20 کھوٹے سکے ۔۔۔ مراد علی شاہد

دورانِ طالب علمی پنجابی شعرا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے کہیں پڑھا تھا جو اب تک ذہن کے پردہ پہ کہیں محفوظ ہے کہ’’ گنڈھیاں وچ گنڈھیلاں تے کنکاں وچ پگھاٹھ‘‘ یعنی پیاز اور گندم میں بالکل انہیں کی فصل کی طرح کچھ دیگر جڑی بوٹیاں بھی ہوتی ہیں جو دکھنے میں گندم اور پیاز ہی لگتی ہیں تاہم وہ نہ تو پیاز ہوتا ہے اور نہ ہی گندم ،ظاہری شکل و صورت میں پیاز و گندم مگر ذائقہ بہت مختلف۔گویا آپ کہ سکتے

ہیں کہ شراب کی بوتل پر شہد کا لیبل۔اس مثال سے مراد یقینا آج کا سب سے اہم ایشو ہے کہ عمران خان نے اپنی پارٹی کے بیس افراد کو شو کاز نوٹس جاری کر کے انہیں پارٹی سے دیس نکالا دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔یہ بیان دیکھتے ہی مجھے بابائے قوم قائد اعظم کے ساتھ منسوب قول یاد آ گیا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ’’ مجھے معلوم ہے کہ میر ی پارٹی میں چند کھوٹے سکے بھی ہیں‘‘ بعد ازاں ان میں سے ایک دو سے جناح صاحب نے استعفی بھی طلب کر لیا تھا اور انہیں پارٹی سے نکال باہر بھی کیا تھا۔ایسے ہی سابق وزیرِ اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو بھی اکثر اپنے جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ مجھے معلوم ہے میری پارٹی میں چند گندے انڈے بھی ہیں جنہیں وقت آنے پر میں اپنے پائوں کی ٹھوکر سے نکال باہر کرونگا۔عمران خان نے اس کام کی بیل کو منڈھے چڑھاتے ہوئے اس کرپشن کی بیل کو ہی جڑ سے اکھاڑ نکالا۔عمران نے بیس ایم پی اے کو پائوں کی ٹھوکر اور قلم کی طاقت سے نکال باہر کیا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے چند کروڑ کے عوض اپنا ووٹ نہیں بلکہ اپنے ضمیر کی سودے بازی کی۔یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو دورانِ الیکشن واویلا مچا رہے ہوتے ہیں کہ ووٹ آپ کے ضمیر کی آواز ہے اپنے ووٹ کو بیچنا اپنے ضمیر کو بیچنے کے مترادف ہے۔تو پھر کیا ہوا کہ دوسروں کو نصیحتیں کرنے والے خود میاں فضیحت بن کر اپنے ہی ووٹ اور ضمیر کا سودا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔یعنی دنیا میں ہر شخص اپنا ایمان بیچنے کو تیار بیٹھا ہے۔گویا امیر کی جورو سب کی

باجی اور غریب کی بہو سب کی بھابھی۔غریب بک جائے تو ضمیر فروش اور امیر بکے تو مصلحت اور جمہوریت کی بقا۔ارے کعبہ کس منہ سے جائو گے شرم تم کو مگر نہیں آتی،جیسے ملکی حالات آجکل چل رہے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ سیاسی لوگ کچھ سلجھنے والے ہیں۔موجودہ سیاسی منظر میں اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو عمران نے جو کہا جو کر دکھایا۔اس لحاظ سے وہ یقینا داد و تحسین کے مستحق ہیں کہ اس نے سینٹ الیکشن کے دوران قوم سے ایک وعدہ کیا تھا

کہ مجھے پتہ چلا کہ میری پارٹی کے چند لوگوں نے پیسوں کے عوض ووٹ کی حرمت کو پامال کیا ہے تاہم میں پوری تحقیق کرونگا اگر یہ بات ثابت ہوئی تو ان کے لئے میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔عمران خان کا ایسے بے ضمیر افراد کے خلاف فیصلہ یقینا قابلِ ستائش اور اس کی سیاسی فہمی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس نے ایک کڑے وقت میں یہ زہریلی گولی کھائی جب کہ الیکشن کا جن سر پر سوار ہونے کو ہے۔اور ایسی صورت حال میں پارٹی کو ان افراد کی ضرورت بھی ہوتی ہے

جو اپنے علاقہ میں اپنا اتنا سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہوں کہ ان کی سیٹ ہر حال میں پکی ہوتی ہے خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں ہوں۔مگر نتائج کی پرواہ کئے بغیر عمران خان کا یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ ٹیم خود بخود اچھا کھیل پیش کرتی ہے جب اس ٹیم کا کپتان ڈاھڈا ہو۔کیونکہ ٹیم کو لڑانا اور بر وقت فیصلہ لینا اچھے کپتان کی خوبی ہوتی ہے۔بزدل انسان نہ اچھا کھلاڑی بن سکتا ہے اور نہ ہی اچھا کپتان۔ناقدین و حاسدین اگر اس پر بھی بے جا شور و غوغا کرتے ہیں تو پھر خدا پناہ۔تاہم عمران خان کو اب اس بات کا علم ہو گیا ہے کہ اگر آپ سیاسی طاقت ثابت کرنا چاہتے ہو تو اس بات پر عمل کر لیں’’گربہ کشتن روزِ اول‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں