رن مرید ۔۔۔ تحریر:مراد علی شاہد

رن مرید،زن مرید،جورو کا تابع یا جورو کا غلام جسے پنجابی میں ’’تھلے‘‘لگا بھی کہا جاتا ہے ،ایک ایسا عنوان ہے جسے مردکے چہرے سے ہی پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ مرد اپنی یا کسی اور کی جورو کا غلام ہے،دنیامیں زیادہ تر لوگ رن مرید ہی ہیں بس کوئی مان لیتا ہے تو کسی کی رن اسے تھلے لگانے میںکامیاب ہو جاتی ہے گویا کان دائیں ہاتھ سے پکڑو یا بائیں سے بات ایک ہی ہے،تو عافیت اسی میںہے کہ اس فعل کا برملا کا اظہار کر دیا جائے۔جیسے کہ ایک روائت ہے کہ ایک گائوں سے تین لوگ گزرتے ہوئے مشکوک پائے گئے تو گائوں والوں نے انہیں پکڑ کر نمبردار کے سامنے پیش کر دیا ،پہلے شخص سے پوچھا کہ تم کہاں اور کس سے ملنے جا رہے تھے اس نے ڈرتے ہوئے کہا کہ

میں فلاں پیر کا مرید ہوںان کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں،نمبردار کو غصہ آیا اور کہا کہ اسے الٹا لٹا کر جوتو ں سے خاطر تواضع کی جائے،یہی حال دوسرے آدمی کا بھی کیا گیا،جب یہ سارا ماجرا تیسرے بندے نے دیکھا جو قدرے چالاک تھا وہ چالاکی دکھاتے ہوئے کہنے لگا کہ سر میں کسی پیر کا مرید نہیں ہوں میں تو بس ’’رن مرید‘‘ ہوںاب آپ کی مرضی جو چاہیں سزا تجویز کر دیجئے،نمبردار نے یونہی یہ بات سنی اپنوں بیٹوں کو بآواز بلند پکارنے لگا کہ بچوں جلدی آئو تمہارا ’’پیر بھائی‘‘آیا ہوںاور اس کی کھانے پینے سے خوب خاطر تواضع کرو اور دیکھو مجھے کوئی شکائت نہیں آنی چاہئے۔اتفاق رائے سے دنیا نے اب اس بات پہ مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ اقسام خاوند میں سب سے اعلیٰ پائے کا خاوند رن مرید ہی ہوتا ہے۔رن مرید ایسا خاوند ہوتا ہے جو بیوی کے کہنے پر تو کہیں بھی بیٹھ جاتا ہے اور اگر سسرال سے کوئی کہہ دے تو مزید بیٹھ جاتا ہے۔قبول ثلاثہ کے بعد ساری زندگی جی حضوری مٰن ہی گزار دیتا ہے اس پہ شرمندہ نہیں ہوتا کہتا ہے بیوی کی جی حضوری نہیں کرتا بس ویسے ہی وہ مجھے بولنے نہیں دیتی۔رن مرید چپ رہنے پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ مزید چپ میں ہی عافیت خیال کرتا ہے،دوستوں میںسے ایک بار کسی نے اسکی غیرت جگانے کے لئے فقرہ چست کردیا کہ یار تمہاری کیا زندگی ہے تمھاری تو بیوی تمہیں گھاس بھی نہیں ڈالتی،کمال دلیری سے بولا’’شیر گھاس نہیں کھاتا اور گوشت وہ مجھے کھانے نہیں دیتی‘‘کہتا ہے کامیاب ازدواجی زندگی کے دو ہی فلسفے ہیںکہ بیوی کے سامنے کبھی نہ بولو اور دوسرا ہمیشہ بیوی کی ہی سنو۔رن مرید بیوی کے سامنے کبھی کوئی سوال نہیں اٹھاتا بس دست سوال دراز ہی ہوتا ہے۔رن مرید ہمیشہ اپنے خاندان والوں سے بیوی کی زبان میں بات کرتا ہے اور بیوی کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتی کیونکہ بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بات بیان کرنے کے لئے خاوند کے منہ میں زبان دے رکھی ہے اور یہ بات وہاپنی سہیلیوں

میںبرملاکہتی ہے کہ میں نے اپنی ساس اور سسر سے بات کرنے کے لئے ایک عدد خاوند ’’رکھا ‘‘ہوا ہے۔خاوند کا بھی کہنا ہے کہ مجھے اللہ کے بعد میری بیوی نے رکھا ہوا ہے۔ہمارے کامیاب رن مرید دوست ندیم نیڈی کا فلسفہ زندگی یہ ہے کہ ازدواجیزندگی کو پرسکون بنانے کا آسانسخہ ہی یہی ہے کہ اپنی بیوی کو کبھی کام نہ کرنے دو۔میرا اپنا بھی یہی خیال ہے کہ بیوی کی کیاجراٗت کہ خاوند پہ رعب جما سکے جب اسے نہانے کے لئے گرم پانی اوردھلائی کے لئے ہر دم تیار خاوند دستیاب ہو۔میرے ہم عصر ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ دنیا میں 90 فیصد مردرن مرید ہیں جبکہ بقیہ دس فیصد جھوٹ بولتے ہیں۔جو نہیںمانتے ان کا کہنا ہے کہ ہم بیوی کی نہیں سنتے وہ ہمیں زبردستی سناتی ہے اور

جب وہ سناتی ہے تو پھر پورا محلہ کانوں میں انگلیاں دبا لیتا ہے۔روائت ہے کہ کسی سلطنت میں رن مریدی کی وبا پھوٹ پڑی جسے دیکھو بیوی کا چمچہ بنا بیٹھا ہے،بادشاہ نے وزیرِخاص کو طلب کر کے پوچھا کہ وزیر با تدبیر یہ کیا ماجرا ہے اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو زن مریدی کہ یہ وبا ایک دن قصرشاہی کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔وزیر خاص نے عرض کای بادشاہ سلامت اب ایسی بھی کوئی قیامت نہیں آنے والی کوئی نہ کوئی ضرور مرد کا بچہ ہوگا جو اپنی بیوی سے نہیں ڈرتا ہوگا،اس مردکے بچے کی تلاش کے لئے بادشاہ نے دیوانِ عاممیں عوام کو مجتمع کیا اور پوچھا کہ جو بھی رن مرید ہیںاپنا دایاں ہاتھ اوپر کریں،خلقت تمامنے اپنا دایاں ہاتھ سر سے اوپر کردیا ماسوا ایک مرد

مجاہد نے۔وزیر باتدبیر نے بادشاہ کی طرف ایک فاتحانہ نظر دوڑائی اور کہا کہ دیکھا بادشاہ سلامت میں نا کہتا تھا کہ ضرور کوئی نا کوئی مرد کا بچہ ہوگا جو اپنی بیوی سے نہیں ڈرتاہوگا۔بادشاہ نے جب اس سے پوچھا کہ اے مرد حر بتائو کیا تم اپنی بیوی سے نہیں ڈرتے جو تم ہاتھ بلند نہیں کیا تو مرد کے بچے نے نہائت ہی معصومانہانداز میں سہمی آواز میں اتنا ہی کہا کہ ’’بادشاہ سلامت میں اپنی بیوی سے پوچھ کر بتائوں گا کہ ہاتھ کھڑا کروں یا نہ کروں‘‘رن مرید ہونے کے لئے آدمی کا شادی شدہ ہونا ضروری ہے یعنی اس کے پاس مریدی کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے ایک عدد بیوی کا ہونا ضروری ہے اور عورت بھی اسی لئے شادی کرتی ہے کہ ایک عدد خاوند کو اپنی مریدی میں پال سکے۔اکثر رنمرید بڑی عمر کے پڑھے لکھے مرد ہی ہوتے ہیں جو اکثر و بیشترانڈر سٹینڈنگ کرتے کرتے بیوی کے انڈر ہی آجاتے ہیں۔ان پڑھ اور کم پڑھا لکھا طبقہ یہ سوچ کر بیوی سے انڈر سٹینڈنگ نہیں کرتے کہ پیدا تو بچے ہی کرنے ہیں تو پھر انڈرسٹینڈنگ چہ معنی۔