحریر: وفا علی نقوی

’’لیجئے۔۔۔آپ کی پانچویں چائے ہے۔۔۔اور ابھی دن کے ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔۔۔شام تک خدا جانے کتنی چائے ہو جائیںگی کچھ کہا نہیں جا سکتا‘‘میں اپنی دنیا میں گم تھا کہ آصفہ کی آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔میز پر کتابوں کے ڈھیر نے اسے چائے رکھنے کی اجازت نہ دی تھی اس لئے وہ کچھ اور بھی برہم تھی۔میری بھی عادت خراب تھی خوب جانتا تھا کہ کسی چیز کی زیادتی سے نقصان ہی ہوتا ہے۔ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ چائے کی زیادتی نیند اُڑاتی ہے اور اس کا دل پر بھی غلط اثر پڑتا ہے لیکن کیا کرتا مجھے جس طرح پانی پینے کی حاجت ہوتی تھی اسی طرح چائے کی طلب اٹھتی تھی۔تقریباً ہر گھنٹے مجھے آفس میں چائے کی ضرورت ہوتی اور جب میں گھر میںہوتا تو یہ طلب کچھ زیادہ ہی پرمارنے لگتی ۔

ہونٹوں پر چائے کی پیالی کالمس ہوتا انگلیوں میں سلگتی ہوئی سگریٹ اور دماغ میں طرح طرح کے خیالات کی آتش جو میرے لئے تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرنے کا کام انجام دیتی ۔ میں نے آصفہ کی آواز پر چونکتے ہوئے کہا۔’’رکھ دیجئے۔۔۔یہیں کہیں رکھ دیجئے‘‘اچانک کتابوں کے ڈھیر سے اُٹھتی ہوئی ماضی کی آواز نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔’’میں چائے کہاں پیتا ہوں؟؟‘‘’’اب یہ بھی کوئی بات ہوئی؟؟۔۔۔لگتا ہے آپ کو ہماری مہمان نوازی کا پاس نہیں‘‘’’ نہیں جناب ایسی تو کوئی بات نہیں‘‘’’تو پھر کیسی بات ہے؟؟؟۔۔۔آپ کو معلوم ہونا چاہئے میں بہت اچھی چائے بناتی ہوں۔۔۔ممی کو میرے ہاتھ کی چائے بہت پسند ہے ۔۔۔ابو بھی میری تعریف کرتے تھے۔۔۔وہ دیکھئے میرے ابو ‘‘۔’’صندل نے دیوار پر لٹکی ہوئی ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا۔تصویر پرانی ہو چکی تھی لیکن اس کے برابرہی دیوار سے لٹکی ہوئی گھڑی جس کی ٹک ٹک دن میں سنائی نہ دیتی تھی نئی معلوم ہوتی تھی۔پاس ہی کمرے کے ایک کونے میں بچھی چوکی پر ایک ضعیفہ عبادت میں مصروف تھی۔’’ یہ میری ممی ہیں۔۔۔ان کی دنیا بھی الگ ہے۔۔۔کبھی اس سے باہر ہوتی ہیں تو بڑے شوق سے چائے مانگتی ہیں اور میں بنا کر پلاتی ہوں‘‘۔میں صندل کی والدہ سے واقف تھا جب بھی اس کے گھر جانا ہوتا ان کو عبادت میں مصروف پاتااور جب وہ عبادت کر چکتیں تو میرے سلام کے جواب میں ڈھیرساری دعائوں سے نوازتیں اور کبھی کبھی میرے سر پر ہاتھ بھی پیار سے رکھ دیتیں۔لیکن صندل ہر بار ان کا تعارف اسی طرح کراتی جیسے میں ان سے ناواقف ہوں۔

’’ واقعی!!! آپ اچھی چائے بناتی ہوں گی تب تو تھوڑی سی۔۔۔ آدھا کپ پی لوں گا۔۔۔اصل میں صبح ناشتے میں چائے پیتا ہوں اور شام کو پانچ یا چھ بجے کے قریب اس کے علاوہ مجھے چائے پینا پسند نہیں‘‘۔میں نے ہر بار کی طرح اس کو جواب دیا۔اس نے بھی ہر بار کی ملاقات میں کہے ہوئے جملوں کا اعادہ کیا:’’بس یہی بات غلط ہے۔۔۔ یہ بھی کوئی بات ہوئی۔۔۔سالک صاحب۔۔‘‘’’ صند ل نے مسکراتے ہوئے کچھ اس انداز میں کہا کہ میں نے اس بار بھی توبہ توڑنے کا فوراً فیصلہ کر لیا۔’’لیجئے یہ رکھ دی ہم نے ٹیبل پر ۔۔۔ایک کپ آپ کا اور ایک کپ ہمارا‘‘’’ جی بہت شکریہ !!!‘‘ اس نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے میری طرف مسکراتے ہوئے کہا‘‘’’کہئے کیسے تکلیف کی آپ نے؟؟؟

‘‘’’مجھے کلیاتِ ساحرؔ لدھیانوی چاہئے جوفی الوقت آپ کی الماری کی زینت ہے۔۔۔کچھ لکھنا ہے ساحرؔ کے فن پر۔۔۔جلد آپ کو لوٹا دوں گا‘‘’’لیجئے پہلے بسکٹ کھائیے۔۔ورنہ یہ شکایت کرے گا کہ آپ اس کو خاطر میں نہ لائے‘‘۔’’شکریہ‘‘میں نے پلیٹ سے بسکٹ اٹھایا اور ہونٹوں میں دبا لیا ۔’’ ابھی پیش کرتی ہوں ساحرؔ صا حب کو آپ کی خدمتِ عالی میں‘‘یہ کہہ کر صندل اپنی الماری کی طرف بڑھی۔میں اسے تقریباً پانچ سال سے جانتا تھا وہ میرے ساتھ ایم اے اردو میں تھی میں نوکری کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکا تھا جب کہ وہ شعبۂ اردو اے ایم یو علی گڑھ سے منٹو کے افسانوں پر ریسرچ کر رہی تھی۔اس کا مکان میرے گھر کے قریب ہی تھا ۔وہ اپنے چھوٹے بھائی اور والدہ کے ساتھ رہتی تھی۔

’’لیجئے!!! ساحرؔ صاحب کو تھامئے ۔۔۔ویسے آپ نے زحمت کی ۔۔۔فون پر کہہ دیا ہوتا میں نوید سے بھجوا دیتی‘‘’’اس بہانے آپ سے ملاقات بھی تو ہوگئی‘‘میں نے کتاب کے اوارق پلٹتے ہوئے اس کی دھول صاف کرتے ہوئے کہا۔’’ہاں یہ بھی ٹھیک کہا آپ نے ۔۔۔ورنہ آپ تو ہماری خیریت ہی نہیں لیتے‘‘چائے ختم ہو چکی تھی ۔میں نے اجازت طلب کرتے ہوئے کہا۔’’اچھا ۔۔۔پھر کسی وقت ملاقات ہوگی۔۔۔خدا حافظ‘‘۔اس کی والدہ کی نماز ختم ہو چکی تھی اور مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ دیوار پر لٹکی ہوئی اس کے والد کی تصویر میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔دروازہ بند ہو چکا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ کھڑکی سے نکلتی ہوئی دو آنکھوں کی روشنی میرا تعاقب کر رہی تھیں۔اس کا تجربہ اس سے پہلے بھی مجھے کئی بار ہوا تھا۔یہ ان آنکھوں کی روشنی تھی جن میں کئی خواب جنم لے چکے تھے جو اپنی تعبیر کی تلاش میں مجھ سے سوالیہ نشان کی طرح ملاقات کرتے تھے۔میں نے اس باربھی مڑ کر دیکھا میرا گمان یقین کا لباس پہنے ہوئے کھڑکی پر جلوہ افروز تھا لیکن میںتجاہلِ عارفانہ سے کام لیتا ہوا آگے گلی میں مڑ گیا۔مجھے معلوم تھا کھڑکی اب بھی کھلی ہوگی مگر میرے قدموں نے گھر کا رُخ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ کچھ دنوں بعد ساحر ؔ کی شاعری پر میرا مضمون اودھ نامہ اخبار میں چھپ چکا تھا میں اپنے اسٹڈی روم میں بیٹھا کچھ ادھر ادھر کی چیزیں دیکھ رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل کی رنگ نے دروازۂ سماعت پر دق الباب کیا۔’’ہیلو!!!‘‘’’یس‘‘’’کیسے مزاج ہیں؟؟‘‘’’بڑیا۔۔ایک دم بڑیا۔۔۔کرم ہے معبود کا‘‘’’اودھ نامہ میں آپ کا مضمون پڑھا۔۔۔بڑا شاندار ہے ‘‘’’شکریہ محترمہ۔۔۔بہت شکریہ‘‘’’میری کتاب کہاں ہے؟؟؟‘‘’’اوہ!!! تو کتاب لینے کے لئے فون کیا ہے آپ نے؟؟؟‘‘’’نہیں ۔۔۔چائے پلانے کے لئے۔۔۔کتاب کے ساتھ گھر تشریف لائیں اور ایک کپ چائے مفت پائیں‘‘۔’’اوکے!!! حاضر ہوتا ہوں‘‘

کچھ دیر کے بعد میں نے اپنا وجود صندل کے گھر میں پایا۔سامنے چائے اور پلیٹ میں بسکٹ رکھے ہوئے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔’’کچھ کہنا ہے آپ سے‘‘’’جی فرمائیے۔۔۔پہلے اپنی کتاب لیجئے حضور‘‘۔’’بہتر ہے۔۔۔لائیے‘‘میں نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا ’’کچھ کہنا تھا آپ کو؟؟؟‘‘’’جی۔۔۔ضرور کہوں گی پہلے بسکٹ تو کھائیے‘‘’’بہت شکریہ‘‘’’آپ کو میرے ہاتھ کی چائے کیسی لگتی ہے؟؟؟‘‘جی بہت اچھی۔۔۔واقعی بہت اچھی چائےبناتی ہیں آپ‘‘’’اور میں ۔۔۔۔میں کیسی لگتی ہوں؟؟؟‘‘’’آپ بھی اچھی ہیں ۔۔۔ظاہر سی بات ہے تبھی تو چائے اچھی بناتی ہیں‘‘’’میں سنجیدہ ہوں محترم‘‘’’میں کون سا غیر سنجیدہ ہوں؟؟؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے صندل کو جواب دیا’’میں شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔‘‘’’گڈ۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔ضرور کیجئے‘‘’’میں آپ سے شادی کروں گی‘‘اس کی یہ بات سن کر بسکٹ میرے گلے میں اٹک کر رہ گیا میں نے چائے کا گھونٹ بھر کر کپ ٹیبل پر رکھ دیا؟؟؟‘‘’’مجھ سے؟؟؟کیا مطلب؟؟؟‘‘’’مطلب یہ کہ۔۔۔آپ مجھے اچھے لگتے ہیں‘‘میں نے دیکھا اس کی والدہ سجدے میں گری ہوئی عبادت میں مصروف تھیں اور دیوار سے لٹکی ہوئی اس کے والد کی تصویر سے سنجیدگی کے رنگ عیاں تھے۔میں نے جلدی سے چائے ختم کرنا چاہی اور ہڑبڑاہٹ میں اپنی چائے کے بجائے اس کی جھوٹی چائے پی گیالیکن وہ بہت مطمئن تھی۔’’میںآپ کو ایک ہفتے کا وقت دیتی ہوں۔۔۔سوچ کر بتا دیں ہاں۔۔۔یا۔۔۔نا۔۔۔‘‘میں اس بار عجب انداز سے اس کے گھر سے لوٹ رہا تھا میرے ذہن میں ساحرؔ کی مشہور نظم کے مصرعے گردش کر رہے تھے۔وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن۔اسے اک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا۔چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں۔ اس ایک ہفتے نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا مجھے یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے اس ایک ہفتے میں مجھے چائے کی لت ہوگئی میںنے چائے کی پیالی میں خود کو ڈبو دیا۔اکثر گھر سے نکل کر شمشاد مارکٹ کا رُخ کرتا اور جمی کے ڈھابے پر بیٹھ کرلگاتار چائے پر چائے پیتامیں دیکھتا ہر شخص اپنی اپنی دنیا میں گم ہے۔

اچانک ایک رات موبائل کی گھنٹی نے میری جاگتی آنکھوں کو اپنی طرف متوجہ کیا موبائل کی اسکرین پر صندل کی کال تھی۔رات کے گیارہ بجے تھے۔’’ہیلو‘‘’’یس‘‘’’کیا فیصلہ کیا آپ نے؟‘‘’’ہمم۔۔۔میں ۔۔۔میںمعزرت چاہتا ہوں۔۔آپ کے ساتھ میں شادی نہیں کر سکتا‘‘’’اوکے!!! کوئی بات نہیں‘‘یہ کہہ کر صندل نے فون کاٹ دیا۔ اس واقعے کو کئی سال گزر گئے مجھے یاد نہیں کہ میں نے ماضی کی یادوں کو کیسے بھلایا بس اتنا جانتا ہوں کہ میرے دل میں ہمیشہ یہ احساس جا گزیں رہا کہ محبت مذہب و مسلک کی قید سے مبرہ ہوتی ہے یہ نہ ذات دیکھتی ہے نہ امیری اور نہ غریبی۔ کئی سال گزرنے کے بعد اچانک اس کی یاد نے مجھے اپنی گرفت میں لیا خیال ہوا کہ خیریت لوں کیونکہ میں اس دوران کتنا سنگ دل ہو گیا تھا مجھے بھی علم نہ تھا خیال ہوا کہ صندل فون اٹھائے گی یا نہیں۔میں نے تو اس کی خیریت بھی نہیں لی ہاں اتنا ضرور معلوم ہوا کہ اس نے اس ایک ہفتے کی مدت تمام ہونے کے بعد ہمارے پڑوس کو الوداع کہہ دیا تھاکوئی نہیںجانتا تھا کہ وہ کہاں گئی اور کس حال میں ہے۔میں نے ہمت کرکے اس کے موبائل پر رنگ کی۔پہلی ہی بار میں کال ریسیو ہوگئی۔’’ہیلو!!!‘‘’’کون؟؟؟‘‘’’جی میں۔۔۔‘‘’’کون میں؟؟؟‘‘’’آپ صندل ۔۔۔صندل بول رہی ہیں نا آپ؟؟؟‘‘’’جی!!! فرمائیے‘‘ مجھے لگا تھا کہ میرا فون ریسیو کرکے اسے خوشی حاصل ہوگی اور وہ ایک زمانے کے بعد بھی میری آواز پہچا ن جائے گی مگر میری امید پر پانی پھر گیا۔’’میں سالک۔۔۔سالک۔۔۔بو ل رہا ہوں‘‘’’کون ؟؟؟سالک؟؟؟‘‘’’میں نے تو آپ کی خیریت لینے کے لئے فون کیا تھا؟؟؟‘‘’’مل گئی خیریت؟؟؟۔۔۔اب فون کاٹ دیں‘‘اس کا یہ انداز نہ جانے کیوں میری روح تک خنجر کی صورت میں اتر گیا۔اگلے روز بھی دل نے کہا کہ اس سے بات کی جائے چائے کا کپ میرے ہونٹوں پر گرمی بکھیر رہا تھا۔’’ہیلو!!!‘‘’’یس‘‘’’کیسی ہیں آپ‘‘’’کون کیسی ہیں؟؟؟‘‘’’صندل صاحبہ۔۔۔آپ۔۔۔آپ‘‘ادھر سے کوئی جواب نہ ملا اور فون کٹ گیا۔اگلے دن جب میں شمشاد مارکیٹ پر جمی کے ڈھابے پر بیٹھا چائے پی رہا تھا تو چائے نے مجھے مشورہ دیا کہ ایک بار پھر صندل کو مخاطب کیا جائے ۔میں نے ایک بار پھر صندل کا نمبر ملایا۔

’’ہیلو!!!‘‘’’یس‘‘’’صندل‘‘’’یس‘‘کیسی ہو؟؟؟۔۔۔کہاں ہو؟؟؟۔۔۔کیا علی گڑھ ہی میں ہو؟؟؟‘‘’’آپ سے مطلب؟؟؟‘‘اس نے بے رخی سے اس طرح جواب دیا کہ ایک بار یہ احساس ہی نہ ہوا کہ میں کہا بیٹھا ہوں۔اس کی آواز دوبارہ میرے کان میں کانٹے چبھونے لگی۔’’دیکھئے اب آپ نے مجھے بہت ستا لیا۔۔۔آئندہ فون کیا تو اپنے شوہر سے شکایت کر دوں گی‘‘۔فون کٹ چکا تھا لیکن میرے ذہن میں نئے سوالات گردش کر رہے تھے آخر میری غلطی کیا تھی بس خیریت ہی تو لی تھی۔میں رات بھر سکون سے نہ سو سکا۔اگلے روز شام کو جب میں ایک دوست کے ساتھ جمی کے ڈھابے پر بیٹھا چائے کی چسکی لے رہا تھا کہ میرئے موبائل نے مجھے اپنی جانب پکارا ۔’’ہیلو!!!‘‘’’جی۔۔‘‘’’میں۔۔۔سریش بول رہا ہوں‘‘۔’’جی ۔۔۔کون سریش؟؟؟‘‘’’سریش اگروال۔۔۔صندل کا شوہر۔۔۔آپ میری زوجہ کو کیوں پریشان کر رہے ہیں؟؟؟۔۔۔یاد رکھئے یہ غلط بات ہے۔۔۔آپ اچھے لکھاری ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اچھے انسان نہ رہیں۔۔۔اب اگر میری صندل کو پریشان کیا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا ۔۔۔میں آپ کی پولیس میں شکایت کروں گا۔۔۔۔ویسے بھی دو بچوں کی ماں ۔۔۔۔‘‘سریش نے جملہ ادھورا چھوڑ کر کال کاٹ دی تھی۔رابطہ منقطع ہو چکا تھا لیکن میں سوچ رہا تھا کہ لڑکیاں اس قدر بے وفا کیوں ہوتی ہیں؟؟؟ میں نے تو ایسی کوئی بات بھی نہ کہی تھی جو نا گوارِ خاطر گزرتی بس خیریت ہی لینا چاہتا تھا اور اس جذبے کو نہ سمجھتے ہوئے صندل نے میرا ساتھ کیسا برا سلوک کیا۔ اچانک آصفہ کی جھنجھلائی ہوئی آواز نے مجھے مخاطب کیا۔’’میز پر کتابوں کے ڈھیر کے علاوہ کچھ رکھنے کی جگہ نہیں۔۔۔چائے کہا ںرکھوں۔۔۔کس دنیا میں گم ہو؟؟؟‘‘