ضمیر فروش ۔۔۔ اسماء طارق

تحریک تھا چلا رہا میں نکلو پاکستان کی خاطر
مت بیچنا اس بار ضمیر اپنا کسی نوٹ کی خاطر

ارض وطن کی قسم نکلنا ہےتجھے مستقبل کی خاطر
دینا ہے تجھے ووٹ آنے والی نسلوں کی خاطر

ہے فیصلے کی گھڑی ،اٹھنا ہے تجھے اپنی خاطر
نہیں بکنا ہے تجھے کسی بریانی کی پلیٹ کی خاطر

اتنے میں آتی ہے صدا بیچنا ہے مجھے ووٹ اپنا
ہے کوئی جو خریدے دو وقت کی روٹی کے عوض
میرے بیوی کے علاج کے عوض

یہ سن کر چلایا میں پکڑو اس ضمیر فروش کو
بیج رہا ہے یہ ضمیر اپنا ، ایمان اپنا

کہا اس نے ہاں بیچ رہا ہوں میں ضمیر اپنا ایمان اپنا
آج کھائیں گے میرے بچے پیٹ بھر کر روٹی

مجھے اس یہ کیا کہ ملک ہو ترقی کی راہ پر گامزن
جب میرے بچے بلک رہے ہوں دو وقت کی روٹی خاطر

میں جو بیجوں ووٹ اپنا تو ہوں میں ضمیر فروش
مگر وہ جنہوں نے کب کا مار دیا ہے ضمیر اپنا ان کا کیا

کرو وعدہ تم اگر کہ اس بار سنی جائے گی اس غریب کی
مر کہ بھی نہ میں بیجوں گا ضمیر اپنا، ایمان اپنا

یہ سن کر میں شرم سار نکل آیا وہاں سے
اس ضمیر فروش نے ہلا دیا تھا ضمیر میرا

اسماء طارق

اپنا تبصرہ بھیجیں