7 سٹار باغی ۔۔۔مراد علی شاہد

گزشتہ روز پاکستان کے سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ’’ستر سال سے زائد جاری پالیسیوں کے خلاف بغاوت کرتا ہوں‘‘بہت عرصہ قبل واصف علی واصف نے کہا تھا کہ بغاوت اگر کامیاب ہو جائے تو انقلاب اور انقلاب اگر ناکام ہو جائے تو بغاوت کہلاتی ہے۔اول الذکر راہنمائی کرنے والا ہیرو جبکہ موخرالذکر میں راہنما باغی کہلاتا ہے۔ہیرو کو انقلابی، اپنا عظیم راہنماخیال کرنا شروع کر دیتے ہیں اور

ان کی ہر بات پہ کان دھرتے ہیں۔اور اس کی کہی ہوئی ہر بات کو قولِ مقدس کی طرح جانتے ہوئے اس پہ عمل پیرائی اپنے اوپر فرض خیال کرتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف باغیوں کا راہنما ان کی نظر میں انقلابیوں کا عظیم لیڈر ہوتا ہے۔گویا آپ یوں کہ سکتے ہیں کہ دونوں کا زاویہ فکر اور اندازِ سوچ معکوس خیال کئے جا سکتے ہیں،مگر کمال حیرت میاں صاحب کے اس بیان سے کہ انہوں نے علمِ بغا وت کس حکومت اور کن پالیسیوں کے خلاف بلند کیا،وہ حکومت جس کے مزے ’’خاندانِ شریفا ں‘‘عرصہ پنتیس سال سے لوٹ رہا ہے یا ان پالیسیوں کے خلاف جن کے روحِ رواںان کی اپنی ذات یا خاندان رہا ہے۔دورِ حاضر کو ہی لے لیجئے کہ وفاق اور صوبہ پنجاب و بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ بر سر اقتدار ہے۔وزیرِ اعظم سے وزیرِ اعلی ان کی پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں تو پھر ایسے حالات میں ان کا یہ بیان کس کے خلاف خیال کیا جائے حکومت یا ان دو شخصیات کے جو وفاق اور صوبوں میں زمام حکومت سنبھالے ہوئے ہیں۔میرے خیال میں میاں صاحب نے محض باغی اور بغاوت کے الفاظ کتابوں میں پڑھے یا ٹی وی سکرین پر دیکھے ہونگے،انقلاب،بغاوت یا باغی ہونے سے ان کا دور و نزدیک کہیں واسطہ نہیں ۔ہاں مشرف دورِ حکومت میں جب انقلاب کا سہرا اپنے سر سجانا تھا تو موصوف ایک معاہدہ کے تحت سعودی عرب تشریف لے گئے،جبکہ دنیا کے بڑے بڑے باغی یا انقلابی ڈاکٹر چہ گو ویرا نے باوجودیکہ تما م سہولیات ایک مقصد کے حصول کے لئے جنگلوں کی

خاک چھانتے اپنی زندگی گزار دی۔اور اسی جنگل میں ہی اس نے مرنے کو ترجیح دی مگر حاکمِ وقت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔انقلاب چائنہ میں جب مائو نے لانگ مارچ شروع کیا کامیابی کے لئے اسے عرصہ لگا۔نوے ہزار لوگوں میں سے صرف تیس ہزار لوگ منزل تک پہنچے باقی سب راستہ میں ہی کسی وبائی مرض کا شکار ہو گئے یا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اور یہ سب مائو کے حوصلہ،ہمت ،عزم پیہم اورمسلسل جدوجہد سے ممکن ہوا کہ جس نے پوری لانگ مارچ

میں ایک بستر اور ایک عدد یونیفارم استعمال کیا۔اور کہا کرتا تھا کہ میرے انقلابیوں کا ایک بسرت اور سوٹ میں گزارہ نہیں مگر میں گزارہ کر سکتا ہوں۔اور اب ذرا ہمارے 7 سٹار باغی کو دیکھ لیجئے جن کا خیال ہے کہ ہزاروں ایکٹر پر پھیلے جاتی امرا کے محل میں بیٹھ کر،وزیر اعظم نہ ہوتے ہوئے بھی مکمل سرکاری پروٹوکول،سرکاری مشینری اور دولت کے بے دریغ استعمال سے ملک میں انقلاب برپا ہو جائے گا یا خود ساختہ،معا ہداتی ملک بدری سے باغی بن کر سٹالن گراڈ،لینن،چہ اور

مائو بن جائیں گے تو یہ ان کی محض خام خیالی ہے اور کچھ نہیں۔ایسی پر تعیش زندگی اور باغی بننے اور کہلانے کے خواب سے میاں صاحب بائیس کروڑ عوام کو تو بے وقوف بنا سکتے ہیںتاریخ کے اوراق کو نہیں۔تاریخ کے اوراق میں انہیں وہ سیون سٹار باغی لکھا جائے گا جس نے افلاس زدہ کندھوں پر اپنی آسودگی اور عیاشی کے پائوں رکھ کر اپنی ذات اور حکمرانی کے حصول کے لئے اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اعلانِ بغاوت کیا تھا۔ہم نیچ لوٹ مار میں ہیں کب لگے ہوئے۔اس دوڑمیں ہیں اشرف و انسب لگے ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں