نالائق اور لائقوں کی فتوحات۔۔۔ تحریر: بابر اعوان

عمران خان‘ وزیراعظم کے طور پر اپنے (maiden)خطاب اور PTIکی حکومت اپنے پہلے ہی گھنٹے میں نالائق ”ڈکلیئر‘‘ ہو گئی تھی۔ سیاسی ازل کے قاضیوں کاوہی فتویٰ 474دنوں سے مسلسل جاری ہے۔ ہر روزفتوے کے آخر میں نئی تقرری کی معصوم خواہش یا ایک مزید” پھیرے‘‘ کی درخواست برائے پُر کیے جانے آسامی پوشیدہ ہوتی ہے۔دوسری جانب ہیںپیدائشی لائق ماہرین یا سرکاری وسائل پرلائقوں کی پیدا کردہ لائق ترین سنڈیکیٹ۔ نالائقی اور لائقی کے اس ملاکھڑے نے ایک اور مقابلے کو بھی جنم دیا۔ پاکستانی ریاست کے مستقبل کا بھارت سے مقابلہ یا موازنہ۔ ویسے لائق اور نالائق کی یہ تقسیم بہت پرانی چلی آتی ہے۔ لائق ٹولے کا سالار مئی 1980ء میں اُس وقت کے پنجابی گورنر جنرل جیلانی کی مہربانی سے پنجاب کا وزیرخزانہ بنا‘

جب کہ نالائق‘1996ء میں اپنی سیاسی پارٹی خود بناتا ہے۔ پھر تبدیلی کے خواب کے پیچھے سراب کی منزلوں میں گم ہو جاتا ہے۔ لائق ‘ گوالمنڈی میں واقع 10 مرلے کے برف خانے سے ترقی کے سفر پر روانہ ہو ا۔ نیچے برف خانہ اور اُوپر آلِ شریف کا گھرانہ۔ قیام و طعام اور صبح و شام کی منزلِ حیات۔ ایک تقابل اور بھی ہے۔ پاکستان کی حکومت نالائق کے ہاتھ آ گئی‘ جس نے Macro Economics بحال کرنے کے لیے غیر مقبول بلکہ مشکل ترین فیصلے کیے۔ آج ان فیصلوں کی وجہ سے پاکستان معاشی سلامتی اور استحکام کی راہ پر چل نکلا ہے۔ بھارت کے طول و عرض میں وہاں کے لائق نے چائے کے دریا بہا دئیے۔ مودی کے چھ سالہ اقتدار نے شائننگ انڈیا تخلیق کیا ‘ جس کے ”اصلی تے وڈے‘‘ چہرے پر خسارے کی چیچک 16جگہ سے ابھرآئی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کس تیزی سے پگھلتی چلی جاتی ہے اس کے 16 اشارے درج ذیل ہیں‘لیکن بھارتی خسارے کا بنیادی نقطہ یاد رکھیں‘ بھارت کا ایک روپیہ‘2.16 پاکستانی روپے کے برابرہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا 50ہزار کروڑ بھارتی روپے کا خسارہ پاکستانی کرنسی میں 1لاکھ7ہزار 955کروڑروپے بنتا ہے۔بھارتی معیشت کے 16چیچک سپاٹس میں پہلا نمبرووڈا فون کا ہے‘ جس کا خسارہ 50ہزار کروڑبھارتی روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ائیر ٹَیل خسارہ23ہزار کروڑبھارتی روپے۔ BSNL کاخسارہ14ہزار کروڑبھارتی روپے۔ MTNL کا کُل خسارہ 755 کروڑبھارتی روپے۔ BPCLخسارہ 750کروڑبھارتی روپے۔ SAIL کاخسارہ 286کروڑبھارتی روپے۔ ائیر انڈیا کا خسارہ 46 ہزار کروڑبھارتی روپے۔ سپائس جیٹ خسارہ 463کروڑ بھارتی روپے۔ انڈیگو خسارہ 1062 کروڑ بھارتی روپے۔BHEL خسارہ219کروڑبھارتی روپے۔

انڈیا پوسٹ(محکمہ ڈاک)خسارہ15ہزارکروڑبھارتی روپے۔ GMR خسارہ 561 کروڑبھارتی روپے۔ YESبینک خسارہ 600 کروڑبھارتی روپے۔ یونین بینک خسارہ 1190 کروڑبھارتی روپے۔ PNBبینک خسارہ 4750 کروڑبھارتی روپے۔ Axisبینک خسارہ 112 کروڑبھارتی روپے۔یہ ٹوٹل خسارہ بھارتی کرنسی میں ایک لاکھ58ہزار748کروڑ روپے بنتا ہے‘جبکہ پاکستانی روپے میں یہ خسارہ تین لاکھ 42ہزار 753کروڑکاہے۔ اب آئیے خسارے کے فضائی سیکٹر میں جہاں بھارت کی معروف ائیر لائن ‘جیٹ ائیر ویز ‘بند ہوچکی۔ بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (BSNL) نے مزید54ہزارنوکریاں کم کر نے کا اعلان کردیا ہے۔ ہندوستان ائیروناٹکس لمیٹڈ (HAL)کے کارکنوں کو تنخواہ دینے کے لیے سرے سے رقم ہی موجود نہیں۔ انڈین آٹو انڈسٹری کے 10لاکھ ملازم فارغ

یعنی Layoff کیے جا چکے ہیں۔ انڈیا کے 30 بڑے شہروں میں بلڈرز کے تعمیر شدہ12 لاکھ سے زائد مکانات کا رنگ و روغن خریداروں کے انتظار میںبیوہ کی مانگ کی طرح اجڑتا جا رہا ہے۔ کئی معروف بلڈرز آتما ہتیا یعنی خود کشی کر گئے ہیں۔ Aircelاورٹاٹا Docomo جیسی کمپنیاں‘ جو کبھی بھارتی معیشت کی پہچان ہوا کرتی تھیں ‘ Dead Companiesکی فہرست میںپہنچ چکی ہیں۔ انڈیا کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی کمپنی آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (ONGC)اب خسارے میں جارہی ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے36 قرض دار یعنی Debtors غائب ہو کر تلاشِ گمشدہ کے ریڈ الرٹ میں شامل ہوئے۔بھارتی معیشت کے ہچکولے کھاتے ٹائی ٹینک کے چند ثبوت اور بھی ہیں‘ مثال کے طور پر کارپوریٹ سیکٹر کی کچھ کمپنیوں

کو2.4لاکھ کروڑانڈین روپے کے قرضے بیک جنبشِ قلم معاف کر دئیے گئے ۔انڈیا کے سارے بینک بھاری نقصان میں جارہے ہیں۔بھارت پر بیرونی قرضے پانچ سو بلین ڈالر سے بھی اوپر جا پہنچے ہیں۔ بھارتی ریلوے اشتہار برائے فروخت میں چھپ گئی ہے۔ لال قلعے جیسے قومی ورثے کرائے پر دستیاب ہیں۔ دنیا کی جانی پہچانی اور بھارت کی کاریں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ”ماروتی‘‘ نے اپنی پیدا وارگھٹا دی۔ کار فیکٹریوں کی Inventory میں55ہزار کروڑبھارتی روپے مالیت کی گاڑیاںپارک ہیں مگر دُور دُور تک کوئی خرید ار نہیں۔ جنرل سیلز ٹیکس 18فیصد سے بڑھ کر 28فیصد ہونے سے میٹریل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ تعمیراتی کام رُک چکا ہے۔ آرڈیننس فیکٹری بورڈ (OFB)کو کارپورٹائیزیشن کرنے کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ

ملازمین اور ان کے خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ڈی منی ٹائزیشن کی وجہ سے لاکھوں بے روزگار ہیں۔ بھارتی تاریخ کے پچھلے 45 سال میں آج سب سے زیادہ بیروزگاری ہے۔ پانچ ائیر پورٹسAdaniکو فروخت کیے جا چکے ہیں۔ اندرون ملک Stagfltaionیعنی معاشی انجمادعروج پہ ہے۔ ہائی نیٹ ورتھ افراد(HNI) ریکارڈ تعداد میں انڈیا سے باہر جا رہے ہیں۔ Videocon قلاش ہو چکی ہے۔ Cafe Coffee Dayکے بانی وی جی سدھارتھ نے جولائی 2019ء میںبھاری قرضوں کے باعث خود کشی کر لی۔ پارلے جی جیسی معروف بسکٹ بنانے والی کمپنیاں ملازمین نکال رہی ہیں۔ کئی نیشنلائزڈ بینک merge ہو گئے۔ ان گنت شاخیں بند۔ ATMکی بڑی تعدادپر تالے پڑ گئے۔ بھارت کے معاشی ماہرین کے مطابق بہت سے دوسرے Venturesبھی بند ہوںگے‘جن کے بارے میںابھی وہ نہیں جانتے۔نالائق کے پاکستان میں‘ پچھلے 13سالوں میں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سب سے کم خسارہ ریکارڈہوا۔کرنٹ اکائونٹ چارسال بعد پہلی بار سرپلس ہے۔ فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ تین سال بعد واپس آئی۔ اگست 2019ء سے اب تک سٹاک مارکیٹ 11ہزار پوائنٹس بڑھی۔پاکستان Ease of doing business indexمیں 28درجے اوپر چلا گیا۔ نالائق کے دور میں اُس کے خاندان کا کوئی آدمی بر سرِ اقتدار نہیں۔ یہ نالائقی کی حد ہے۔اسی نالائقی کے باعث مرکز‘ کے پی اور پنجاب میں کوئی حکومتی کرپشن سکینڈل سامنے نہ آیا۔ PIA عشروں بعد آپریشنل خسارہ ختم کر چکی۔ کسی ہوائی مسافرسے پوچھ لیں ائیر لائن میں بہتری آئی یا نہیں۔ ٹیکس نیٹ پہلی مرتبہ تقریباً ڈبل۔ انڈسٹری اور ایکسپورٹ کو سبسڈی ملی۔ ہمارا امپورٹ بِل پہلی بار کم ہے۔ ایکسپورٹ پہلے سے زیادہ۔ نالائق وزیراعظم مکے مدینے جائے یا امریکہ ‘ ہر جگہ لوگ اُس سے یک جہتی کے نعرے مارتے ہیں۔ لائق ترین لیڈروں کی اولاد اپنے بڑوں کی فتوحات کی وجہ سے گھر سے نکلیں تو ”ببلو کے پاپا چور ہیں ‘‘کے نعرے سننے پڑتے ہیں۔ شاپنگ کرنا یا ریسٹورنٹ میں کھانا کھانا تو دُور کی بات ‘سڑک پر چلنا بھی ان کے لیے ڈرائونا خواب ہے۔ لائق لیڈر کے اپنے ہی تیسرے دورِ حکومت میں وہ کھاتے کھلے کہ آج ان کھاتوں کی وجہ سے لائق تایا‘ لائق چچا‘ چارلائق کزن‘ ایک عدد لائق سمدھی‘ اس کے دو لائق بیٹے ‘بلکہ لائقوں کی دوسری‘ تیسری نسل لائقوں کی فتوحات کے نرغے میں ہے۔اس ”لیاقت‘‘سے اللہ بچائے۔(بشکریہ روزنامہ دنیا)