کائنات کے سب سے پراسرار راز بلیک ہولز کی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر ، ساڑھے چودہ سو سال قبل اس راز پر سے قرآن نے پردہ کیسے اٹھایا تھا ،لنک میں پڑھیئےمکمل تفصیل

اسلام آباد (احمد ارسلان )ہماری لامحدود کائنات انسان کی سوچ کی ممکنہ حد سے بھی کہیں زیادہ وسیع اور پراسرار ہے۔ اکیسویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود انسان کائنات کے ایک فیصدکا ہزارواں حصہ بھی دریافت نہیں کر پائی ۔ بیشک یہ کائنات رب ذوالجلال بے مثال تخلیق ہے ۔ اللہ پاک کے نظام کائنات میں ہر چیز کو موت ضرور آنی ہے ۔ اس نظام شمسی میں موجود سورج سے بھی کہیں ہزار گنا بڑے ستارے موجود ہیں جو اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعدمرنے کے قریب ہوتے ہیں تو جہاں ان کی جسامت بڑھنے لگتی ہے وہیں ان میں تہہ بہ تہہ مختلف عناصر پیدا ہوتے ہیں مگر جب ان کے مرکز میں لوہا پیدا ہوجائے تب ایک عظیم الشان دھماکہ ہوتا ہے اور یہ ستارے

کائنات میں بکھر جاتے ہیں ۔ اس کے مرکز میں موجود شدید ترین کشش کی وجہ سے ایک کالا بھنور وجود میں آتا ہے جسے ہم بلیک ہول کےنام سے بھی جانتے ہیں ۔ یہ بلیک ہولز بے پناہ کشش رکھتے ہیں جس کی وجہ سے پوری کی پوری کہکشائیں ان کے گرد گھومنے پر مجور ہیں ۔ جس کہکشاں میں ہم رہتے ہیں یعنی ملکی وے اس کے مرکز میں بھی ایک بلیک ہول موجود ہے جس کے گرد ہماری پوری کہکشاں گھوم رہی ہے ، آج سے قبل اس طاقتور ترین بلیک ہول کو دیکھا نہیں جا سکا تھا تاہم گزشتہ روز امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ نے انسانی تاریخ میں پہلی بار بلیک ہول کی تصویر جاری کردی ہے۔ یہ تصویر ناسا کے زیر اہتمام ادارے ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ کی جانب سے جاری کی گئی ہے، یہ بلیک ہول ایم 87 ورگو اے کے نام سے پہچانی جانے والی کہکشاں کے وسط میں واقع ہے۔ ناظرین بلیک ہول ایک ایسے فلکی جسم کا نام ہےجس کی بے پناہ کشش ِ ثقل کے سبب کوئی بھی شے اس میں سے نہیں گزر سکتی ، حتیٰ کہ روشنی بھی نہیں اور روشنی کسی بھی شے کی تصویر کھینچنے کے لیے لازمی عنصر ہے۔ آئن اسٹائن ہمیں بتاچکے ہیں کہ کوئی بھی شے روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کرسکتی اور بلیک ہول کی تصویر لینے کے لیے ضروری ہے کہ روشنی اپنی موجودہ رفتار یعنی 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ سے بھی تیز سفر کرے، جو کہ ممکن نہیں ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ بلیک ہو ل کو دیکھ لیا جائےاور پھر بین الاقوامی سائنسد اں اسے بلیک ہول کی تصویر کیوں قرار دے رہے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ اس تصویر کو غور سے دیکھیں تو یہ تصویر بالکل ایسی ہی ہے جیسا کہ کوئی ڈونٹ، درمیان میں ایک سیاہ دھبا اور اس کے گرد روشنی ۔ سائنس دانوں نے جو تصویر

لی ہے وہ درحقیقت اس کے ارد گرد موجود روشنی کی ہے ، اور اس روشنی کےدرمیان موجود بلیک ہول جو کہ اس کہکشاں میں موجود ہر شے کو نگلنے کے صلاحیت رکھتا ہے ، روشنی کے اس دائرے کے اندر واقع ہے ، یوں سمجھ لیں کہ جہاں پر روشنی کااندرونی ہالہ ختم ہورہا ہے ، وہ سارا علاقہ بلیک ہول ہے۔ اب ذرا یہ بھی جان لیں کہ آخر یہ روشنی ہے کیا۔ بلیک ہول کی شدید کششِ ثقل کے اثرات اس کے ارد گرد ایک مخصوص علاقے تک محدود ہوتے ہیں جسے ایونٹ ہورائزن یا ’واقعاتی افق‘ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کسی بھی بلیک ہول کے گرد یہ واقعاتی افق نہ ہو تو وہ بلیک ہول تنہا پوری کائنات کو ہڑپ کرجائے ۔ واقعاتی افق سے دور جاتے ہوئے، بلیک ہول کی کششِ

ثقل بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے؛ اس لیے کسی بلیک ہول سے دور دراز مقامات پر موجود اجسام پر اس کشش کے اثرات بھی اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ انہیں بہ مشکل ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ فلکیاتی اجسام جو کسی بلیک ہول کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں،جیسے جیسے واقعاتی افق کے قریب پہنچتے ہیں، ان کی رفتار تیز ہوجاتی ہے اور وہ بلیک ہول کے گرد اسپائرل ( لہردار )راستے پر چکر لگاتے ہوئے، واقعاتی افق سے قریب تر ہونے لگتے ہیں۔ ہر چکر میں ان کی رفتار مزید بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ عین واقعاتی افق پر پہنچ جاتے ہیں۔زبردست رفتار کے سبب یہ اجسام انتہائی زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں اور ان سے روشنی یا ریڈی ایشن خارج ہونے لگتی ہے۔ واقعاتی افق جو کہ بلیک ہول کی

سرحد ہے وہاں سے بلیک ہول میں گرتے وقت یہ آخر ی بار انتہائی تیز ترین شعاعیں خارج کرتے ہیں جس سے واقعاتی افق روشن ہوجاتا ہے۔ناظرین اس انتہائی پراسرار راز سے تو انسان آج آگاہ ہو رہا ہے کہ کائنات میں کہیں بلیک ہول جیسی عظیم الشان طاقت موجود ہے تاہم قرآن حکیم نے اس راز سے سینکڑوں سال قبل ہی آگاہ کر دیا تھا ۔ اللہ کریم سورۃ واقعہ میں فرماتے ہیں : (فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ[75]ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسموَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ[76]اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے)اور تاروں کی موت پر ان کی منزل یہی بھنور ہی تو ہیں جہاں وہ آج بھی ابدی نیند سونے ان کالے عظیم الشان ہولز کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں ۔