پاک، بھارت کشیدگی، ایٹمی حملہ ہونے کی صورت میں نقصانات سے بچنے کیلئےکیااحتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، انتہائی اہم معلومات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو ایٹمی قوت بنے لگ بھگ 21 سال ہو چکے ہیں۔ 28 مئی 1998ء کو پاکستان اسلامی دنیاکی باضابطہ پہلی ایٹمی طاقت بنا تھا۔ اس دن پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا میں خوشیاں منائی گئیں۔ ایٹمی قوت بننے کے بعد پاکستان کا نام ،مقام دنیا میں بلند ہوا اوراس کے وقار میں اضافہ ہوا ۔اس وقت سے اب تک ہر سال 28 مئی کا دن یوم تکبیر کے طور پرجوش وخروش سے منایا جاتا ہے۔بلا شبہ ایٹمی ٹیکنالوجی دور حاضر کی اہم ترین ایجاد ہے اس کے جہاں بہت سے فائدے ہیں وہاں اس کے بہت زیادہ نقصانات بھی ہیں۔ضروری ہے کہ اس کے فوائد سے مستفید ہوا جائے اور نقصانات سے بچا جائے۔ اس وقت دنیا میں جتنے ملک بھی ایٹمی صلاحیت سے لیس ہیں ان میں سب امریکہ ،روس ،برطانیہ ،دیگر یورپین ممالک نے ایٹمی ٹیکنا لوجی سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی پیشگی تیاریاں کر رکھی

ہیں کہ اگر دشمن ملک ایٹمی حملہ کردے تو کیا کیاحفاظتی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں اور کسی بڑے نقصان سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو ایٹمی صلاحیت سے تو لیس ہے لیکن اگر خدانخواستہ پاکستان پر ایٹمی حملہ ہو جائے تو ایسی صورت میں اس کے نقصانات سے کیسے بچا جائے اس موضوع پر کوئی نہ تو بات کرتا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے آج تک کوئی بات کی گئی ہے۔اس موضوع پر اگر کوئی قابل قدر کام ہوا ہے تو وہ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود نے کیا ۔ڈاکٹر سلطان بشیر کا شمار پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے اولین معماروں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بعنوان ’’کیمیائی،بیکٹیریائی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تباہی سے بچائو کی حفاظتی تدابیر‘‘ تصنیف کی۔ ڈاکٹر سلطان بشیر نے اس کتاب میں ایٹمی حملہ سے بچائو کے لئے جامع حفاظتی تدابیر جمع کر دی ہیں ۔ڈاکٹر سلطان اپنی شہرہ آفاق کتاب میں لکھتے ہیں کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بموں کا گرایاجانا۔۔۔۔۔پہلا تجربہ تھا یہی وجہ تھی کہ جب جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے توسائنسدان ان بموں سے ہونے والی تباہی کے تجزیاتی مطالعہ میں مصروف ہوگئے۔ا نہوں نے ایک ایک پہلو کو بہت غورسے جانچا اور پرکھا دونوں شہرو ں میں ہونے والی تباہی کا تجزیہ وموازنہ کیا یہاں تک کہ ان دوحملوں میں جو لوگ مارے گئے یا زخمی ہوئے ان کی لاشوں اور زخموں کے تجزیئے بھی کئے گئے ۔چنانچہ سائندان اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر مناسب حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتیں توآدھے سے زیادہ لوگ تباہی سے بچ سکتے تھے۔ حملہ سے پہلے اور حملہ کے بعد کی حفاظتی تدابیر، محفوظ حفاظتی پناہ گاہوں کے ڈیزائن، بلڈنگ کوڈ اور مہلک ایٹمی شعاعوں سے محفوظ رہنے کے طریقوں پر سائنسدانوں نے کا م کئے۔ امریکہ اور برطانیہ وغیرہ میں ایٹمی حملوں سے بچاؤ کے

لئے اقدات کئے گئے۔جس کے تحت لوگوں کو ایٹمی حملوں کی نوعیت سے آگاہ رکھا جاتا ہے اور حفاظتی ٹریننگ دی جاتی ہے۔احتیاطی تدابیر اور کتابچے تقسیم کئے جاتے ہیں۔اسکولوں اور کالجوں میں ایٹمی حملوں سے بچاؤ کے لئے سول ڈیفنس کی تعلیم دی جاتی ہے۔بڑے بڑے شہروں کے اندر زیرزمین خصوصی حفاظتی پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں۔اسپتالوں میں ایٹمی جنگ کے دوران زخمی ہونے والوں کے علاج کے لئے ڈاکٹروں اور نرسز کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔افواج اور عام لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے اور ویکسینشن فراہم کی جاتی ہے ایٹمی حملہ کے متعلق اطلاعی وارننگ سگنل کا ہمہ وقت انتظام کیا گیا ہے ۔ایٹمی حملہ کے بعد دوسرا شدید ترین خطرہ جو انسانوں لاحق ہوتا ہے وہ تابکاری کا ہے۔جب ایٹمی دھماکہ ہوتا ہے تو اس میں جو گردو غبار شامل ہو وہ شدید طور پر تابکار ہوجاتا ہے۔یہ تابکار گردو

غبارپھیپڑوں میں پہنچ جائے تو انسان کے اعضاء ٹوٹ پھوٹ جاتے ،مہلک بیماریوں کا شکار ہوجاتے اور اس مہلک بیماری کے اثرات نسل در نسل چلتے ہیں۔لہذا تابکاری سے بچنا ازحد ضرور ی ہے اس کے لئے تابکاری اثرات معلوم کرنے والے آلہ گیگر میولر کاؤنٹرکی فراہمی اور تربیت ضروری قرار دی گئی ہے ۔اسی طرح اسپتالوں میں آگ اور تابکاری سے جھلسنے والوں کے لئے علاج، خوراک اور پانی کے ذخیروں کو تابکاری سے محفوظ رکھنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔گھروں اور دفاتر میں حفاظتی پناہ گاہیں بنائی جاتی ہیں۔ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ہونے والے حملہ میں یہ بات دیکھنے میں آئی تھی کہ جو عمارتیں اینٹوں یا بلاک سے بنائی گئیں وہ دھماکوں کے مرکز سے دور دراز ہونے کے باوجود ہوا کے معمولی جھٹکے بھی برداشت نہ کرسکیں اور گر گئی تھیں جبکہ کنکریٹ سے بنی بعض عمارات ایسی بھی تھیں کہ جو

دھماکوں کے مرکز کے قریب ہونے کے باوجود سلامت رہی تھیں۔اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے بلڈنگیں تعمیر کی جاتی ہیں۔ہیرو شیما اور ناگاساکی میں مرنے والوں میں 30 فیصد لوگ ایٹمی آگ سے جھلس کر مرے تھے۔ایٹمی آگ کی شعاع کا دورانیہ اگر چہ صرف ایک سیکنڈ سے بھی کم تھا لیکن اس کا درجہ حرارت لاکھوں سینٹی گریڈ تھا۔تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا کہ دھماکہ کے مرکز سے دو کلومیٹر تک دور جو لوگ پتلے اورتنگ لباس پہنے ہوئے تھے ان کی جلد کے جلنے کے واقعات زیادہ سخت قسم کے تھے جبکہ سیاہ رنگ کے لباس پہنے لوگ دھماکہ کے مرکز سے پانچ کلومیٹر دور ہونے کے باوجود بھی بری طرح جھلس گئے اور جل گئے تھے۔سائنسدانوں نے ہیرو شیما اور ناگاساکی میں ہونے والے جانی نقصان پر جو تحقیقات کیں ان سے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی ہوا کہ جو لوگ سفید اورکھلے لباس میں ملبوس

تھے یا سفید ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے ان کے جسم اور سر کو کم نقصان پہنچا۔سفید اور کالی دھاری دار شرٹس پہنے جو لوگ ایٹمی حملے کا شکار ہوئے جب ان کے جلے ہوئے جسموں پر تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ جسم کا وہ حصہ جہاں شرٹ سفید تھی جلنے سے محفوظ رہا لیکن وہ حصہ جہاں شرٹ کا رنگ سفید کی بجائے سیاہ تھا۔بری طرح جھلس گیا۔اس تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایٹمی جنگ کے موقع پر سفید اور کھلالباس پہننا اہم ترین حفاظتی تدابیر میں شامل ہے ۔ گویا سفید لباس ایٹمی اسلحہ کی تباہ کاریوں سے بچنے کا سب سے آسان اور سادہ حل ہے۔ اس لئے کہ رسول ﷺ کا بھی پسندیدہ لباس سفید ہی تھا ۔یہاں تک کہ جبرئیل علیہ السلام جب انسانی شکل میں رسول ﷺ سے ملنے کے لئے آئے تو وہ بھی سفید لباس میں ملبوس تھے۔سائنسدانوں نے آج سفید لباس کی حکمت،اہمیت اور فضلیت دریافت کی جبکہ آقائے کائنات، تاجدا رنبوت ،ختم الرسل صل اللہ علیہ وسلم نے 1450سال پہلے اپنے عمل سے سفید لباس کی اہمیت اور فضلیت بیان فرمادی تھی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو اکہ کامیابی و کامرانی کے حصول اور تباہی وبربادی سے بچنے کا دائمی راستہ اسوہ حسنہ میں ہے۔لہٰذا ہمارے حکمرانوں کو چاہئیے کہ اوروں سے توقعات وابستہ کرنے کی بجائے اپنی جبین نیاز اللہ کے در پر جھکائیں۔