سیاست میں کل کی کوئی گنجائش نہیں

برطانیہ نے 1806ءمیں جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن پر قبضہ کیا تھا۔ اس سے پہلے جنوبی افریقہ پر ہالینڈ کے لوگوں کا قبضہ تھا۔ برطانیہ نے کیپ ٹاؤن پر قبضے کی پہلی ٹرائی 1795ءمیں کی‘ انہیں کامیابی بھی ہوئی ۔۔لیکن انہیں 1802ءمیں یہ قبضہ چھوڑنا پڑ گیا۔ 1806ءمیں برطانیہ نے دوبارہ حملے کا فیصلہ کیا لیکن برطانیہ نے اس بار یہ جنگ صرف فوج تک محدود رکھنے کی بجائے اس میں سیاست بازی کو بھی شامل کرنے کا پلان بنایا۔ برطانیہ کو اب سیاست بازی کیلئے کوئی ایسا گورا سیاستدان چاہئے تھا جو جنوبی افریقہ جائے اور فوج جب کیپ ٹاؤن کو فتح کر لے تو یہ گورا سیاسدان وہاں سیاسی شطرنج بچھا دے۔ بادشاہ سلامت نے مختلف سیاستدانوں کو شارٹ لسٹ کیا‘ ان کی صلاحیتوں کا امتحان لیا اور آخر میں صرف دو امیدوار بچ گئے۔ ایک امیدوار کا نام یارڈ تھا اور دوسرا جان جورس تھا۔ بادشاہ نے آخری انٹرویو

کیلئے دونوں امیدواروں کو دربار میں طلب کرلیا‘ دونوں حاضر ہوگئے‘ بادشاہ نے پہلے یارڈ سے پوچھا ”آپ کب تک افریقہ جا سکتے ہیں“ یارڈ نے جواب دیا ”کل صبح“ بادشاہ اس کے بعد جان جورس کی طرف مڑا اور اس سے بھی پوچھا ”جناب آپ کب تک جا سکتے ہیں“ جان جورس نے سینے پر ہاتھ رکھا‘ نیچے جھکا اور عرض کیا ”جناب ابھی‘ اسی وقت“ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور جان جورس کے انتخاب کااعلان کر دیا۔ اعلان کے بعد یارڈ آگے بڑھا‘ اس نے عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں اگر جان کی امان پاؤں تو میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں آپ نے جان جورس کو مجھ پر فوقیت کیوں دی؟“ بادشاہ مسکرایا اور یارڈ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ”میرے بچے سیاست میں کل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی‘ یہ آج اور ابھی کا کھیل ہے اور جو شخص اس کھیل میں کل کا انتظار کرتا ہے وہ خود بھی مارا جاتا ہے اور اپنے ساتھیوں کو مروا دیتا ہے“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں