رودادِ سفر ۔۔۔ مفتی منیب الرحمن

نیویارک میں ماہرِ رضویات ڈاکٹر غفران صدیقی کے فرزند ڈاکٹرحافظ محمد عثمان صدیقی نے اپنے شیخِ طریقت حضرت صاحبزادہ پیر قاضی فضلِ حق رضوی ‘سجادہ نشین آستانۂ عالیہ محدث اعظم پاکستان فیصل آباد کے ایماپر استقبالیے کا اہتمام کیا ‘جس میں علامہ مقصود احمد قادری ‘ڈاکٹر علامہ شہباز احمد چشتی‘ علامہ مدثر حسین‘ محترم سید صفدر شاہ ‘مفتی اولادِ رسول‘محترم سید میر حسین شاہ‘مولانا قاری محمد عثمان ‘ ‘مولانا مقصود رضوی‘ مولانا خالد رضا‘ قاری فقیر محمد مسعودی‘ حافظ محمد طارق ‘مولانا بشیر رضوی‘ محترم چوہدری پرویز‘ جناب خاور بیگ ‘جناب محمد افضل باجوہ‘جناب ملک ناصر‘جناب محمد اصغر چشتی ‘ محترم شفیق محمود اور میڈیا سے وابستہ حضرات ارشد چوہدری‘ محسن ظہیر‘ مجیب لودھی ‘منظور حسین

اوردیگرممتاز مقامی شخصیات نے شرکت کی۔ اس استقبالیے میں علمائے کرام نے میرے لیے نیک جذبات کا اظہار کیا اور القاب تجویز کیے ۔میں نے عرض کیا کہ میں ایک عاجز بندہ ہوں ‘آپ کے ان جذبات اور تجاویز کو حسنِ ظن پر محمول کرتا ہوں اوراللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کے حسنِ ظن کو میرے لیے دعائے مستجاب بنادے ۔ نیز میں نے گزارش کی کہ ہم سو ڈیڑھ سو سال پہلے سے جاری خلافیات کے حصار سے باہر نکل نہیں پارہے‘ ہماری مثال کنویں کے مینڈک کی سی ہوگئی ہے ‘ مناظرین اور پیشہ ور خطبا کا میدانِ کارزار بھی یہی ہے اور ایک خاص تعدادروایتی مسلکی سامعین کی بھی ہوتی ہے‘ تکفیری کلچر کی اب مارکیٹ نہیں رہی ‘یہ مسائل اب نظری رہ گئے ہیں ‘عملی نہیں رہے ‘اگرچہ نظریاتی اعتبار سے کوئی تبدیلی نہیں آئی اورسب اپنے اپنے معمولات پر عمل پیرا ہیں۔اس محدودیت کے سبب ہم دین ‘ امت اورملّت کے دیگر مسائل سے لاتعلق رہتے ہیں اور اسی سبب ہمارے مطالعے میں وسعت نہیں پیداہوتی ‘جبکہ امیر مینائی نے ملّت اور انسانیت کے درد کے احساس کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا:خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرسارے جہاں کا دردہمارے جگر میں ہے نیز لبرل ازم ‘آزاد روی ‘اَخلاق باختگی اور تجدُّد کے فتنے اپنے جلوے دکھارہے ہیںجدید ذرائع ابلاغ نے دینی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کی گرفت کو کمزور کردیا ہے ‘بحیثیتِ مجموعی ہمارا نظام اب دین اور دینی اقدار کا محافظ نہیں رہا۔ اسی کا اثر ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ میں بعض ایسے بِل پاس ہورہے ہیں یا مختلف قانونی مراحل میں ہیں کہ جن میں بہت سی باتیں اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے حوالے سے پاکستان میں ایسی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں جو مغرب اور غیر مسلم ممالک میں بھی نہیں ہیں ‘مثلاً:دنیا کے کسی غیر مسلم ملک میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ اگر

کوئی دس تاپندرہ سال کا لڑکا یا لڑکی اپنی آزادانہ مرضی سے توحید ورسالت کی شہادت دے کر اسلام میں داخل ہونا چاہے ‘تو اُسے اس کی اجازت نہیں دی جائے گی تاوقتیکہ اُس کی عمر اٹھارہ سال ہوجائے ‘پھر اُسے تقابلِ ادیان سے آگہی دی جائے اورپھر اس سے اُس کی رضا معلوم کی جائے۔اسی طرح خواجہ سرائوں کے حقوق کے تحفظ کے عنوان سے ایک ایکٹ پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے ‘اس میں بعض دفعات خطرناک مضمرات کی حامل ہیں ‘لیکن ہمارے علما اور ارکانِ پارلیمنٹ کو ان کی سنگینی اور دیرپا اثرات کا احساس تک نہیں ہے ۔ خود امریکہ میں ہماری نئی نسل تجدُّد پسندی اور لبرل ازم کے ان افکار سے متاثر ہورہی ہے اور علما اور نئی نسل میں ایک ابلاغی خلیج (CommunicationGap) حائل ہوتی جارہی ہے ۔ پاکستان اور

ہندوستان سے جو مبلّغین آرہے ہیں ‘وہ روایتی خطابات کرتے ہیں اور یہاں کے سینئر بزرگ اُن کے روایتی سامعین ہوتے ہیں ‘وہ محظوظ ہوتے ہیں ‘نعرے لگاتے ہیں‘ نوٹ پھینکتے ہیں‘ کیونکہ امریکہ اور یورپ میں تیس سال گزرنے کے باوجود وہ اپنے ماضی کی روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔ پس اس صورتِ حال کاپوری گہرائی کے ساتھ جائزہ لینے کے بعد ہمیں اپنی کمزوریوں پر قابو پانے اور حکمتِ عملی کو از سرِ نوترتیب دینے کی ضرورت ہے ‘اسی لیے بعض آزاد خیال لوگ طعن کرتے ہیں کہ ہمارے علما غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے خود مسلمانوں کی ڈائون سائزنگ میں لگے رہتے ہیں۔ گزشتہ دو کالموں میں ‘میں نے اپنی علمی بساط اور معلومات کے مطابق خواجہ سرائوں کے تحفظ کے ایکٹ

کے مضمرات کے بارے میں قارئینِ کرام بالخصوص نوجوان علما کو آگہی دینے کی کوشش کی تھی‘ اس کا تکملہ اور تتمہ پیشِ خدمت ہے:یونیورسٹی آف کیلی فورنیا‘لاس اینجلس کے لاسکول کے ولیمز انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق سات لاکھ امریکی ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جنس وہ نہیں ہے جو ان کی پیدائش کے وقت تھی ‘سو وہ اسے تبدیل کرانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے ‘مگر 2015ء کی رپورٹ کے مطابق شاید ایسے لوگوں کی تعدادکافی زیادہ ہے‘ ایسے ہی لوگوں کو Transgenderکہاجاتا ہے۔اس نفسیاتی مسئلے کو آج کل کے ماہرینِ نفسیات Gender Dysphoriaکہتے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق جینڈر ڈائسفوریاکا مطلب ہے :ایک شخص پیدائشی طور پر جس جنسی ساخت پر پیدا

ہوا ہے ‘وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کے جنسی تشخّص سے مطابقت نہیں رکھتا ‘جو لوگ اس نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں ‘وہ ایک خاص قسم کے Transgenderہیں۔ دو جڑواں افراد کے مطالعے سے یہ معلوم ہوا کہ جینڈر ڈائسفوریا کے نہ صرف نفسیاتی اسباب ہوتے ہیں‘ بلکہ حیاتیاتی اسباب بھی ہوتے ہیں۔ جنس تبدیل کرانا ایک پیچیدہ عمل ہے‘ ایک سروے کے مطابق ان میں سے تقریباً پچاس فی صد لوگ جنس تبدیل کرانے کے مختلف مراحل سے گزرتے ہیں۔سب سے پہلے ایسے ماہرِ نفسیات سے رابطہ کیا جاتا ہے جوایسے لوگوں کا علاج کرتا ہے اورWorld Professional Assocation for Transgender Health سے منسلک ہے۔پھر ماہرِ نفسیات پہلے اس کے ذہن کو تبدیل کرنے میں مدد کرتا ہے اور اس کوایسے طریقے بتاتا ہے کہ

سوسائٹی میں رہتے ہوئے کیسے لوگوں کو یقین کروائے کہ اس کی جنس وہ نہیں ہے جس کے ساتھ وہ پیدا ہوا تھا‘ بلکہ درحقیقت وہ ہے جو اس کا ذہن اس کو بتاتا ہے۔پھر وہ اپنی پیدائشی ساخت سے متضاد جنس کی طرح کپڑے پہننا شروع کرتا ہے اور لوگوں سے بھی کہتا ہے کہ اس کواسی جنس سے مخاطَب کریں اور عام طور پر اپنا نام بھی تبدیل کرکے متضاد جنس کے مطابق رکھ لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ Endocrinologist یعنی وجود کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ماہریاجنسی ہارمونز کے سپیشلسٹ کے پاس جاتا ہے‘ اگر مرد عورت بننا چاہتا ہے تو وہ نسوانی ہارمونز پینا شروع کردیتا ہے‘اس سے اس کے پٹھے نرم ہوجاتے ہیںنسوانی اعضا میں تبدیلی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے ‘جسم کے بال جھڑ جاتے ہیں اور Testosterone

ہارمونز کا لیول کم ہوجاتا ہے۔ہارمونز سے مراد ایک سیال مادہ ہے جو غدود سے نکل کر خون میں شامل ہوجاتا ہے۔ اگر عورت مردبننا چاہتی ہے تو مردانہ ہارمونز یا Androgensلیتی ہے جس کی وجہ سے اس کے پٹھے مضبوط ہوجاتے ہیں ‘ حجم بڑھ جاتا ہے ‘جسم اور چہرے پر بال اُگنا شروع ہوجاتے ہیں ‘ آواز مردانہ ہوجاتی ہے ۔Androgensسے مراد وہ مادہ ہے جو عورت میں ثانوی مردانہ خصوصیات پیدا کرتا ہے۔ اس طریقۂ علاج میں تقریباً تین ماہ سے پانچ سال تک لگ سکتے ہیں۔اس کے بعدسرجری کا مرحلہ آتا ہے جو سب سے پیچیدہ عمل ہے‘ تقریباً پچیس فی صد لوگ اس عمل میں مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور Mastectomyاور Implant کے ذریعے زنانہ اور مردانہ اعضا ئے مخصوصہ ترتیب پاتے ہیں۔ دوسرے

مرحلے میں نئے جنسی اعضاکی پیچیدہ ساخت کا عمل شروع ہوتا ہے‘اسے پلاسٹک سرجری یا Genital Reconstructive Surgery کہاجاتا ہے۔ WPATHکے مطابق چند فیصد اشخاص ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد پچھتاوے کا اظہار کرتے ہیں اور واپس اسی جنس کو اختیار کرنا چاہتے ہیں جس پر وہ پیدا ہوئے تھے۔امریکہ میں یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور Transgender کی اصطلاح اسی قسم کے لوگوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے‘ڈاکٹر خالد اعوان صاحب نے اسی کو ”تغیرِخَلق‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کرنے سے تعبیر کیا ہے‘ جوقرآنِ کریم کی رُو سے شیطانی عمل ہے۔ موجودہ دور میں فضا تلبیسِ ابلیس اور شیطانی ترغیبات کے لیے زیادہ سازگار ہے ‘جنسی اور سفلی جذبات پر برانگیختہ کرنے کے لیے بصارت وسماعت کے لیے ہرسو چراگاہیں کھلی ہیں ۔ایسے ماحول میں بطورِخاص مغربی ممالک میں نوجوانوں کابڑی

تعداد میں اپنی دینی اور اخلاقی اَقدار پر قائم رہنا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے ‘کیونکہ وہاں نئی نسل میں بے راہ روی عام ہے ‘سوجب میں وہاں اسلامی مراکز اور بعض خاندانوں میں نوجوان لڑکیوں کو حجاب میں اور نوجوان لڑکوں کو دینی وضع میں دیکھتا ہوں تو دل سے اُن کے لیے دعائیں نکلتی ہیں اور میرا جی چاہتا ہے کہ اُن میں سے ہر ایک کا استقبال گلے میں ہار ڈال کر کیا جائے ‘ اُن کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں دعائوں سے نوازا جائے ‘اسی طرح ہمارے بعض نوجوان جدید تعلیم کے میدان میں قابلِ فخر پیش رفت کر رہے ہیں ‘اُن کی بھی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔امریکہ اور مغرب میں سکول گریجویشن تک تو تعلیم مفت ہے‘ لیکن اس کے بعد مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں یونیورسٹیوں کی سطح تک فیسیں بہت

زیادہ ہیں ‘اعلیٰ مشاہرہ پانے والے آئی ٹی کے ایک پی ایچ ڈی پروفیسر نے بتایا:جب میں اپنے بچوں کی فیسیں ادا کرتا ہوں توجیب خالی ہوجاتی ہے‘حالانکہ اُن کو جزوی طور پر سکالرشپ بھی مل رہا ہے ‘اُن کے بچے امریکہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم پارہے ہیں ‘‘۔سو امریکہ میں مقیم ایسے جوہرِ قابل نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے اہلِ ثروت کو ایک تعلیمی فنڈ قائم کرنا چاہیے ۔(بشکریہ روزنامہ دنیا)