نیمل اور حمزہ کی شادی کے 4دن بعد ہی حمزہ علی عباسی کی مبینہ بیوی سامنے آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی 25 اگست کو رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ جس کے بعد 26 اگست کو تقریبِ ولیمہ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر کی معروف شخصیات نے شرکت کی۔ حمزہ علی عباسی کی نیمل خاور کے ساتھ شادی کو ابھی چار روز ہی گزرے تھے کہ حمزہ علی عباسی کی مبینہ طور پر پہلی اہلیہ میدان میں آ گئیں ۔مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انیلا نامی ایک خاتون نے حمزہ علی عباسی کی پہلی بیوی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اپنے ٹویٹر پیغام میں حمزہ علی عباسی کی پہلی بیوی ہونے کی دعویدار خاتون نے ان کی اہلیہ نیمل خاور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نیمل تم نے اور ہانیہ نے

بہت اچھا کھیل کھیلا اور حمزہ کو مجھ سے دور کر دیا، اسے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جب تک حمزہ زندہ ہے میں ہی اُس کی پہلی بیوی اور اُس کی محبت رہوں گی۔تم ہمارے راستے میں آئی اور میرے خلاف اُس کا برین واش کیا۔ اور اب تم اُس سے شادی کرنے جا رہی ہو۔نیمل یہ مت سوچنا کہ میں ڈر جاؤں گی اور اسلام آباد چھوڑ دوں گی۔ اگر مجھے کچھ بھی ہوا تو اُس کی ذمہ دار تم خود ہو گی ، حمزہ کو مجھے گھر لانا پڑے گا۔ اور مجھے گھر نہ لانے کے لیے میں اُس کا کسی قسم کا بہانہ قبول نہیں کروں گی۔خاتون نے کہا کہ میں حمزہ علی عباسی کا پہلا پیار تھی اور اُس گھر میں رہنے کا حق صرف مجھے ہے جسے تم نے مجھ سے اور میرے شوہر سے چھین لیا ہے۔ قانون کے مطابق کوئی بھی مرد دوسری شادی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے۔ حمزہ نے میرے حقوق پورے نہیں کیے لہٰذا اُسے تمہیں اپنے ساتھ رکھنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔یہ تمام ٹویٹس 25 اگست کے ہیں جو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ خاتون نے فیس بُک پیج پر یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ حمزہ علی عباسی کا اصل نام جہانزیب خان ہے جو مجھ سے نکاح کے بعد غائب ہو گیا اور میں 1999ء سے اس کی تلاش میں ہوں۔ آج صبح ایک ٹویٹر پیغام میں خاتون نے بتایا کہ میری منگنی بچپن سے میرے کزن کے ساتھ ہو چکی تھی جسے ڈاکٹر سید جنید اصغر نے ہراساں کیا تھا اور میری فیملی نے ہی اُن کے خلاف شکایت کی تھی۔ڈاکٹر جنید نے مجھے شادی کی پیشکش کی تھی اور اُن کے خاندان کو بھی اس بات کا علم تھا۔لیکن میں پولیس کی مداخلت کی وجہ سے اُس سے شادی نہیں کر سکی، مجھے کراچی چھوڑ کر اسلام آباد آنا پڑا تھا جہاں میں نے حمزہ علی عباسی نامی ایک پنجابی لڑکے سے شادی کی۔ خاتون نے کہا کہ حمزہ علی عباسی نے نیمل سے صرف اس لیے شادی کی کیونکہ وہ میری حفاظت کرنے میں ناکام ہو گیا تھا۔