اس دنیا میں یکساں کسی کی بھی نہ گزری

مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں ’’1946ء کی ابتداء میں جب میں دارالعلوم سے ملازمت کا تعلق منقطع کر چکا تھا اور اپنے شوق سے بعض درجوں میں کچھ اسباق پڑھا دیا کرتا تھا. معلوم نہیں کیا خیال پیدا ہوا کہ دارالعلوم کی مسجد سے متصل جو چھوٹا سا مکان تعمیر ہوا تھااس میں، میں نے بھائی صاحب سے ضابطہ کی اجازت لے کر رہنا شروع کر دیا اور والدہ صاحبہ اور گھر والوں کو لے آیا. اس وقت معاش کا کوئی ذریعہ نہ تھا، نہ کتابوں کے معاوضہ اور نفع کا سلسلہ. یہ سال اقتصادی طور پر سخت پریشانی کا گزرا. مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ امین آباد کے چوراہے پر نظیر آباد جانے والی

سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر میں نے جیب سے کئی مرتبہ گھڑی نکالی کہ اس کو کسی گھڑی کی دکان پر آدھے پونے دام پر بیچ دوں، اس سے کچھ دن کام چلے لیکن پھر اس خیال سے ہمت نہیں ہوئی کہ دکاندار کہیں چوری کی نہ سمجھے. یہ پورا سال پریشانی میں گزرا اور سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بے برکتی کیوں ہے؟ ایک دن معلوم ہوا کہ بھائی صاحب میرے اس علیحدہ قیام پر بہت مغموم اور متاثر ہیں، ان کو بڑا قلق ہے کہ ان کی زندگی میں، میں نے لکھنؤ میں رہتے ہوئے علیحدہ قیام کاانتظام کیا. میں نے ان سے رو کر معافی مانگی اور جبکہ تقریباً ایک سال گزر رہا تھا، میں پھر اپنے اسی قدیم مکان میں آگیا پھر یاد نہیں کبھی ایسی تنگی اور پریشانی پیش آئی ہو‘‘. درد و الم سے بے نیاز میں محو جمال یار ہوں حضرت مفتی محمد حسن صاحبؒ مشہور دینی مدرسہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی اور حضرت تھانویؒ کے اجل خلفاء میں سے ہیں، ان کی زندگی کا ایک غیر معمولی واقعہ ان کی ٹانگ کے آپریشن سے تعلق رکھتا ہے، کولہا سے ٹانگ کا آپریشن ہوتا ہے.پاکستان کے مایہ ناز سرجن ڈاکٹر امیر الدین جنہیں ایشیا بھر میں معروف سرجن کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا، آپریشن کیلئے تیار کھڑے ہیں. حضرت مفتی صاحب کا قطعی فیصلہ ہے کہ نہ تو انہیں بیہوش کرنا ہے اور نہ کسی صورت مقامی طور پر کسی دوائی کااستعمال کرنا ہے جو اس خاص حصہ کو آپریشن کی تکلیف سے وقتی طور پر بچا سکے.حضرت مفتی صاحب اپنے عقیدت مند ڈاکٹروں سرجن امیرالدین اور کرنل ضیاء اللہ سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں ’’میں کچھ پڑھنا شروع کرتا ہوں جب یہ ورد ختم ہو جائے تو تم اپنا کام (آپریشن) شروع کر دینا‘‘. اس حکم کی تعمیل کی جاتی ہے. آپریشن کے دوران

حضرت مفتی صاحب بقائمی ہوش و حواس انتہائی پرسکون انداز میں لیٹے ہوئے ہیں.سرجن امیرالدین آپریشن میں مصروف ہیں اور کرنل ضیاء اللہ حضرت مفتی صاحب کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں. عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ مفتی صاحب نے آپریشن کے دوران ’’سی‘‘ تک نہیں کی. آپریشن میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا. آپریشن کے وقت ڈاکٹر کا ہاتھ آپؒ کی نبض پر تھا اس کا بیان ہے کہ ’’حیرت ہے کہ آپریشن کے شروع سے اختتام تک نبض کی رفتار میں سرمو فرق نہیں آیا،اس آپریشن کے بعد ایسا تکلیف دہ درد ہوتا ہے کہ اس کی شدت کا پہاڑ جیسے مضبوط دل والا بھی مقابلہ نہیں کر سکتا مگر مفتی صاحب جس بشاشت کے ساتھ آپریشن کے کمرے میں داخل ہوئے تھے، اسی بشاشت کے ساتھ اس طرح واپس ہوئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔