شاعر ۔۔۔ مرادعلی شاہد

شاعرکسی شخصیت کا نہیں ایک کیفیت کا نام ہے جو کسی وقت بھی ،کسی پر بھی لاحق ہو سکتی ہے۔بعد از کیفیت ایک اچھا خاصا وضع وقطع کا وجیہہ شخص،شاعر،شاعر سا لگنے لگتا ہے۔یہ عرصہ کیفیت مختصر بھی ہو سکتا ہے اورطویل بھی۔ویسے ایک بات ضرور ذہن میں رکھئیے گا کہ شاعر یا تو ہوتا ہے ،بنتا ہے یا بنا دیا جاتا ہے۔پہلی قسم ،وہبی،دوسری کسبی اور تیسری نہ وہبی اور نا ہی کسبی بلکہ زر خریدی کہ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ۔زر خریدی قسم کے شاعر یا رقعہ حامل شاعر کو کسی بڑے شاعر کے لیٹر ہیڈ پر رسید لکھ دی جاتی ہے کہ آج سے

مذکور شخص کو باقاعدہ شاعر تسلیم کر لیا گیا ہے۔اس لئے کہ مذکور نے ہمیں باقاعدہ کہنہ مشق شاعر خیال کرتے ہوئے،ہمارے مشاعروں کی ’’مالی معاونت ‘‘کا اعلان کرتے ہوئے ہمارے’’حلقہ ادارت‘‘ میں شمولیت کا اعلان تعلقی اور باقی تنظیموں سے اعلانِ لا تعلقی کا مکمل اظہار فرما دیا ہے،بلکہ وعدہ و عزمِ صمیم بھی کیا ہے کہ عنقریب ’’بڑے شعراء‘‘ (ہماری دانست میں )کے اعزاز میں مشاعرہ کا انعقاد اور اعزازات بھی ا ن کی طرف سے عطا فرمائے جائیں گے لہذا دوست احباب آج کے بعد انہیں ہمارا شاگردِ خاص سمجھتے ہوئے انہیں شعراٗ کی لسٹ میں شامل فرما لیں۔تاکہ مشاعراتی تعارف میں سند رہے۔اوراگر کوئی دوست شاعر اپنی غزل سنا کر اس کی سنے بغیر چلتا بنے گا تو اس سے بھاری جرمانے کے طور پہ آئندہ مشاعرہ کا سارا خرچہ وصول کیا جائے گا۔قسمِ حامل شاعر روز افزوں ہونے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ شاعری پہ ہاتھ بھی صاف کرنے لگ گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر میں ہونے والے مشاعروں اور ادبی سر گرمیوں میں تخلیقات اور شعری محاسن پر کم اور ’’ثروت‘‘(خاتون شاعرہ کے ساتھ نام کی مماثلت اتفاقیہ خیال کی جائے)ق اہلِ ثروت پہ زیادہ نظر رکھی جاتی ہے۔مزید اہلِ ثروت شعراٗ کی آمدنی و سٹیٹس پر شاعری کم گفتگو زیادہ فرمائی جاتی ہے۔کلاسیکل شعراٗ کو نواب،نظام،شاہ اور دربار وظیفہ دینا باعثِ عز و شرف خیال کیا کرتے تھے۔آج زمانہ الٹے پائوں چل رہا ہے کہ شاعر و مشاعرے’’وظیفہ خوار‘‘ ہو گئے ہیں۔اسی لئے کوچہ و نگر خوار ہو رہے ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے مشاعرے گلی گلی ’’پھیری‘‘ والے کی طرح ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ادبی ایوارڈ کی رذالت کا تو کیا رونا ۔’’ادبی ایوارڈکی تقریب‘‘باقاعدہ ایک فیشن انڈسٹری بنتی جا رہی ہے۔کہ جس میں کہ جس میں فیشن کا ’’چسکہ‘‘بھی پورا ہو جاتا ہے اور

انڈسٹری جیسی کمائی بھی ہاتھ لگ جاتی ہے۔’’چسکہ ‘‘ کی لت کوئی بھی ہوجناب بری ہی ہوتی ہے۔شاعری کا ،مشاعرہ کا،فیشن کا،یا منہ کا چسکہ‘‘جان لے کر ہی جان چھوڑتا ہے۔ایک بار مجھے ایک عالمی مشاعرہ میں شمولیت کا اتفاق ہوا تو جناب میں حیران و ششدر رہ گیا کہ ایک کہنہ مشق شاعر ’’چسکہ چائے کے کپ میں ڈال کر‘‘ سٹیج پر رونق افروز ہو گئے۔چسکہ کہیں خالص ہی تھا تو پہلے گھونٹ پہ ہی انتظامیہ سے فرمانے لگے کہ جناب چسکہ گرم ہے اس میں تھوڑا پانی ملا دیجئے تاکہ شعر حلق میں پھنس کر نہ رہ جائے۔ایک دوست شاعر

کا کہنا ہے کہ چسکہvision میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔نیرنگی خیال ، بلند پروازِ تخیل اورموضوعات میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔خیالات پروان چڑھیں یا نہ میڈیکل نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اس سے ’’جگرمیں اضافہ‘‘ضرور ہو جاتا ہے۔شاعر کے پائے جانے کی من پسند جگہ ٹی ہائوس،کلب،پب یا پھر دربار (کسی بزرگ کا نہیں سیاسی دربار)ہے۔اور ’’بنائے‘‘جانے کا سبب شاعرہ ‘‘اور ’’مشاعرہ‘‘ہے۔شاعر جب اپنے ’’حال ‘‘میں مست ہوتا ہے تو ’’ گرہ کشائی‘‘مشکل دکھائی دیتی ہے نسبتاً’’گرہ لگانے‘‘کے۔اسی لئے حالِ مست میں لگائے جانے والے مست

نظروں پہ مصرعے کمال کے طرح مصرعے ہوتے ہیں۔ایسے شعراٗ کرام کسی بھی موضوع،کسی بھی ’’طرح کے مصرعے‘‘لکھ سکتے ہیں۔طرح مصرع میں ایسے شاعروں کو خجالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو حال میں ہوتے ہوئے بھی بدحال اور طرح طرح کے’’ مصرع چور‘‘ہوتے ہیں۔دلیل و حوالہ ان کے پاس یہ ہے کہ دل چرانے اور آنکھیں چرانے پہ کوئی پابندی نہیں تو خیالات اور مصرع چرا نے پہ کیوں قدغن ہو۔دورِ حاضر میں ’’حضور‘‘کی جی حضوری ،واہ اور وااااہ،کیا کہنے اور بار بار کہنے اور کہتے ہی رہنے کے ساتھ پھر سے عطا ہو کی رٹ لگانا

کامیاب شاعر کی دلیل بنتی جا رہی ہے۔یہ سب ’’فعلِ چاپلوس لازم‘‘کی وہ گردان ہے جسے الاپتے رہنا اس بات کی دلیل ہے مستقبل قریب میں آپ شاعر بنا دئے جانے والے ہیں۔اور مشاعرہ و مال کی زینت بننے والے ہیں۔۔۔۔۔۔جی حضوری کی گردان نہ گرداننے والے محض شاعر ہی رہ جاتے ہیں،انہیں مشاعرہ و مال دونوں کم کم ہی ملتے ہیں۔لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ ایسے شعراٗ کرام کا ہونا ہی سب ہوتا ہے،ان کے نہ ہونے سے نہ سخن،نہ سخن گو،نہ سخن گوئی،سب کے سب بے معنی سے ہو تے ہیں ۔
بس شاعر بنئیے نہیں ۔۔۔۔۔ہونے پہ یقین رکھئے

اپنا تبصرہ بھیجیں