فلم انڈسٹری کوبرگد کا درخت بنائیے۔۔۔ راؤ منظر حیات

پاکستان اور انڈیا کی فلم انڈسٹری تقسیم برصغیرکے وقت تقریباً تقریباً برابر تھی۔ لاہور اور کراچی، ہمارے ملک میں فلم بنانے کے مرکز بن چکے تھے۔ ہندوستان میں بمبئی اس شعبہ میں مرکزیت اختیار کر چکا تھا۔ اب بمبئی ممبئی بن چکا ہے۔ اِس وقت دونوں ممالک کی فلم انڈسٹری میں حددرجہ فرق آچکا ہے۔ ستر کی دہائی کے بعدہمارے ملک میں ایک خاص طرز کی اخلاقیات کو سرکاری سطح پر رائج کیا گیا۔ ملک سے اچھے شاعر، نغمہ نگار اور سوچنے والے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ فلم بنانے کے لیے اتنے مسائل کھڑے کر دیے گئے کہ انڈسٹری ہی دم توڑ گئی، نگارخانے بند ہو گئے، اکثریت کو گرا کر ہاؤسنگ کالونی بنا دیا گیا۔ لاہور کا مشہور ترین بلکہ مصروف ترین اسٹوڈیو، کو مالکان نے گودام بنا دیا۔ اس شعبہ سے منسلک لوگوں پرروزگار کے دروازے بند کر دیے گئے۔ ملک میں اس طرح کی گھٹن پیدا

کر دی گئی کہ کسی بھی صاحبِ فکر آدمی کو سانس لینا مشکل ہو گیا۔ خوبصورت ترین سینما گھروں کو شاپنگ پلازے بنتے تو ہم سب نے دیکھا ہے۔اس صورتحال کے بالکل برعکس، ہندوستان نے فلم انڈسٹری پر حددرجہ توجہ دی۔ انسان حیران ہو جاتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے انڈیا سالانہ فلمیں بنانے والاسب سے بڑا ملک ہے۔ پچھلے برس، وہاں دو ہزار کے قریب فلمیں بنائی گئیں۔ یہ شرح ہالی وڈ سے تین گنا زیادہ ہے۔ امریکا میں مجموعی طور پر پچھلے برس آٹھ سو چالیس فلمیں ہیں۔ ہاں، چین میں ہالی وڈ سے زیادہ فلمیں بنائی گئیں۔ یہ تعداد نو سو کے قریب تھی۔ کیا جاننا چاہیں گے کہ دنیا کی فلم انڈسٹری میں کتنا پیسہ موجود ہے۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ انڈسٹری ڈیڑھ سو بلین ڈالر سے اوپر ہے اور موجودہ صورتحال میں انڈیا اس میں ایک نمبر پر آچکا ہے۔اگر باکس آفس کی مارکیٹ کو دیکھیں تو عالمی مارکیٹ چالیس بلین ڈالر کی بنتی ہے۔ اس میں ہندوستان پہلے تین میں آ چکا ہے۔ عالمی باکس آفس پر پاکستان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ آپ اوپر سے نیچے تک فہرست کو دیکھئے۔ نائجیریا تک نظر آجائیگا، مگر ہمارے ملک کی فلم انڈسٹری کا کہیں نام ونشان نہیں ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ پچھلے چند سالوں میں ہماری فلم انڈسٹری میں بہتری آئی ہے۔ چند ملٹی پلکس سینما بھی بنائے گئے ہیں مگر ہم عالمی سطح پر اپنا وجود منوانے میں موثر ثابت نہیں ہو پائے۔ گزارش ہے کہ فلم بنانا اور اس سے منسلک چیزیں، ایک بھرپور کاروبار ہے۔ اسے انڈسٹری کہا جاتا ہے۔ انڈیا اور امریکا، اس کاروبار کی بدولت حددرجہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ پوری دنیا کے ہر ملک پر ان کی چھاپ موجودہے۔ مگر ہم صلاحیت ہونے کے باوجود ابھی تک ’’نکو‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں ہماری فلمیں نہیں دیکھی جاتیں۔ ایک دو دن کے لیے، اگر غیرملکی سینما ہماری فلم چلا بھی

دے، تو تیسرے دن اسے گھاٹا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس جب ملک کی نوجوان نسل کو دیکھتا ہوں تو ہر لحاظ سے حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ وہ ہر نئی جہت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ فیشن ڈیزائننگ میں جھنڈے گاڑ سکتے ہیں، تو اچھی فلمیں بنانا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ہمارے پاس انتہائی صلاحیت والے نوجوان بچے اور بچیاں موجود ہیں۔ مگر سرمایہ کاری نہ ہونے کی بدولت، اکثر فنکار اپنا ٹیلنٹ دکھائے بغیر کوئی اور کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس پر سوچنا ضروری ہے۔ دراصل ہم نے فلم انڈسٹری کو اخلاقیات کے ساتھ نتھی کر دیا ہے بلکہ تابع کر ڈالا ہے۔ ہمارا ایک ایسا دور بھی تھا جس میں اس اَمر پر بھی حکومتی فیصلہ تھا کہ ہیرو اور ہیروئن گانے کے دوران کتنا قریب آسکتے ہیں۔ دوپٹہ کس طرح استعمال کرنا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم جس اخلاقیات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، کم ازکم مجھے تو وہ اپنے ملک میں عملی

طور پر کہیں نظر نہیں آتیں۔ دلیل سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ ’’دخترِرز‘‘ کا استعمال قوانین کے تحت مکمل طور پر ممنوع ہے۔ کسی سے پوچھ لیں کہ صاحب کیا آپ شام کی مصروفیت میں ’’مشروب خاص‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ آپکو نہیں اور صرف نہیں کا جواب ملے گا۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔امیر سے لے کر امیر ترین، غریب سے لے کر غریب ترین، کسی نہ کسی طرز کا نشہ کر رہا ہے۔ بڑے شہروں، قصبوں کی کسی سماجی تقریب میں چلے جائیے۔ اَسی فیصد لوگ خشک گلے کو تر کرنے کا اہتمام کر رہے ہونگے۔ بات صرف مردوں کی نہیں ہے۔ اس شوق میں خواتین بھی صفِ اول میں شامل ہیں۔ ہاںصبح کے وقت ہر انسان، گزشتہ شب کی کارگزاری سے سو فیصد انکار کرتا نظر آتا ہے۔ دراصل ہوا یہ ہے کہ ہم سارے دہری زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ ایک شخصیت وہ، جو سب کے سامنے ہے۔

پوتر، شریفانہ بلکہ تقریباً فرشتوں جیسی۔ اور ایک چھپی ہوئی شخصیت ہے جو حددجہ رنگین اور معطر ہے مگر اس کا اعتراف کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ یہ منافقت نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اس سے بڑھ کر ہے۔ تخلیقی قوتوں اور ذہنی توانائی کو مصلوب کر دیا گیا ہے۔ بعینہ یہی سب کچھ مقامی فلم انڈسٹری کے ساتھ ہوا ہے۔ اس سے منسلک لوگوں کو بہتر مقام دینے کے بجائے ان کی تحقیر کی گئی ہے۔ انھیں سماج کا کیچڑ ثابت کرنے کی بھرپور کاوش ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں فلم تو کیا، کوئی بھی پروگریسیو اور لبرل آرٹ پنپ نہیں سکتا۔مگر اب صورتحال تھوڑی سی تبدیل ہو رہی ہے۔ پڑھے لکھے اور اچھے خاندانوں سے لڑکے اور لڑکیاں فلموں کی طرف آرہے ہیں۔ ایکٹنگ کو اس برائی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا رہا۔ نتیجہ یہ کہ پاکستان میں چند برسوں سے چند معیاری فلمیں بننی شروع ہو چکی ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی بین

الاقوامی معیار کی نہیں ہے۔ ہم لوگ ایک بنیادی نکتہ نہیں سمجھ رہے اور نہ ہی سمجھا پا رہے ہیں کہ فلم بنانا ایک کاروبار ہے۔ اس سے ملک اور لوگ امیر ہوتے ہیں، دولت کی تقسیم ہوتی ہے۔ ہالی وڈ کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔ ہندوستان میں فلم کے شعبہ سے منسلک لوگ اس درجہ امیر ہیں کہ یقین نہیں آتا۔ ’’شاہ رخ خان‘‘ صرف فلموں میں کام کرنے سے تقریباً ایک بلین ڈالر کی ملکیت کا حامل ہے۔ 2014 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’پی کے‘‘ ہندوستان اور پوری دنیا میں پانچ سو ملین ڈالر سے زیادہ کا کاروبار کر چکی ہے۔یعنی اتنا منافع کما چکی ہے۔ انڈیا کا باکس آفس ریونیو ایک سو گیارہ بلین ہندوستانی روپے سے زیادہ ہے۔ وہاں ایک سال میں دو ارب سے زائد لوگ، سینما دیکھنے جاتے ہیں۔ پانچ سال بعد کے اعداد و شمار کیا ہونگے۔ اس کے متعلق تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک سال قبل دنیا کے طاقتور ترین وزیراعظم نے ہندوستان کا

سرکاری دورہ کیا۔ اس نے فرمائش کی کہ انڈیا کے مقبول ترین اداکار اور اداکاراؤں کے ساتھ سلفی بنوانا چاہتا ہوں۔ سرکاری طور پر اس کا اہتمام کیا گیا کہ امیتابھ بچن، عامر خان اور اس شعبے سے منسلک مشہور خواتین نے اس وزیراعظم کے ساتھ ایک سیلفی بنوائی۔ اس چیزکا ہمسایہ ملک کو کتنا سفارتی فائدہ ہوا ہو گا، کم ازکم طالبعلم اس کا مکمل ادراک نہیں کر سکتا۔ مطلب یہ کہ بین الاقوامی سطح کی معیاری فلمیں بنانا صرف کاروباری سطح پر ہی منافع بخش نہیں، بلکہ سماجی اور غیرملکی تعلقات کے اندر بھی کلیدی رول اختیار کر چکی ہیں۔’’بجرنگی بھائی جان‘‘ پاکستان اور ہندوستان کے مابین مشکل تعلقات پر بنائی گئی نایاب فلم ہے۔ یہ فلم میں نے امریکا کے شہر ’’ڈیلس‘‘ میں دیکھی تھی۔ پورا سینما ہال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ پاکستانی، ہندوستانی فیمیلز موجود تھیں۔ پر جتنے دیسی موجود تھے اتنی ہی تعداد میں گورے گوریاں

موجود تھے۔ فلم کے اختتام پر دیسی اور گوروں دونوں کو روتے ہوئے دیکھا تھا۔ بجرنگی بھائی جان نے پوری دنیا میں ایک ہزار کروڑ روپے کا کاروبار کیا تھا۔ غیرملکی لوگ بھی انتہائی شوق سے اسے دیکھنے آرہے تھے۔ یہ سب کچھ کیا ہے۔ کیوں ہے۔ دراصل اچھی فلم کسی بھی ملک کی ملکیت نہیں ہوتی۔ یہ ملکی شناخت تو ہو سکتی ہے مگر اسکو دیکھنے والے دنیا کے ہر کونے میں موجود ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بیحد خوبصورت فلمیں بنی مگر آہستہ آہستہ سرکاری بے توجہی کی بدولت انڈسٹری کے مسائل اس درجہ بڑھ گئے کہ پورا شعبہ ہی بیٹھ گیا بلکہ دفن ہو گیا۔ اب زمین میں تین سو فٹ نیچے سے انڈسٹری کو نکالنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن ناممکن ہرگز نہیں ہے۔ہمارے ملک میں ایک سے ایک بڑھ کر تخلیق کار موجود ہے۔ ذہین سے ذہین فنکار موجود ہے۔ کمال کے کہانی نویس ہیں۔ لازوال موسیقار موجود ہیں۔ سب سے بڑھ کر نفیس

پروڈیوسر موجود ہیں۔ مگر اس کے باوجود سرمایہ کاری تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ سیٹھ حضرات، فلور مل تو لگا لیںگے مگر فلم بنانے کی جرأت نہیں کرینگے۔ چنانچہ اس صورتحال میں حکومت کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر کوئی آدمی سرمایہ کاری کرنا چاہے تو حکومت اس کے ساتھ پچیس سے پچاس فیصد کی شراکت داری کرے۔ اگر نقصان ہو، تو اس کے نقصان میں بھی شامل ہو۔ ان سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کے علاوہ درجنوں اقدامات ہیں جن سے اس انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ٹیکس کم کرنے سے لے کر، لوگوں کے معاوضہ تک کئی ایسے معاملات ہیں جس میں صوبائی یا مرکزی حکومت ایک مثبت رول ادا کر سکتی ہے۔ پاکستان اس وقت کپڑا، تولیے اور بیڈشیٹس بیچ کر دس گیارہ ارب ڈالر کما رہا ہے۔ اگر ہم صرف اچھی فلمیں بنانی شروع کر دیں تو صرف پانچ سے دس برس میں، دس گیارہ

ارب ڈالر کی فلم ایکسپورٹ کے نزدیک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان میں اتنا ٹیلنٹ ہے کہ ہم اس شعبہ میں دنیا کے کسی بھی کامیاب ملک کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مقابلہ کیا، انھیں شکست دے سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اب ملک میں ایسی درسگاہیں موجود ہیں جہاں فلم کے تمام شعبوں کے متعلق تعلیم دی جا رہی ہے۔ ڈائرکشن، ایڈیٹنگ اور ہر طرح کے شعبوں کو جدید خطوط پر سمجھایا جا رہا ہے۔ اس میں سیکڑوں بچے اور بچیاں زیرِتعلیم ہیں۔دیکھا جائے تو صرف اور صرف ڈاکٹر اور انجینئر بننے کا دور گزر چکا ہے۔ ویسے میرے حساب سے تو سی ایس ایس کرنا بھی بے توقیر ہو چکا ہے۔ غیرروایتی فیلڈ اب حددرجہ اہم ہو چکے ہیں۔ فیشن انڈسٹری کا نام کسی نے نہیں سنا تھا۔ آج وہ ایک تناآور درخت بنکر پاکستان کی شناخت بن چکی ہے۔ فلم انڈسٹری بھی بالکل اسی طرح ہے۔ ان پر توجہ دینے والے افرادکی تعداد غیرمعمولی حد تک بڑھ رہی ہے۔ سب سے بڑی بات اسکو صرف کاروبار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ اسکو کافی حد تک اخلاقیات سے نہیں جوڑا جا رہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فلم انڈسٹری کو حکومتی اور غیرحکومتی سطح پر اتنا توانا کیا جائے کہ یہ ایک چھوٹے سے پودے سے بڑھ کر برگد کا سایہ دار درخت بن جائے۔ اس ترقی سے ہر سطح کے لوگ مستفید ہوں گے۔ پر ابھی یہ سب کچھ ہوتا نظرنہیں آرہا!(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)