کورونا سے لڑنے کیلئے قوت مدافعت کو مضبوط کس طرح بنایا جائے؟پڑھیئے تفصیلی رپورٹ

کورونا کا جن قابو میں نہیں آسکا ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس نے اس سال مسلمانوں کے فریضہ ٔحج پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے اس وائرس کی وجہ سے لوگوں میں زیادہ خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے ۔ جب سے یہ وبا پھیلی ہے لوگ کھانوں کے معاملے میں محتاط نظر آرہے ہیں، کیوں کہ اس بیماری کا مقابلہ مضبوط قوت مدافعت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ وٹامن (حیاتین) کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قوت مدافعت مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ بھرپور نیند لیں،

پرسکون رہیں اور تمام ضروری غذائی اجزا پر مشتمل غذا نوش جان کریں۔وٹامن دو الفاظ ’’ وٹا‘‘ اور ’’ایمین‘‘ کے ملاپ سے بنا ہے۔ وٹا انگریزی کے لفظ vital سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی اہم یا ضروری کے ہیں، جب کہ ایمین (Amine) ایسے کیمیائی مرکبات کو کہتے ہیں، جو زندگی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کیمیائی مرکبات کی ساخت پیچیدہ ہوتی ہے اور یہ قلیل مقدار میں جسم کو درکار ہوتے ہیں، لیکن زندگی کے لیے اتنے اہم اور ضروری ہوتے ہیں کہ ان کی کمی اور عدم موجودگی سے ہماری صحت متاثر ہونے لگتی ہے۔ عام طور پر وٹامن کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک وہ جو چکنائی میں حل پذیر ہوتے ہیں۔ جن میں وٹامن بی اور سی کمپلیکس شامل ہیں ۔وٹامن کی بڑی مقدار نباتاتی اور حیواناتی ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ نباتاتی ذرایع میں ہری پتے والی ترکاریاں، جڑ والی سبزیاں، دالیں، چنے، لوبیا، گریاں اور ثابت اناج شامل ہیں، جب کہ حیواناتی ذرایع میں کلیجی، گردے، گوشت، اور مچھلی کے علاوہ دودھ، انڈے اور ان سے تیار شدہ مصنوعات شامل ہیں۔ ہمارے جسم کو وٹامن کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی بھی وٹامن کی کمی سے بیماریاں لاحق ہو نے لگتی ہیں۔ مثال کے طور پر وٹامن اے کی کمی سے جلد کی بیماریاں کیراٹینائزیشن ، شب کوری اور ذہنی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔اب ان وٹامن کا تذکرہ کرتے ہیں، جو کورونا میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ یعنی جو مختلف وبائی امراض کے خلاف انسانی جسم میں بھرپور قوتِ مدافعت یا محافظ بن کر بچاؤ کر سکتے ہیں۔ وٹامن اے نباتاتی غذاؤں میں زرد نارنجی اور سبز مادے میں بطور کیروٹین پایا جاتا ہے، جو آنتوں

میں جا کر وٹامن اے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کیروٹین کو پرو وٹامن اے بھی کہتے ہیں۔ جسم میں یہ جگر کے اندر ذخیرہ ہوتا ہے اور اس کی زیادتی سے انسان سر درد، متلی، ڈائیریا، ہڈیوں کی تکلیف اور خارش کا شکار ہو سکتا ہے۔یہ وٹامن جہاں جسمانی نشو ونما، بینائی، اور آنکھوں کے لیے نہایت ضروری ہے تو وہاں وبائی امراض کے مقابلے میں قوتِ مدافعت پیدا کر کے محافظ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس وٹامن کے ضمن میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ دودھ کی مصنوعات ، انڈے ، مچھلی، سبز پتے والی سبزیاں ، پیلی اور نارنجی رنگ والی سبزیوں کا استعمال اس کی کمی نہیں ہونے دیتا۔

لہٰذا اس کی کمی کی تشخیص کے نہ ہونے تک وٹامن اے سپلیمنٹ کا استعمال نہ کیا جائے، کیوں کہ اس کی زیادتی جسم میں چربی کا ذخیرہ بڑھاتی ہے۔ وٹامن سی ایک سادہ قسم کا نامیاتی ترشہ ہے، جو تمام وٹامن میں سب سے زیادہ نازک اور حساس ہے اور ہوا لگنے کی صورت میں ضایع ہو جاتا ہے۔ خوراک میں تازہ پھلوں اور سبزیوں میں وسیع پیمانے پر موجود ہوتا ہے، لیکن اس سے حاصل کردہ مقدار کا انحصار اس بات ہر ہوتا ہے کہ انہیں کیسے تیار کیا جائے۔وٹامن سی جہاں زخموں کو مندمل کرنے ، دانت اور ہڈیوں کے بنانے، مسوڑھوں کی بافتوں اور خون کی شریانوں کو مضبوط بناتا ہے،

تو وہاں یہ جسم میں بیماریوں اور جراثیم کے خلاف قوتِ مدافعت بھی پیدا کرتا ہے۔ جس کی بدولت ہم مختلف خطرناک وائرس سے بچ سکتے ہیں۔ وٹامن ڈی کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ سورج کی شعاعیں ہیں، جن کی موجودگی میں یہ انسانی جسم میں از خود پیدا ہو جاتا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں گرمی زوروں پر ہے، تو لہٰذا ہمارے جسم میں اس کی کمی نہیں ہو سکتی۔سورج کی شعاعوں کے علاوہ وٹامن ڈی کلیجی، دودھ، انڈے، مکھن اور بالائی وغیرہ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ ہمارے جسم میں وٹامن کا اہم کردار ہوتا ہے، جو وبائی امراض کے خلاف خودبخود حرکت میں آجاتا ہے، لیکن جن افراد میں کمزور مدافعتی نظام پایا جاتا ہے، ان کو ویکسین یعنی حفاظتی ٹیکے لگوانے پڑتے ہیں تاکہ اسے متحرک کیا جا سکے۔ تاحال کورونا وائرس کی کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی، اس لیے تمام افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی غذاؤں میں ایسے وٹامن شامل کریں، جن سے قوتِ مدافعت میں اضافہ یا محافظ نظام مضبوط ہو۔