زعم زدہ نفس ۔۔۔ عاصمہ عزیز

’’ تایا ابا آپ یہاں۔۔۔‘‘ ایدھی سنٹر کے ہال نما کمرے کے وسط میں وہیل چیئر پر آنکھیں موندیں بیٹھے ،اپنے اداس اور وحشت ناک دنوں میں حسین یادوں کی پیوندکاری کرتے ہوئے انھیں ایک جانی پہچانی نسوانی آواز سنائی دی تھی۔ اس بڑے سے کمرے میں انہی جیسے بے بس و مجبور بوڑھے تھے جن کا وجود ان کے گھر والوں کو کھٹکتا تھا۔۔۔ ثانیہ ایک این جی او میں کام کرتی تھی ،آج اس کا وہاں آ نا ہوا تو اپنے عزیز از جان تایا ابا کو ایدھی سنٹر میں بے کس پڑے دیکھ کر حیرت سے گنگ رہ گئی۔’’ پاپا کو تو کچھ بتایا ہوتا ۔۔ آپ یہاں کیسے پہنچ گئے۔۔

؟ ‘‘ نیچے پنجوں کے بل ان کی وہیل چیئر کے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے خفگی سے کہا تھا۔غیروں سے شکوہ ہوتا تو اپنوں کو کچھ بتاتا۔۔ اپنی ہی اولاد کی شکایت تو کوئی نہیں کیا کرتا ۔۔۔ ‘‘ ان کے لہجے میں ٹوٹے کانچ کی سی کرچیاں تھیں۔۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے بیٹوں کو سر آنکھوں پہ بٹھایا تھا ۔ حتی کہ وہ بیٹوں کی خواہش میں اتنے اندھے ہوچکے تھے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو بھی دھتکار دیا تھا ۔۔ لیکن آج انہی بیٹوں نے انھیں یہاں بے یارو مددگار لا چھوڑا تھا۔ مجبوری ،بے کسی اور درد کی انتہا کب،کیوں اور کیسے ہوتی ہے عبدا لجبار صاحب پر واضح ہو چکا تھا اور یہاں گزارے پچھلے پندرہ بدترین دنوں میں انھیں ایدھی سنٹر کے درودیوار جیسے اپنا مذاق اڑاتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔۔ ’’جب اپنے انسان سے بے نیازی برتنے لگیں۔۔ منہ پھیر کر اپنے کان اور آنکھیں بند کر لیں تو گھر کے درودیوار سمیت ہر بے جان چیز کے جیسے کان اور آنکھیں اگ آتی ہیں۔۔ ‘‘ بے بسی کی انہتائوں کو پہنچتے ہوئے انھوں نے کئی دفعہ سوچا تھا۔گاڑی اسلام آباد کی تارکول کی سڑک پر رواں دواں تھی،اوپر آسمان پر روئی کے گالوں کی مانند سفید بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا سورج نرم گرم شعاعیں نیچے زمین پر بکھیرے ہوئے تھا۔۔ ثانیہ کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ایدھی سنٹر سے اپنے بھائی کے گھرجاتے ہوئے ان کا ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں کھونے لگا تھا۔۔اور ماضی کے اوراق پلٹتے ہی انھیں اپنا قبیح چہرہ آج پہلی بار دکھائی دیا تھا۔جب کئی سال پہلے اپنی بیٹی کے پیدا ہوتے ہی انھوں نے اسے بری طرح دھتکار دیا تھا۔۔انھوں نے زندگی میں اپنی ماں اور بہن کے علاوہ کبھی کسی عورت کو قابل اعتنا اور قابل عزت جانا ہی نہیں تھا ۔۔ جب زندگی بھر بیٹی کی ماں کو عزت اور مان نہیں ملا تھا تو بیٹی کو کیونکر مل سکتا تھا۔۔ ان کا دل سنگ مرمر کی مانند

سخت ہوچلا تھا۔۔ گردن ایسے اکڑی ہوئی جیسے اس میں سریا ڈال دیا گیا ہو۔’’ اس گھر میں بیٹی رہے گی یا اس کی ماں۔۔ ‘‘ کاٹ میں لیٹی چند دن کی بیٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے تحکم سے اپنی بہن کے سامنے حکم صادر کیا تھا۔ یہ حکم صادر کرتے ہوئے بھی وہ جانتے تھے کہ زندگی کے کتنے ہی قیمتی ماہ و سال صبر شکر کے ساتھ ان کے سنگ گزارنے والی عورت بیٹی کو تو چھوڑ سکتی تھی لیکن ان کے گھر کو چھوڑنے کی ہمت نہیں کر سکتی۔۔ گھر اور رتبے کی ملکیت کا احساس ہی مرد کو زعم اور تفاخر میں مبتلا کرنے کو کافی ہوتا

ہے۔’’ بھائی جان کیوں اللہ کی رحمت سے منہ موڑ رہے ہیں۔‘‘ بہن نے انھیں سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی تھی۔ عبدالجبار وصاحب کی چیخ و پکار اور اللہ کی رحمت سے منہ پھیرنے نے انھیں ہو لا کے رکھ دیا تھا۔’ ایسی رحمت کا کیا فائدہ جس نے مستقبل میں زحمت ہی بننا ہے۔۔‘‘ بیٹے کی خواہش میں غرق ان پر عجیب جنون سوار تھا۔ ان کا بس نہیں چلا رہا تھا کہ وہ ہاتھ پکڑ کر بیٹی سمیت بیوی کو باہر نکال دیتے۔’’مستقل کی جب خبر نہیں تو پھر اس کی فکر میں کیوں مبتلا ہیں۔۔‘‘ بہن نے ناصحانہ انداز میں کہا تھا۔ لیکن جن کی آنکھوں پر خواہشات

کی پٹی بندھ جائے انھیں جتنی بھی نصیحتیں کی جائیں سب اکار ت جاتی ہیں۔۔ بلآخر ان کو احساس دلانے میں ناکامی کے بعد ان کی بہن اپنی چند دن کی بھتیجی کو اٹھا کے اس کے چچا کے حوالے کر آئیں تھیں۔۔ وقت کی پٹری میں کئی ماہ و سال کسی تیز رفتار گاڑی کی مانند بیت گئے تھے۔۔ اس دوران قدرت نے انھیں دو چاند سے بیٹوں سے نوازا تھا۔۔ اپنی خواہش بر آنے پر ان کی گردن احساس تشکر سے جھکنے کی بجائے فخر سے مزید تن گئی تھی۔۔ بہت سے باپوں کی طرح انھوں نے بھی اپنی جوانی اور اوائل بڑھاپے کے دن بیٹوں کی اعلیٰ پرورش اور

ان کے لیے مال و دولت جمع کرنے میں صرف کردیے۔۔ اس دوران انھیں کبھی بھولے سے بھی اپنی بیٹی کی یاد نہیں ستائی تھی ۔۔ ماں یاد کرتی تو وہ اسے بھی بری طرح جھڑک دیتے۔۔ ویسے بھی انھیں اپنے اور اپنے بیٹوں کے علاوہ کبھی کسی سے محبت تھی ہی نہیں جو وہ کسی کے جذبات و احساسات کی پرواہ کرتے۔کئی سال اسی طرح وقت کے سمندر میں بہہ گئے تھے۔۔ لیکن بیٹی کی طرف سے ان پر چڑا بے حسی کا جمود کئی سال گزر جانے کے بعد بھی نہیں ٹوٹا تھا۔۔ اور ٹوٹ بھی کیسے سکتا تھا انسان توازل سے ہی ٹھوکر کھائے بغیر ،درد سہے

بغیر صحیح راستوں کا تعین ہی نہیں کر پاتا ۔۔ اور یہی ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ وقت پرخود پر چڑھا بے حسی اور فخر و غرور کا خول اتار نہیں پائے تھے۔۔کئی سال گزرے ،بیٹے جوان ہوئے ،ان کی شادیاں ہوئیں اس دوران ان کی ماں بھی کچھ ماہ بستر سے لگنے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملیں۔۔ بیوی کی جدائی کا غم کیا ہوتااس کی موت کے بعد تو ان کی اپنی ہڈیوں میں سکت نہیں رہی تھی۔۔ بالوں میں سفیدی گھل گئی تھی اور ٹانگیں زیادہ قدموں کو بوجھ اٹھانے سے قاصر تھیں۔۔ بیوی کی جدائی کے بعد وہ مکمل طور پر بیٹوں اور بہوئوں کے رحم و کرم

پر تھے۔۔کئی کئی گھنٹے بھوکے پیاسے بستر پر چت لیٹے جب وہ اپنے کمرے میں تنہا پڑے رہتے تو انھیں اس عورت کے ساتھ رکھا اپنے ناروا رویہ کانٹوں کی طرح چبھتا ۔۔ اب اکثر اپنی بیٹی ثانیہ کا من موہنہ چہرہ ان کی آنکھوں کے سامنے گھومتا رہتا ۔۔ جن بیٹوں کی خواہش میں انھوں نے اپنی بیٹی کو دھتکارا تھا ،انہی بیٹوں کی اپنی جانب سے لاپرواہی اور بے نیازی کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اپنی آدھی جائیداد بیٹی کے نام کر دی تھی۔۔ ساری زندگی جس کا چہرہ دیکھنے کے بھی روادر نہیں ہوئے تھے مرنے سے پہلے وہ اس کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں

کرنا چاہتے تھے۔۔ اور زندگی میں پہلی دفعہ بیٹی کے حق میں کیا گیا کوئی فیصلہ ان کے لیے گلے کا پھندا ثابت ہوا تھا۔۔ بیٹی کو جائیداد میں حصہ دینے کے جس جرم میں بیٹوں نے انھیں ایدھی سنٹر میں لا پھینکا تھا اس پہ انھیں اپنی زندگی کی آخری سانس تک بھی شرمندگی و ندامت نہیں ہونی تھی۔۔ ماضی میں بڑے طمطراق سے انھوں نے اپنی بیٹی کو دھتکار کر اسکی ماں کا دل زخموں سے چور کیا تھااور آج ان کے محبوب بیٹوں نے ان کے بوڑھے و لاغر وجود کو ایدھی سنٹر میں پھینک کر ان کا سینہ کانٹوں سے چھلنی کر دیا تھا ۔۔افسوس و ملال جاتا بھی

تو کیسے عبدالجبار صاحب کی تو اپنی ’’کرنی‘‘ ہی آگے آئی تھی۔۔ قدرت کے حساب کتاب ہمیشہ عدل کی بنیاد پر ہی ہوتے ہیں ۔۔کل بیٹوں کی محبت میں مبتلا انھوں نے بیٹی کو جھٹکا تھا اور آج انہی بیٹوں نے انھیں بری طرح دھتکار دیا تھا۔ کسی نے ٹھیک کہا ہے جو گردنیں جھکتی نہیں ہیں وہ توڑ دی جاتی ہیں۔۔ ایدھی سنٹر سے اپنے بھائی کے گھر جاتے ہوئے ڈرائیونگ کرتی اپنی بیٹی ثانیہ کے معصوم چہرے کو کنکھیوں سے تکتے وہ سوچ رہے تھے کہ جب اسے ساری حقیقت کا ادراک ہوگا تو وہ اس کی محبت کو نفرت میں بدلتے کیسے سہہ پائیں گے۔۔۔ ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں