چمچہ ازم ۔۔۔تحریر: مراد علی شاہد

اپنے باس کے دفتر میں ایک میٹنگ میں تھا کہ میری ایک تجویز کے جواب میں وہ اچانک گویا ہوئے کہ مسٹر مرادI Love Spoonism ذرا حیرت ہوئی کہ سوشلزم،کمیونزم،فاشزم،بدھ ازم اور نیپوٹزم تو سن اور پڑھ رکھا تھا یہ spoonism کس سسٹم یا نظام حکومت کا نام ہے جس کا آج تک مجھے ادراک نہ ہو سکا۔ہمت مجتمع کی اور پوچھ لیا کہ سر یہ کون سا نظام سیاست ہے؟فرمانے لگے کہ میرے نزدیک فی زمانہ کامیابی کا ضامن اگر کوئی نظام ہے تو وہ یہی ہے،جسے عرف عام میں’’چمچہ ازم یا چمچہ گیری‘‘ کہا جاتا ہے یعنی اگر آپ دورِ حاضر میں کارہائے ملازمت یا نظام سیاست میں کامیاب و کامران ہونا چاہتے ہوں تو چمچہ کی طرح ہر تھالی میں ایسے فٹ ہو جائو کہ باقی سب سے وہاں مس فٹ ہو جائیں،چاپلوسی،چمچہ گیری،خوشامد،چرب زبانی،ٹی سی،اٹھانا اور چک کے رکھو سب اسی تھالی کے چٹے بٹے ہیںاور اسی تھالی

سے سب ’’چمچے‘‘ فیوض و برکات بھی سمیٹتے ہیں کیونکہ ان کا ایک ہی منشور ہوتا ہے جسے میرے ہم عصررضا حسین رضاؔ نے کچھ ایسے شعری حسن میں پرویا ہے۔حاکم وقت کی جب ہو محفل سجی۔۔جھوٹ کے گیت تم گنگناتے رہو۔۔دم ہلاتے رہو فیض پاتے رہو۔۔مذکورہ تمام صفات موجودہ دور میں جن احباب میں بھی پائی جاتی ہوں وہ کامیاب شخص اور جن میں بدرجہ اتم موجود ہوں وہی اعلیٰ درجہ پر فائز ہونے کا مستحق قرار پاتا ہے۔اور اگر مذکور ہ خوبیاں کی ’’حاملہ‘‘ کوئی فائزہ ہو تو سمجھو آفس کی باس ہونا اسی کی جھولی میں ڈالا جائے گا۔چمچہ گیری ایسا تیر بہ ہدف نسخہ ہے جس میں تیر کا کہیں نام و نشان نہ بھی ہو مگر ہدف پھر بھی شکار ہو ہی جاتا ہے کیونکہ غلامی خود آقا پرور ہوتی ہے۔ایک بار مجھ سے کسی نے پوچھا کہ یار یہ چمچہ گیری ہوتی کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ صدقے جائوں، مجھے کیا خبر میں کون سا اس مرض لاعلاج میں مبتلا ہوں،آپ کسی ’’برانڈڈ چمچہ ‘‘(ایسا چمچہ جس کے بارے میں پورے دفتر کی ایک ہی رائے ہو)سے کیوں نہیں پوچھ لیتے ۔کہنے لگا یہاں تک اس موضوع کے بارے میں میری ناقص رائے ہے کہ ایسے تمام چمچے صرف باس کے پاس ہی مانتے ہیں کہ وہ چمچے ہیں باہر تو وہ صرف اپنی منواتے ہیں،اچھا کوئی تعریف تو ہوگی نا اس کی،کیسے پتہ چلے گا کہ کون سا چمچہ کس نسل سے تعلق رکھتا ہے؟میں نے عرض کی کہ کمال کرتے ہو میاں ،جس کا پتہ ہی چل گیا وہ کاہے کا برانڈڈ چمچہ۔ہاں البتہ ایک بات بتا دیتا ہوں کہ ان کی پہچان کوئی ایسی بھی مشکل نہیں ہے کہ اندازہ ہی نا لگایا جا سکے۔باس کی قربت،مالی فائدہ کا حصول اور جائز و ناجائز وسیلہ اختیار کر کے اپنے کام نکلوانے والے ابن الوقت کو چمچہ نہ کہیں تو اور کیا طلال اور فواد کہیں گے۔جو شخص بھی ایسی خوبیوں کا مظہر و منبع ہوگا اسے

اسی لحاظ سے درجہ بھی دیا جائے گا اور اسی درجات کی بنا پر چمچوں کے حسب نسب اور نسل کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے۔مگر جناب چمچے کب مانتے ہیں ؟تو میں نے عرض کیا کہ اصیل چمچوں کی حقیقی پہچان بھی یہی ہے کہ وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا حالانکہ سب اسے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔آپ چمچہ کو دفتر کی دائی یا پھوپھو بھی کہہ سکتے ہیں ۔جیسے دائی سے پیٹ اور پھوپھو سے راز نہیں چھپایا جا سکتا ایسے دفتر کی کوئی بات چمچہ کی نظروں سے نہیں اوجھل نہیں ہو سکتی۔بلکہ ایک بار تو ایک دفتر میں ایک دائی اور پھوپھو ایک ساتھ ہی آگئیں ،اتفاق سے ان کا واسطہ ایک برانڈڈ قسم کے چمچہ سے پڑ گیا ،چمچہ کی ’’پھرتیاں‘‘دیکھ دونوں انگشت بدنداں رہ گئیں کہ یہ چالاکیاں تو ہمارے بڑھوں کے دماغ میں بھی نہیں ہونگیں جو اس کی شیطانی کھوپڑی میں ہیں۔چمچہ رکھنا یا ’’پالنا‘‘کوئی نیا کام

یا فیشن نہیں ہے پرانے زمانوں میں راجے مہاراجوں سے موجودہ دور میں سیاستدانوں تک سبھی اس بیماری میں مبتلا ہیں۔اسی بنا پر یہ ایک عالمگیر فن اور فیشن بن گیا ہے۔بلکہ پاکستان میں تو اس نے باقاعدہ صنعت کا درجہ حاصل کر لیا ہوا ہے،اب ہم چمچہ گیری میں اس قدر خود کفیل ہو گئے ہیں کہ عربی کفیل بھی اس سلسلہ میں ہم سے ہی رابطہ کرتے ہیں ،کہ ہمیں ایک ہزار ایسی لیبر چاہئے جو ہنر کے ساتھ ساتھ چمچہ گیری میں بھی مہارت رکھتے ہوں۔آپ کبھی غور کیجئے گا کہ چمچہ کو کوئی منہ لگائے نہ لگائے مگر یہ ہر منہ میں فٹ ہو جاتا ہے ،مطلب نکلنے کے بعد چاہے اسی منہ کو ’’فٹے منہ ‘‘ قرار دے رہا ہو۔اگر اقسام چمچہ کی بات کی جائے تو سیاسی چمچہ گیر،چمچہ گیری کی فہرست میں پہلے نمبر پر آتے ہیں۔اگرچہ اس کلچر نے نظریاتی سیاست کا خاتمہ کر کے رکھ دیا ہے پھر بھی میدان سیاست میں انہیں چمچہ

گیروں کی فصل لہلہا رہی ہے۔اب تو جسے دیکھو سیاسی چمچہ بنا پھرتا ہے،ایسی قسم کے چمچوں کی سب سے بڑی خوبی پتہ ہے کیا ہوتی ہے ؟کہ کمال کے چرب زبان ہوتے ہیں۔اور اپنی چرب زبانی سے ہی اپنے نالائق اور ڈفر لیڈر کی عقل کو ارسطو اور سقراط کے پائے کا عقل مند ثابت کرنے کی پوری سعی کر تے ہیں،سونے پہ سہاگہ کہ لیڈر صاحب اپنے آپ کو ارسطو سمجھنا بھی شروع کر دیتا ہے۔آجکل ان چمچوں کی اتنی کثرت ہے کہ یہ بغیر’’کثرت‘‘سے ہی اپنے لیڈر کو آسمان کا چاند بنا دیتے ہیں ،میں ایک ایسے لیڈر کو بھی جانتا ہوں جس کا مقابلہ اگر ان افریقہ کے سیاہ فام لوگوں سے بھی کروا دیا جائے تو موصوف کسی کو پاس بھی نہ پھڑکنے دیں(اتنے سیاہ ہیں) پھر بھی ان کی انتخابی مہم میں چڑھتا سورج اور آسمان سیاست کا مہ تاب جیسے نعرہ زن،نعرہ زنی کرتے ان کے آگے پیچھے دیکھے ہیں اور سرکار ایسے نعروں سے

انتہائی خوش بھی دکھائی دیتی تھی،ایک بار پوچھنے پہ انہوں نے بتا یا کہ مجھے پتہ ہے کہ میں خوبصورت نہیں مگر ایسے نعرے سن کر دلی سکون سا محسوس ہوتا ہے۔اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ آئینہ نہیں دیکھتا بلکہ چمچے اسے اپنے شیشے میں اتارنے میں اس قدر کامیاب ہو چکے تھے کہ باوجودیکہ اس بات کے جاننے کے کہ سب مل کر اسے بے وقوف بنا رہے ہیں اسے بے وقوف بننا اچھا لگتا ،یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک الیکشن میں کامیاب نہیں ہو پایا کہتا ہے مجھے الیکشن اور چاپلوسی کا نشہ لگ گیا ہے۔سیاسی چمچہ گیری کے بعد صحافتی چمچہ گیری کا نمبر آتا ہے ،صحافت جسے ریاست کا چوتھا ستون خیال جاتا تھا اب سیاسی ڈیروں کا ستون بن کر سیاستدانوں کو زمانہ سے بچا نے میں پیش پیش ہے،جب سے ٹی وی چینل ٹڈی دل کی طرح یا طاعون کی طرح پھیلے ہیں سیاسی چمچے سب سے زیادہ in ہوئے ہیں اور جب یہ

کہیں بھی in ہو جاتے ہیں تو سمجھو وہاں سے سب out ہیں۔صحافتی چمچے پارلیمنٹ سے فائیو سٹار تک آپ کو ہر اس جگہ ملیں گے جہاں کسی بھی قسم کی سیاسی تقریب ہورہی ہو۔پریس کانفرنس کے بہانے ان کا کام دوسروں کو صرفpress کرنا ہوتا ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکیں۔کہتے ہیں ہم سیاسی جماعتوں کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں حالانکہ سیاستدان ان کی جیب میں ’’کچھ نا کچھ‘‘ رکھتے ہی رہتے ہیں کیونکہ ان کی جیب اور منہ ہر وقت کھلا ہی رہتا ہے،اب یہ بات سیاستدان بھی سمجھ گئے ہیں کہ اگر ان کا منہ بند کرانا ہو تو ان کی جیب کا منہ بھر کر بند کرنا از حد ضروری ہے۔افسوس ہوتا ہے یہ جان کر کہ صحافت ایسا پیشہ بن گیا ہے کہ جس میں ہر کسی کا ہاتھ کسی نہ کسی کی جیب میں ہی ہوتا ہے۔سرکاری چمچہ گیری کانمبر تیسرا ہے کیونکہ اس میں اب تیسرے ’’درجے‘‘کے ہی لوگ بھرتی ہو رہے ہیں ظاہر ہے جو دے کے آتا ہے تو لینے کو تو اپنا حق ہی خیال کرے گا۔ان کی اوقات اور وقت کا تعین صرف دفتری اوقات میں ہی لگایا جا سکتا ہے کیونکہ سرکار کے دفتر میں کوئی کام ہو نا ہو چاپلوسی ہر وقت ہوتی ہے۔خیال ان کا بھی ٹھیک ہے کہ ہم ایک وقت میں ایک ہی کام کر سکتے ہیں ،جی حضوری یا کام ،جی حضوری چونکہ قدرے آسان ہے اس لئے اسی پہ قناعت کر لیتے ہیں۔چپڑاسی سے باس تک سب اسی زلف کے اسیر ہیں بلکہ بنا زلف کے سٹینو گرافر تو اس فن میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔کیونکہ وہ ہر وقت باس کے ارد گرد ’’لقے‘‘کبوتر بن کر پھیریاں اور گھمن گھیریاں ڈالے رہتے ہیں،ویسے بھی دفتر میں سٹینو ایک ایسا عہدہ ہے جسے نہ صاحب کی ’’اگاڑی‘‘اور نہ ’’پچھاڑی‘‘کا ڈر ہوتا ہے،وگرنہ مثل مشہور ہے کہ صاحب کی اگاڑی اور پچھاڑی دونوں سے ہمیشہ بچنا ہی چاہئے۔سیاست اورسرکاری دفاتر کے بعد مذہب کو بھی اس چمچہ

گیری نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ،ہمارے بڑے بڑے علما کرام بھی اس موذی مرض میں مبتلا ہیں۔آپ کبھی غور کیجئے گا کہ ہر بڑے عالم کے ساتھ دم چھلے کی طرح ایک مولوی ضرور چپکا ہو گا۔یہ مولانا کا ’’بستہ چک‘‘چمچہ اس کی مذہبی نالائقی اور جہالت کو بھی ایسے پیش کرے گا کہ مولانا اپنے آپ کو اما م وقت سمجھنا شروع کر دیتے ہیں وہ تو جب ان پر برا وقت آتا ہے تو سوچتے ہیں کہ مذہب تبدیل کروں یا چمچہ؟جب تک مولانا سوچتے ہیں اتنے میں چمچہ کسی دوسری پلیٹ میں فٹ بھی ہو چکا ہوتا ہے۔تاہم سب سے کامیاب چمچہ وہ ثابت ہوتا ہے جسے مذہبی معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی امور میں بھی مہارت ہو، تاکہ ہر حکومت اور فرقے میں فٹ ہو سکے،ملک میں جمہوریت کا بول بالا ہو تو جمہوریت کا ماما وگرنہ مولانا کا مدرسہ تو کہیں گیا ہی نہیں۔سب سے معصوم چمچہ ،امیر،موٹی اور بھدی بیوی کا وہ غریب

شوہر نامدار ہوتا ہے جو اپنی ذاتی بھینس قسم کی بیوی کو بھی اپسرہ ،قلوپطرہ پکار کر گھر کے کسی کونے میں جا کر قے اور قلیاں کر رہا ہوتا ہے۔اگرچہ اس نظام چمچہ گیری نے ملک کے تمام نظام کو تہس نہس کر رکھا ہے،نظریات کو تباہ و برباد کر دیا ہوا ہے مگر پھر بھی ان چمچوں کی طلب میں کوئی کمی نہیں آئی۔باس کی ایک بات اور یاد آگئی کہ مجھے پتہ ہے کہ لوگ میری ’’ٹی سی ‘‘ کیوں کرتے ہیں مگر مجھے اس میں ’’سواد‘‘بہت آتا ہے،پتہ نہیں وہ کون سی کتی تھی جو اس چکر میں ٹرک کے نیچے آگئی تھی۔یہاں تو سب کا بول بالا ہے چاہے سیاسی ،مذہبی یا سرکاری چمچہ گیر ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ملک کو اگر ترقی کی شاہراہ پر چلانا ہے تو کامیابی کی گاڑی سے ان چمچوں کو اتارنا ہوگا وگرنہ چل تو رہا ہے ہمیں کیا اعتراض چلنے دیں۔ایسی صورت حال میں لینن نے بالکل بجا کہا تھا کہ’’عظیم لوگ تباہ ہو جاتے ہیں جب چالاک،مکار اور خاشامدی لوگ ان کے گرد ڈیرے ڈال دیتے ہیں‘‘لینن کی بات سے سو فیصد اتفاق لیکن رضا حسین رضا کی بات بھی فی زمانہ مبنی بر حقیقت ہے کہ۔ہے خوشامد ہی اک نسخہ کیمیا۔۔یار لوگوں کو الوً بناتے رہو۔۔دم ہلاتے رہو فیض پاتے رہو۔