سزائے موت کے مجرموں کو علی الصبح ہی سزائے موت کیوں دی جاتی ہے، وہ وجوہات جن سے آپ ناواقف ہونگے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)صبح سویرے پھانسی دینے کی 4اہم ترین وجوہات میں سزا کے بعد ہونے والے منفی اثر کو روکنا،مجرم کو ذہنی اذیت سے بچانا ہے۔علی الصبح پھانسی اس وجہ سے بھی دی جاتی ہے تاکہ جیل کی دیگر سرگرمیوں کو تعطل سے بچایا جاسکے۔تفصیلات کے مطابق جب سے انسانی تاریخ موجود ہے تب سے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو موت کی سزا دئیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ابتدائی ایام سے لے کر اب تک سنگین ترین جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔موت کی سزا دینے کے لیے مختلف ممالک میں مختلف طریقہ ہائے کار رائج ہیں۔کہیں پھانسی دی جاتی ہے تو کہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے۔کہیں سر قلم کر کے

مجرم کو اس کے کئیے کی سزا دی جاتی ہے تو کہیں زہر کا انجکشن اس کے جرم کا انجام بنتا ہے۔بجلی کی کرسی پر بیٹھا کر موت کی آغوش میں پہنچانے کا طریقہ بھی چند ممالک میں رائج ہے۔تاہم پھانسی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ ہے۔اس سلسلے میں پھانسی دینے کا ایک مکمل طریقہ موجود ہے۔پھانسی دینے کے لیے صبح کے وقت کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔اس کی 4 وجوہات ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ جس دن پھانسی دینی ہوتی ہے اس دن یہ کام جیل حکام کے لیے سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے یوں صبح سویرے اس کام کو نمٹا دیا جاتا ہے تاکہ جیل کی باقی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ پھانسی کی خبر کے منفی اثرات کو روکا جاسکے۔تیسری وجہ یہ ہے کہ صبح کے وقت انسانی اعضاء تروتازہ ہوتے ہیں اور پھانسی کے نتیجے میں جلد موت ہوجاتی ہے اور اذیت زیادہ نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ ایک اخلاقی پہلو یہ بھی ہے کہ مجرم سارادن پھانسی کے انتظار میں نہ بیٹھا رہے اور اس پر منفی اثر نہ ہو اس لئیے صبح کے وقت کا انتخاب کیا جاتاہے۔پھانسی کے وقت سے چند گھنٹے قبل اٹھا کر غسل کروایا جاتا ہے جس کے بعد وہ چاہے تو عبادت کرسکتا ہے۔ پھر اسے پھانسی گھاٹ پر لے جایا جاتاہے اور پھانسی دے دی جاتی ہے۔ اس وقت پھانسی گھاٹ پر ایک ڈاکٹر، جیل حکام اور مجسٹریٹ موجود ہوتے ہیں۔ مقدمے کا مدعی اگر چاہے تو مجرم کی پھانسی کا عمل اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔