بڑھاپےکی بڑھکیں،عینک اور بتیسی ۔۔۔ مراد علی شاہد

انسانی زندگی میںایک وقت ایسا بھی آتا ہے جسے عہدِ پیری کہا جاتا ہے جس میں مرد و زن کی کل کائنات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتی ہے۔مرد اپنی بوڑھی بیوی کو ’’ہیما مالنی،کترینہ اور کرشما کپور‘‘جبکہ بیوی اپنے بوڑھے ’’خاوند بابے ‘‘کو ’’شاہ رخ‘‘ خیال کرتی ہے حالانکہ اس عمر میں انسان کسی رخ سے بھی سیدھا نہیں ہوتا۔عمر کا یہ وہ حصہ ہوتا ہے جس میں ماسوا خارش کرنے کے اور کچھ بھی نہیں ہو پاتا۔

بس وقت گزاری کے لئے دونوں یعنی بابا اور بابی،ایامِ جوانی کے تصور میں ایک دوسرے کو خارش کر کے دل بہلاتے رہتے ہیں۔وقتِ پیری(بڑھاپے)میں ’’کچھ کچھ‘‘ ہو نا ہو خارش ضرور ہوتی ہے تاہم جگہ کا تعین مشکل ہوتا ہے۔خارش کے علاوہ دونوں کی بتیسی(مصنوعی دانت) اور عینک کا نمبر ایک جیسا ہو جاتا ہے۔جس کو جو چاہئیے مستعار لے اور اپنا گزارہ کر لے۔مثلاًبابا جی کو بھوک لگی ہو تو کھانے کے لئے بتیسی ادھار پکڑی کھانا کھایا بتیسی گرم پانی میں سٹرلائز کی اور ’’بابی‘‘ کے منہ میں۔اماں کو تلاوت فرمانی ہوئی تو بابے کی عینک پکڑی ،دھاگے والے فریم کو ناک کی سلوٹوں پہ ایڈجسٹ کیا ،بعد از تلاوت عینک بڑے پیار سے بابے کی ناک پہ چسپاں۔گویا انسان اگر بوڑھا نہ ہوتا تو چشموں اور دانتوں کے کام کا مکمل مندا ہوتا۔اکثر میری کلاس کے بچے شرارتاً سوال کرتے ہیں کہ سر بڑھاپے کی آمد کا پتہ کیسے چلتا ہے۔تو میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ جب منہ میں دانت گرنے لگیں اور عینک کا نمبر بڑھنے لگے تو سمجھ جائو کہ بڑھاپے کی آمد آمد ہے۔یا پھر اولاد اور اعضائے جسمانی ایک ساتھ جواب دینے لگ جائیں ،بیوی اور یاد داشت کا ساتھ کم ہونے لگے،کھانے کا ذائقہ اور بدصورت عورتوں کا ساتھ حسین لگنے لگے ،حد یہ کہ جب بچے آپ کو نانا ،دادا جبکہ حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنا شروع کر دیں تو کسی قسم کے تردًد سے کام نہ لیتے ہوئے چپ چاپ اپنے بڑھاپے کو ایسے ہی تسلیم کر لیں جیسے بوقتِ نکاح دلہن سے پوچھا جاتا ہے کہ بتائو فلاں بن فلاں

قبول ہے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ماسوا اس کے کہ ہاں’ـ’ سب چلے گا‘‘۔ویسے بڑھاپے میں جیسے ’’توکل بھینس‘‘ کو کوئی چارہ نہیں ڈالتا ایسے ہی کوئی حسین لڑکی کسی بھی بڈھے کو گھاس نہیں ڈالتی،اور بوڑھوں کا کہنا ہے کہ شیر گھاس نہیں ،گوشت کھاتا ہے۔
ویسے بڑھاپا مغرب میں اتنا برا خیال نہیں کیا جاتا جتنا کہ مشرقی لوگوں نے بنا دیا ہے۔مغربی بڈھے جتنا بڑھاپے کو ’’انجوائے‘‘ کرتے ہیں اتنا ہم مشرقی جوانی میں بھی شائد نہ کرتے ہوں،مغرب میں بوڑھوں کو

عمر کے ڈھلتے ہی اولڈ ہوم بھیج دیا جاتا ہے تاکہ ان کی کئیر ہو سکے جبکہ ہمارے ہاں بوڑھوں کو گھر میں ہی رکھا جاتا ہے تاکہ جوانوں کے ’’طعنے معنوں‘‘ کی زد میں رہ کر ان کے کتھارسس کا باعث بن سکیں۔طعنے ذرا ملاحظہ فرمائیں
ٌ* بابے کی چارپائی جانوروں والے کمرے میں لگا دیں
* بابا ہر بات میں ٹانگ نہ اڑایا کر،حالانکہ بابا اپنی ٹانگوں پہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا۔
* بڑھاپے میں کوئی فعلِ جوانی سر زد ہو جائے تو’’چٹے چاٹے(سفید بالوں) کا خیال کر،چاٹا سفید ہو گیا عقل نہ آئی،بوڑھی گھوڑی لال لگام جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے،مشرق میں تو بڑھاپے کو توبہ و استغفار کی عمر خیال کیا جاتا ہے کہ بابا جی تسبیح مصلحہ لے لو اور اللہ اللہ کرو،حالانکہ مغرب میں جو بوڑھے ایامِ جوانی میں جس عورت سے عیاشی

کرتے رہے بڑھاپے میں اسی عورت سے شادی کو آئیڈیل عمر اور جوڑی سمجھتے ہیں،اسی لئے بڑھاپا مشرق میں مرض اور بوجھ جبکہ مغرب میں ’’انجوائے‘‘ کرنے کی اصل عمر اور وقت خیال کیا جاتا ہے۔اس میں قصور نہ مشرقی بوڑھوں کا ہے اور نہ مغربی بلکہ اس عورت کا جس کے پیچھے ہم بوڑھے ہوتے ہیں۔مغرب میں عورت نہ عمر چھپاتی ہے اور نہ جسم جبکہ مشرق میں عورتیں دونوں کو چھپا اور ڈھک کے رکھتی ہے،شائد اسی سبب مغربی خواتین ہم سے دس سال بعد بوڑھی ہوتی

ہیں ۔جبکہ ہمارے ہاں دو بچوں کے بعد’’ گوڈے گٹے‘‘جواب دینا شروع کر دیتے ہیں۔وقت نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ ہمارا بچپن رشتہ داروںکی دلجوئی،جوانی دکھاوے اور بڑھاپا ڈاکٹروں کے لئے ہوتا ہے۔عمر بس بچپن میں ٹیسٹ دیتے ،جوانی میں ٹیسٹ میچ دیکھتے اور بڑھاپے میں ڈاکٹروں سے ٹیسٹ کروانے میں گزار دی جاتی ہے۔عورتیںبوڑھی تو ہوتی ہیں مگر ان کے ’’لچھن‘‘ اکثر جوان رہتے ہیں۔یہ ان کی عمر کا کرشمہ ہے کہ جس کی وجہ سے بوڑھے بھی جوان رہنے کی کوشش میں

لگے رہتے ہیں۔جوانی میں منہ کالا کرنے والے بڑھاپے میں بال کالے کر رہے ہوتے ہیں،کہ منہ کالا کرنے کی عمر اور سکت دونوں ہی کھو بیٹھے ہوتے ہیں،اس عمر میں تو’’ جوانی‘‘ بھی دودھ کے ابال جیسے آتی ہے ذرا سے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے بھی اس ابال کو سکون کی نیند سلا دیتے ہیں۔بس پھر کیا پانی گرم رکھا اگر جوانی کام آئی تو نہا لیا وگرنہ چائے بنا ئیں اور موج کریں۔بڑھاپے کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ ’’بے ضرر‘‘ ہو گئے ہیں۔آپ اپنے سوا کسی کو بھی اب نقصان نہیں

پہنچا سکتے۔ہاں مگر اس قول نے بہت سے بوڑھوں کا نقصان ضرور کیا ہے کہ’’مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے‘‘یہ ایک نہیں بہت سے بوڑھوں کا خیال ہے ،گھوڑوں کا نہیں۔اگر یہ خیال گھوڑھوں کا ہوتا تو کبھی بھی بوڑھے ہو کر مالک کی گولی کا نشانہ نہ بنتے۔چلو بوڑھے ہونے کا ایک فائدہ تو ہے کہ گولی مارنے کے لئے نہیں ’’کھانے اور کرانے ‘‘کے لئے دی جاتی ہے۔گولی(میڈیکل کئیر) ہر بوڑھے کی قسمت میں نہیں ہوتی،بڑھاپے میں اگر کسی بوڑھے کی کئیر کی جاتی ہے تو

اس کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں۔آپ نے اولاد کی تربیت پر مکمل دھیان دیا ہو،وراثت میں کثیر مال و دولت آپ نے چھوڑنی ہو،یا پھر کسی نے تگڑی انشورنس پالیسی کروا رکھی ہو،پھر تو آپ کی آخری سانس تک ’’بلے بلے‘‘وگرنہ’’کلے کلے‘‘جو بھی ہو بوڑھوں کا دنیا پر ایک احسان ضرور ہے کہ اگر بوڑھے ہونے کا رواج نہ ہوتا تو دنیا کب کی بوڑھی ہو چکی ہوتی۔’’سو ہتھ رسا سرے تے گنڈھ ‘‘بڑھاپا ہوتا با وفا ہے۔ایک بار جب آ جاتا ہے تو پھر مرتے دم تک ساتھ نبھاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں