جہالت اور نا اہلی ۔۔۔ اوریا مقبول جان

عمران خان کی خود پسند اور کرشماتی شخصیت کے اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان کا ہر باشعور شخص یہ خیال کرتا تھا کہ کرپشن اور بددیانتی نے پاکستانی معیشت ومعاشرت کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے اور اگر کچھ دیر اور ایسا ہی رہا تو یہ عمارت ایک دن اچانک دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گی۔ لیکن عمران خان کی دو سالہ حکومت نے یہ راز بھی باشعور لوگوں پر آشکار کردیا کہ کرپشن اور بددیانتی سے تو شاید ملک کچھ سال اور چلتا رہتا لیکن جہالت اورنا اہلی اس کا وہ حال کردے گی جیسے چلتی گاڑی کو دیوار سے ٹکراکر پاش پاش کیا جاتا ہے یا کانچ کے برتن کو اونچائی سے گرا

کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا۔ اپنی بتیس سالہ سول سروس کی نوکری میںکبھی میں نے یہ عالم نہیں دیکھا کہ بیوریوکریٹ کسی حکمران کو اسقدر بے وقوف بنائیں، اور نہ صرف حکمرانوں کو بلکہ یہاں تک کہ عدالت کے سامنے بھی ایک جھوٹی اور غلط تصویر پیش کر کے ان کے نقطہ نظر کو تبدیل کریں اور اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کریں۔ اس بددیانتی کو قانون کی زبان میں ’’عدالت کو مغالطہ دینا (Misleading The Court)جیسے جرم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستانی بیوروکریٹ اب اسقدر بے خوف ہو گئے ہیں کہ وہ غلط بیانیوں اور جھوٹے اعدادوشمار سے بیک وقت وزیرِاعظم پاکستان اور عدالت کے اعلیٰ ججوں کو گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے۔ حکومت ان کے چکر میں آکر غلط فیصلے کرتی ہے اور عدالت ان کی کہی ہوئی باتوں پر یقین کر کے حکم جاری کرتی ہے۔ دونوں کو گمراہ کرنے، شیشے میں اتارنے اور جھوٹ بول کر اپنی مرضی کے فیصلے لینے کی شاندار مثال تازہ ترین پٹرول کی کمیابی اور اس کی قیمتوں کے بڑھنے تک کے سارے کھیل میں واضح دکھائی دیتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم خان صاحب نے پٹرول کی کمیابی سے متعلق دائر ایک پٹیشن پر وزارتِ پٹرولیم کے سیکرٹری اسد حیاالدین کو بلا کر پوچھا کہ اس وقت جو پٹرول مارکیٹ میں کم ہوا ہے اس کی وجہ کیا ہے۔ سیکرٹری صاحب موصوف نے سینہ پھلا کر کہا کہ چونکہ ہم نے 19مارچ2020ء سے ایران کے بارڈر پر سختی کی ہے اس لئے وہاں سے روزانہ جو 1.2 میٹرک ٹن پٹرول سمگل ہورہا تھا وہ بند ہو گیا ہے جس کی وجہ سے پٹرول کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ عزت مآب چیف جسٹس صاحب نے سیکرٹری

صاحب کی اس گمراہ کن منطق پر یقین کرتے ہوئے کہا کہ ’’حکومتی اہلکار ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئیے ایک غیر قانونی دھندے سے آنکھ پھیرے ہوئے تھے اور یہ تو ایک بہت سیریس جرم ہے‘‘۔ اب ذرا عدالت کے سامنے پیش کی جانے والی اس گمراہ کن دلیل کا جائزہ لیتے ہیں۔ روزانہ 1.2 میٹرک ٹن کا مطلب ہے 10.14بیرل کیونکہ ایک بیرل پیٹرول یا گیسولین 0.1183432 میٹرک ٹن کا ہوتا ہے۔ عالمی پیمانے کے مطابق ایک بیرل گیسولین یا پٹرول 42امریکی گیلن یا 159لیٹرز کا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران سے روزانہ تقریباً سترسولیٹر پیٹرول سمگل ہوتا تھا اور سالانہ تقریباً چھ لاکھ بیس ہزار

پانچ سو (6,20,500) لیٹر یا چارہزاربیرل پٹرول ایران سے غیرقانونی طور پر پاکستان آتا تھا۔ پاکستان روزانہ پانچ لاکھ 56ہزار بیرل تیل استعمال کرتا ہے جس میں سے صرف اور صرف 10.14بیرل تیل ایران سے سمگل ہوکر آتا تھا جس پر سیکرٹری صاحب عدالتِ عالیہ کے چیف جسٹس کے سامنے یہ منطق بگھار رہے تھے کہ چونکہ روزانہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل تیل کی کھپت میں سے صرف دس بیرل تیل ایران سے سمگل ہونا بند ہو گیا ہے، اس لیے پاکستان میں پٹرول پمپوں پر تیل نہیں مل رہا۔ ظاہر بات ہے موصوف سیکرٹری صاحب کو یہ ’’عظیم منطق‘‘ ان کے زیر سایہ پیٹرولیم کے ماہرین نے سکھائی ہوگی

یا پھر انہوں نے خود اپنے ’’شاطرانہ‘‘ دماغ سے اسے سوچا ہوگا۔ جہالت صرف حکومت تک ہی محدود نہیں ہے۔ جس ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے اس ملک پر احسان کرتے ہوئے یہ پٹیشن دائر کی تھی اس کو بھی اگر علم ہوتا تو وہ سیکرٹری صاحب کو عدالت کو گمراہ کرنے سے روک لیتا۔ چونکہ پٹیشن تو محض وکالت چمکانے اور نام بنانے کے لیے کی جاتی ہے، اس لئیے جیسے تیسے اسے داغ دیا گیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات اور جہالت کا عالم یہ ہے کہ ہمارے اسقدر پڑھے لکھے عہدداروں کو بھی علم نہیں کہ ایران خام تیل پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ یہ اعلیٰ عہدیدار یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاید

زمین سے تیل براہ راست نکال کر پٹرول پمپوں کو سپلائی ہوتا ہوگا، اس لئیے ایران کے پاس تو وافر تیل ہے۔ حالانکہ تیل کو ایک ریفائنری سے گذار کر صاف کیا جاتا ہے اور اس میں سے لاتعداد مصنوعات بنتی ہیں جن میں ایک پٹرول بھی ہے۔ ایران اپنی پٹرول کی سالانہ کھپت کا 75فیصد خود صاف کرتا ہے جبکہ باقی 25 فیصد تقریبا ڈیڑھ ارب ڈالر خرچ کرکے باہر سے منگواتا ہے۔ میں جب 2007ء میں ایران میں تعینات تھا تو پٹرول کی ’’سہمہ بندی‘‘ یعنی راشنگ نافذ تھی اور ہر گاڑی کو روزانہ صرف تین لیٹر تیل ملتا تھا۔ ایسا ملک جو خود تیل منگواتا ہو، وہاں سے پاکستان میں اتنی سمگلنگ ہو کہ اگر یہ بند ہو جائے تو ملک میں پٹرول ملنا ہی بند ہو جائے۔ یہ سب سن کر ہنسی آتی ہے۔ لیکن یہ منطق عدالتِ عالیہ کے سامنے دی گئی اور اسے قبول بھی کیا گیا۔ اسی پٹرول کی کمیابی اور نایابی کو بنیاد بنا کر پاکستان کے ’’مغرب پلٹ‘‘ عظیم معاشی ماہرین جنہیں عمران خان نے دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے درآمد کیا ہے، انہوں نے پاکستانی ’’اعلیٰ دماغ‘‘ بیوروکریٹس سے مل کر راتوں رات ایک سمری کے ذریعے عمران خان صاحب وزیرِاعظم پاکستان سے تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کروایا اور اتنا بھی انتظار نہ کیا کہ اوگرا جو قانونی طور پر سمری بھیجنے کا مجاز ہے اسی سے ہی سمری منگوالی جائے۔ خان صاحب کو ان عالی دماغ ’’بیرونی معیشت دانوں‘‘ اور ’’شاطر بیوروکریٹس‘‘ نے یہ منطق دی کہ چونکہ حکومت نے کچھ عرصہ پہلے لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کردی تھیں لیکن ہمارے برعکس افغانستان اور بھارت میں پٹرول کی قیمتیں ہم سے زیادہ ہیں،

اس لئیے منافع خورسمگلر پاکستان سے دھڑادھڑ سستا تیل خرید کر افغانستان اور بھارت سمگل کر رہے ہیں جس سے ملک میں پیٹرول کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس مسئلے کا فوری حل یہ ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھادی جائیں۔ جب سمگلنگ میں منافع ہی نہیں ہو گا تو کون پاگل سمگلنگ کرے گا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ ان لوگوں نے باقاعدہ اعدادوشمار پیش کئے کہ دیکھو پشاور میں مئی اور جون میں پٹرول کی ڈیمانڈ کتنی بڑھ گئی ہے۔ یہ سارا تیل افغانستان سمگل ہو رہا ہے۔ اسلئے فوراً قیمتیں بڑھادو تاکہ سمگلنگ بھی رک جائے اور ملک میں پٹرول کی کمی بھی ختم ہو جائے۔

ایک تیر دو شکار۔ عمران خان صاحب کو اپنے ’’مغرب پلٹ‘‘ ’’مشیروں‘‘ اور ’’بیوروکریٹ‘‘ سے پلٹ کر یہ سوال کرنا چاہئے تھا کہ یہ جو پاکستان میں درجن بھر ایجنسیاں سمگلنگ کی روک تھام کے لئیے ہیں، کسٹم، رینجرز، ایف سی، ملشیا، لیویز اور ایف آئی اے وغیرہ یہ سب کیا کر رہی ہیں، ان سب کو فارغ کر دیتے ہیں۔ اگر سمگلنگ روکنے کا حل قیمتیں بڑھانا ہے تو پھر کل سے ملک میں گندم، چاول، کھاد، کپڑا، چینی سب کی قیمتیں دوگنی چوگنی کر دیتے ہیں، سمگلنگ خودبخود رک جائے گی اور مال بھی ملک میں رہے گا۔ ایسی منطق اور ایسی دلیل کس بلا کی جہالت کی آئینہ دار ہے لیکن اس کے

ماننے والوں کی نا اہلی کا بھی جواب نہیں۔ جس زمانے میںہم یونیورسٹی میں سوشل پالیسی اور پلاننگ پڑھا کرتے تھے تو کتابیں ہمیں ایک بنیادی سبق سکھاتی تھیں کہ ملکوں کی تقدیربدلنے کے لئیے کرشماتی (Chrismatic) لیڈر پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ ایسے لیڈر اپنے آپ کو اسقدر پسند کرتے ہیں کہ کانوں سے بہرے اور آنکھوں سے اندھے ہو چکے ہوتے ہیں۔ ان کی ایک جیب میں مسائل کی فہرست ہوتی ہے اور دوسری جیب میں ان کے حل کی فہرست۔ جو کوئی ان کی فہرست کے مطابق مسائل بتائے گا اور ان کے دماغ میںپہلے سے موجود حل ہی تجویز کرے گا تو وہی انہیں اچھا لگے گا، وہی ان کی آنکھ کا تارا ہو گا، ان کا مشیر ہو گا۔ کرشماتی لیڈر کی جہالت اور نا اہلی اس لئیے بھی خطرناک ہوتی ہے کہ وہ اپنی جہالت کو علم اور اپنی نا اہلی کو مہارت سمجھتا ہے۔(بشکریہ92)