بریکنگ نیوز۔۔۔اڑا دے سب کے فیوز ۔۔۔ مراد علی شاہد

جب سے پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی بھر مار ہوئی ہے’’سب سے پہلے ‘‘کے چکر میں ایسی چیز کو بھی بریکنگ نیوز بنا کر چلا دیتے ہیں جو خبر نہیں محض اطلاع ہوتی ہے۔ہر چینلز کے نمائندگان یوں بڑھ چڑھ کر رپورٹنگ کر رہے ہوتے ہیں جیسے’’دائی ‘‘ کے تنور پہ بلا کے رش میں اچانک سے ایک بچہ سر نکال کر کہہ دے ماسی ’’میریاں روٹیاں پہلاں لا دے‘‘یعنی تیریاں لگے نہ لگے مینوں دو لادے‘‘ایسے ہی

بریکنگ نیوز میں بھی جب آپ ٹی وی آن کرتے ہیں اچھے بھلے کوئی معلوماتی پروگرام بڑے انہماک سے ملاحظہ فرما رہے ہوتے ہیں کہ اچانک سے ایک نیوز کاسٹر جیسے آپ کے سر پہ بم پھوڑ دے، کہ اب سنئیے بریکنگ نیوز،خبر سننے لائق ہو نا ہو نیوزکاسٹر دیکھنے لائق ضرور ہوتی ہے۔گویا عام نیوز کو بھی بریک کر کے بڑے بڑوں کے فیوز اڑا دئیے جاتے ہیں۔ایسے میں داد دینا پڑے گی ’’شریف‘‘ اور ’’با حیا‘‘ ٹی وی یعنی ’’پی ٹی وی‘‘ کو جس نے کیسے بھی ملکی حالات میں ’’عشرت و شائشتہ‘‘ کا دوپٹہ سر سے سرکنے نہیں دیا۔ویسے جب تک سرکاری ٹی وی اکلوتا رہا ہر خبر ایسے بریک لگا لگا کے پڑھی جاتی رہی کہ کہیں کسی ’’سیاسی سپیڈ بریکر ‘‘سے نیوز کاسٹر کے سر سے دوپٹہ ہی نہ اتر جائے کہ بعد ازاں نیوز کاسٹر کو عوام کے سامنے اپنی صفائیاں دینا پڑ جائے۔تاہم جب سے پرائیویٹ چینلز برائی کی طرح پورے ملک میں پھیلے ہیں’’سب سے پہلے‘‘ کے چکر میں،ابلی سبزیوں کو بھی یوں مرچ مصالحہ لگا کر بریکنگ نیوز بنا بنا کر پیش کرتے ہیں کہ بھنے ہوئے تیتر و بٹیر کا مزہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔اگر آپ نہیں جانتے کہ بریکنگ نیوز کسے کہتے ہیں تو آپ کی معلومات کے لئے اس کی مصدقہ تعریف یوں بیان کی جاتی ہے کہ ایسی خبر جس میں کوئی خبر ہو نہ ہو اسے مرچ مصالحہ لگا کر ،لوگوں کے فیوز اڑا کر بریکیں لگا کر ہر ’’بریک ‘‘کے بعد جسے پیش کیا جائے اسے بریکنگ نیوز کہا جاتا ہے۔الیکٹرانک میڈیا میں بریکنگ نیوز نے آجکل تقریبا

’’انڈسٹری‘‘ کا درجہ اختیار کر لیا ہوا ہے۔جس کے بعد یہ بات روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے کو ملتی ہے کہ اتنی ملک میں پراڈکٹ نہیں ہوتی جتنی کہ بریکنگ نیوز ۔صبح سویرے نہار منہ بیوی کی جلی کٹی کے بعدجس سے آپ کا واسطہ سب سے پہلے پڑتا ہے وہ ہوتی ہے بریکنگ نیوز۔حد یہ ہے کہ آجکل ہر چینل پر بہت سی بریکنگ نیوز میں کہیں کہیں کبھی کبھار کوئی خبر بھی دیکھنے اور سننے کو مل جاتی ہے۔اور اگر درمیان میں کوئی ٹائم بچ جائے تو تفریحی پروگرام کو بھی چلا دیا جاتا

ہے تاکہ لوگ بریکنگ نیوز اور نیوز کاسٹر کے تجسس میں بندھے رہیں۔اتنا سسپنس تو Alferd Hitchcock کی موویز میں نہیں ہوتا جتنا کہ پاکستان میں بریکنگ نیوز میں ہوتا ہے۔اب تو بریکنگ نیوز کی اس قدر عادت ہو گئی ہے کہ لوگ علی الصبح ناشتہ میں تاخیر پر بیوی کی اور دفتر سے لیٹ ہونے پر باس کی جھڑکیا ںسننا گوارا کر لیتے ہیں مگر مجال ہے جو صبح صبح کی بریکنگ نیوز سے کوئی حصہ مس کر جائیں۔صبح سویرے کی بریکنگ نیوز سے تو لوگ کان اور آنکھ نہیں ہٹاتے

،کان اس لئے کہ کوئی خبر نہ رہ جائے اور آنکھ اس لئے کہ۔۔۔۔۔اب ایسا بھی نہ کریں آپ سب بھی تو رابعہ انعم کے لئے دیکھتے ہیں وجہیہ ثانی کو کون پوچھتا ہے۔بریکنگ نیوز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ چیونٹی کو بھی ہاتھی بنا کر ایسے سسپنس سے پیش کرتے ہیں کہ ناظرین سچ میں چیونٹی کی لمبی سونڈھ اور چپٹے پائوں خیالوں ہی خیالوں میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔بریکنگ نیوز کا یہ بھی کمال ہوتا ہے کہ چاہے تو قتل کو بھی عام خبر بنا کر پیش کر دیں اور چاہیں تو کسی

اہم شخصیت کے گھر پیدا ہونے والے بچے کی خبر کو بھی ایسے بریک کر دیں کہ جیسے یہ دنیا میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ ہے اور خبر سننے والے کے اپنے گھر میں پیدا ہو رہا ہے۔ملاحظہ ہو ۔۔۔۔جی ناظرین چلئے آپ کو تازہ ترین خبر سے آگاہ کرتے چلیں،لاہور میں پاکستان کی ایک اہم ترین شخصیت کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی ابھی ابھی اطلاع موصول ہوئی ہے اوہ معاف کیجئے گا شخصیت کے ہاں سے مراد ان کی بیوی کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ناظرین کو

مطلع کرتے چلیں جیسے جیسے بچہ کے پیدا ہونے کا سمے قریب آتا جائے گا ہم لمحہ بہ لمحہ آپ کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔۔جی ناظرین آپ جانتے ہیں کہ یہ خبر سب سے پہلے ہم نے بریک کی تھی کہ ہم نے ’’اندر‘‘ کی خبر کو سب سے پہلے ’’باہر‘‘ نکالا ‘‘ حالانکہ بچہ ابھی شکم ِمادرسے بھی باہر نہیں نکلا۔مگر آپ ہمارے ساتھ جڑے رہیے گا یونہی بچہ کی رہائی شکم مادرسے ہو گی ہم اس کے رونے کی آواز ناظرین تک سب سے پہلے پہنچائیں گے ۔پیدائش نہ ہوئی نوری نت کی جیل

سے رہائی ہو گئی،جو اقدامِ قتل میں عرصہ بارہ سال جیل میں سزا کاٹ کے رہا ہو کر آ رہا ہو۔۔۔۔۔۔جی ناظرین ہمارا نمائندہ عین موقع واردات پر اوہ معزرت ،ہسپتال میں پہنچ چکا ہے۔اور اپنی سر توڑ کوشش میں مصروفِ عمل ہے کہ کسی طریقے سے بھی یونہی بچہ کا سر نظر آجائے تو سروپا کی مکمل خبر ہم ’سب سے پہلے‘‘ بریک کریں ۔یونہی عمل پیدائش مکمل ہوتا ہے تو ہمارے نمائندے کی کوشش ہوگی کہ بچہ کے والدین خاص کر والدہ سے ہم رابطہ کر کے ان کے خیالات کو آپ تک پہنچا

سکیں کہ جس عورت نے نو ماہ بچہ کو پیٹ میں رکھ کر اسے جنم دیا اور اب ہسپتا ل میں موجودہے تو اس کے کیا تاثرات ہیں۔۔۔۔۔جی ناظرین ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے ہمارا نمائندہ رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور ہمارے نمائندہ کے پوچھنے پر ڈاکٹر نے انگلیوں سے ’’وی‘‘ کا نشان بناتے ہوئے بتایا ہے کہ مجھے مکمل اعتماد ہے کہ فتح ہماری ہوگی۔بس دعا کریں یونہی رزلٹ نکلتا ہے وہ لڑکا یا لڑکی کی صورت میں ہو، ہم آپ کو مطلع کر دیں گے۔بندہ خدا عملِ پیدائش نہ ہوا معرکہ حق و باطل

ہو گیا کہ دعا کرو،فتح ہو گی وغیرہ وغیرہ۔جی ناظرین جب تک بچہ اس دنیا میں سانس لینے میں کامیاب ہوتا ہے اس وقت تک آپ کو ایک اور اہم خبر سے آگاہ کرتے چلیں کہ جسے سن کر آپ کی عقل کے فیوز اڑ جائیں گے۔جی ناظرین ابھی ابھی ہمارے نمائندے نے کراچی سے خبر بریک کی ہے کہ ’’میرا‘‘ اور ’’ریما‘‘ بکنے کے لئے منڈی میں پہنچ چکی ہیں۔تاہم ان کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی ہیں کہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے جانا زمین والوں کا کام نہیں ہاں زمیندار شائد لے جائیں۔لوگ ایک طرف

’’میرا‘‘ اور ’’ریما‘‘ کی خوبصورتی کو دیکھتے ہیں تو دوسری جانب اپنی پاکٹ کو دیکھ کر اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔یہ تو بریکنگ نیوز کے آخر میں عقدہ کھلا کہ من ہی من میں جس میرا ،ریما سے آپ عقدِ ثانی کا سوچ بیٹھے ہیں وہ دو گائے ہیں جو بکنے کے لئے منڈی لائی گئی تھیں۔چند بریکنگ نیوز ملاحظہ ہوں*قصور میں ہوئی بچے کے ساتھ زیادتی۔۔۔۔نائی نے بچے کو چڑیا دکھا کر دن دیہاڑے بچے کی ’’چڑیا‘‘ کو اپنے استرے سے کاٹ کر مسلمانوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ٌٌٌ*سمندری کے

قریب ایک گائوں میں کتے نے ایک بچے کو کاٹ لیا۔خبر یہ ہے کہ اس کا بدلہ لینے کے لئے بچہ کے ایک رشتہ دار نے کتے کو بھی وہیں سے کاٹا جہاں سے کتے نے کاٹا تھا۔ہماری ٹیم یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ بچہ کو کتے نے کس جگہ سے کاٹا تھا۔*کوٹ ادو سے نکلا پانی کے نل سے کیرو سین آئل۔۔۔۔۔ہمارے نمائندہ کے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ نل کے پاس

کھیلتے ہوئے بچہ نے قریب پڑی کیروسین آئل کی بوتل اصل میں نل میں ڈال دی تھی۔*کہنے میں مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔۔۔۔۔تو کرائی ہے ستر سالہ بوڑھے نے بیس سالہ لڑکی سے شادی،یہ جاننے کے لئے کہ کیا واقعی میں مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔یا ’’ایویں گلاں بنیاں ہوئیاں نیں‘‘ اب بابا جی باقاعدہ اعلان کر دیا ہے کہ بس باتیں ہی بنی ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں