سیاحت ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔۔۔راؤ منظر حیات

اسٹاک ہوم میں تمام دن سرکاری میٹنگز اور بریفنگز سے تھک چکاتھا۔ پوری دنیامیں حکومتی طریقہ کارایک جیسا ہے۔وہی پاورپوائنٹ پرچارٹ اورتصاویر۔وہی اعدادوشمار، جوکبھی حتمی نہیں ہوتے اورتقریباًایک جیسے انسانی رویے۔ شام ہوچکی تھی۔ابھی ایک بریفنگ باقی تھی۔ سویڈ فنڈکے دفترجاناتھا۔یہ ایک ادارہ ہے جوسرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پوری دنیامیں کام کرتاہے۔اسکابجٹ چار بلین ڈالرسے زیادہ ہے۔مگرمجھے اس سے کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس کے بعدکوئی میٹنگ نہیں تھی اورمیں اپنے کمرے میں جاکرسکون سے سوسکتاتھا۔میٹنگزصبح نوبجے سے مسلسل جاری تھیں۔عرض کرتاچلوں،کہ ایک سطح پر آکر ملک اورشہربے معنی ہوجاتے ہیں۔تمام تغیرات کے باوجود، ایک جیسے۔ہرخطہ ایک دوسرے سے مختلف بھی ہے اورایک جیسابھی۔ویسے انسانی نفسیات

توپوری دنیامیں ایک جیسی ہے۔وہی ذاتی ترقی کاابتدائی جنون اورہرچیزحاصل کرنے کے بعد،صرف اور صرف سکون کی تلاش۔ سویڈ فنڈ کی میٹنگ میں تقریباًبیس منٹ پہلے پہنچ گیا۔ دفتر کی راہداری میں ایک میزلگی ہوئی تھی۔ایک بوڑھاگورا میزپر پانی کی بوتلیں،چائے کے ڈسپوزیبل کپ اوربسکٹ رکھ رہا تھا۔ہم چھ سرکاری افسر تھے۔وہ ہمیں دیکھ کرمسکرایااورمرکزی کمرے میں جانے کا اشارہ کیا ۔ ہم چھوٹے سے میٹنگ ہال میں چلے گئے۔ بوڑھاآدمی چائے کاسامان لگاتارہا۔ ہمارا خیال تھاکہ سویڈفنڈکاکوئی نچلے درجے کااہلکار ہوگا۔ یا کوئی ایساشخص جوریٹائرمنٹ کے بعدمصروفیت کے لیے کام کر رہا ہے۔ متعین وقت پروہی سفیدبالوں والابزرگ ساآدمی میٹنگ روم میں آیااورہم سب کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ معلوم ہوا کہ سویڈفنڈکاایم ڈی اورپورے ادارے کاسربراہ ہے۔ شروع میں کسی کوبھی یقین نہ آیاکہ وہ اتنے بڑے ادارے کاہیڈہے۔کیونکہ ہم لوگ توسرکاری کروفر،جعلی دبدبے اورقرض سے فراہم شدہ آسائشوں کے عادی ہیں۔ ہمارے عالیشان دفاتردیکھ کریوں لگتاہے کہ دنیاکے سب سے امیرملک کے شہری ہیں۔شہری نہیں،سرکاری افسر ہیں کیونکہ عام شہری توہمارے ملک میں کسی بھی اہمیت کاحامل نہیں ہے۔بوڑھے آدمی اوراس کی باتوں نے کم ازکم میرے لیے کمال دلچسپی پیداکردی۔سادہ سی باتیں کررہا تھا۔ اس کا کہنا تھاکہ انتہائی مشکل معاملات بھی سادہ طریقے سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ویسے بات ٹھیک تھی۔لیکن ہم اپنے خطے میں ایک دوسرے کے لیے مشکلات پیداکرنا فرض سمجھتے ہیں، لہٰذا اس کی باتوں میں اکثریت کے لیے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔وہ کافی سنجیدہ آدمی لگااورمیٹنگزکے بعدہماری گفتگو شروع ہوگئی۔پہلاسوال اسکاتھاکہ سویڈن کیسا لگا۔ میرا جواب تھاکہ متعدد بارسویڈن آیاہوں۔بہترین ملک ہے۔ اپنے ملک کی

تعریف سن کرویسے ہرانسان خوش ہوتا ہے۔اس شخص کانام یادنہیں رہا۔سویڈن میں لوگوں کے نام ویسے ہی مشکل ہیں۔سوال کیاکہ کیاآپ کبھی پاکستان آئے ہیں۔ جواب نفی میں تھا۔ساتھ ہی کہنے لگاکہ اٹھائیس بارانڈیاگیا ہوں۔ چھٹیاں راجھستان گزارتارہاہے۔بابا طویل دورانیے تک راجھستان کے شاہی محلات،جواب ہوٹل بنادیے گئے ہیں کا ذکر کرتا رہا۔مقامی لباس، تقریبات،لوک رقص کے متعلق بتاتا رہا۔ میٹنگ کے بعد کمرے میں آکرکافی دیر سوچتارہاکہ اگرایک گورا،یورپ سے اپنے پیسے خرچ کرہندوستان کے علاقے راجھستان میں ہفتوں ٹھہرسکتاہے تواسے پاکستان آنے سے کس نے روکاہے۔ہماراصحرائی علاقہ،یعنی چولستان بھی خوبصورتی کی ایک کمال مثال ہے۔ میں بہاولپورمیںتین سال رہاہوں۔صحراکوبخوبی دیکھ چکاہوں۔وہاں کے معاشرے کی نرمی کاگواہ ہوں۔پھرکیاوجہ ہے کہ سیاح ہندوستان جاکر صحراکودیکھناپسندکرتے

ہیں اورہماری جانب متوجہ نہیں ہوتے۔علاقے توبالکل ایک جیسے ہیں۔کافی دیرسوچنے کے بعدذہن میں جواب آیاکہ اصل طاقت مارکیٹنگ کی ہے۔انڈیانے اپنی سیاحت کی مارکیٹنگ جدیدترین خطوط پر کی ہے۔ہم اپنی مارکیٹنگ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ویسے بہت سی اوربھی وجوہات ہیں۔ مگر مجموعی طورپرسیاحت کے حوالے سے انڈیانے اپناتاثربہت بہتربنایا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے ہم لوگ اپنے ملک کے خوبصورت ترین مقامات کے متعلق بھی اس طرح دنیاکونہیں بتاسکے جوان علاقوں کا حق ہے۔ویسے1977ء تک ایسا نہیں تھا۔ پاکستان میں سیاح قطاراندرقطارآتے رہتے تھے۔ افغانستان کے معاملات اور اس کی طویل جنگ نے ہمارے معاشرے میں بہت سے منفی تبدیلیاں کر ڈالیں۔ سیاحت کاقتل،اسی جنگ کاایک زہریلا پھل ہے۔پاکستان کی سیاحت ہماری تنگ نظری کی بدولت حددرجہ متاثرہوئی ہے۔موجودہ دنیامیں کئی ایسے

ممالک ہیں جنکی معیشت چل ہی سیاحت پررہی ہے۔ پوری دنیاکی دس فیصدجی ڈی پی سیاحت کی بدولت ہے۔شائدآپکویقین نہ آئے کہ صرف سیروتفریح،دنیامیں کروڑوں لوگوں کو روزگار مہیاکررہی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں مالدیپ جزیروں پرمشتمل ایک چھوٹاساملک ہے۔اس میںکوئی صنعت نہیں ہے۔ مگر یہ سیاحوں کے لیے جنت ہے۔اس ملک میں ایک سوچھبیس ساحلی بیچز اوران میں دنیاکے بہترین ہوٹل ہیں۔ دو سو جزائر اورچارسے پانچ لاکھ نفوس پرمشتمل مالدیپ اپنی معیشت کا بائیس فیصد سیاحت سے کمارہاہے۔یورپ کی مثال نہیں دینا چاہتا۔ورنہ فرانس،یوکے،اسپین سیاحت سے ناقابل یقین حدتک پیسہ کمارہے ہیں۔ان ممالک کاذکرکرناویسے ہی عجیب لگتاہے۔کیونکہ ہم اس فہرست سے ہی نکل چکے ہیں جہاں سرکاری نظام سیاحت کو سپورٹ کرتاہے۔ہندوستان کا جائزہ لیجیے۔سیاحت سے ہمسایہ ملک دوسوچالیس بلین

ڈالرحاصل کررہاہے۔وہاں چارکروڑلوگ،اسی صنعت سے منسلک ہیں۔ہندوستان کی جی ڈی پی کانوفیصد سیاحت سے منسلک ہے۔ایک کروڑ سے سواکروڑغیرملکی سیاح ہر سال وہاں آتے ہیں۔صرف تامل ناڈومیں چالیس لاکھ غیرملکی سیاح سالانہ آتے ہیں۔ پاکستان میں تمام ترقدرتی خوبصورتی کے باوجود صرف انیس لاکھ غیرملکی آتے ہیں۔ اس میں ملکی اورغیرملکی سیاح دونوں شامل ہیں۔پاکستان میں ہرحکومت نے صنعتی ترقی کواہمیت دی ہے۔حددرجہ مراعات دیکربرآمدات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔تاجروں نے ہرحکومت سے وہ فائدے حاصل کیے ہیں جوکسی اورملک میں نہیں ہیں۔ایوب خان سے لے کرآج تک ہروزیراعظم نے برآمدی سہولتیں اورامدادی پیکیج دیے ہیں۔کیابینظیربھٹو،کیانوازشریف،کیاشوکت عزیزاور کیا عمران خان سب نے ایسا ہی کیا ہے۔مگرنتائج کیا ہیں۔ 2007ء سے لے کرآج تک ہماری کل

برآمدات سترہ بلین ڈالر سے لے کربائیس بلین ڈالرسالانہ تک بڑھی ہیں۔یعنی تمام گھن گرج،بے پناہ مراعات کے نتائج کوئی خاطرخواہ نتائج نہیں دے پائے۔اس کی بے شماروجوہات ہیں۔اس کالم میں ان پر سیرحاصل بحث نہیں ہوسکتی۔مگرکیایہ سوال جائز نہیں ہے کہ وہ شعبہ جس میں پاکستان قدرتی طور پرحددرجہ مضبوط ہے۔ اس شعبے کو کتنی سہولیات دی گئیں ہیں۔سیاحت وہی بدقسمت شعبہ ہے،جسکوکسی قسم کی کوئی عملی اہمیت نہیں دی گئی۔زبانی جمع خرچ کے سوا کوئی ایسے مضبوط فیصلے نہیں کیے گئے،جس سے سیاحت پاکستان کی شناخت بن پائے۔ صاحبان، سیاحت ہماری ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوسکتی ہے۔یہ سالانہ سوبلین ڈالرپیداکر سکتی ہے۔ مگر جدید ترین سہولیات پہنچانے کافیصلہ کرنے کی جرات کون کریگا۔ارادن شمالی قدرتی علاقوں کی ساحرانہ حیثیت پر بات کرتے رہتے ہیں۔آسمان زمین کے قلابے ملاتے ہیں بلکہ

کسی حدتک مبالغہ بھی کرتے ہیں۔مگرآپ نے کبھی یہ سنا ہے کہ سمندرسے منسلک علاقے،یعنی کراچی سے لے کر گوادر تک،کتنابڑاسیاحتی سرمایہ توجہ کامحتاج پڑاہوا ہے۔سات سو کلومیٹر کی یہ ساحلی پٹی دنیاکی بہترین سیاحتی مقام میں تبدیل ہوسکتی ہے۔کسی ملک کے پاس اتنی لمبی سمندری پٹی نہیں ہے جس پرشاندارہوٹل اوربیچ بنائے جاسکیں۔اس پرہرپچیس سے پچاس کلومیٹرکے فاصلے پرفائیواسٹارہوٹل اور بیچز بنانا حددرجہ آسان ہے۔غیرملکی اس طرح کی ساحلی پٹی کے دیوانے ہیں۔اندازہ ہی نہیں کرسکتے کہ زرِمبادلہ، بارش کی طرح ہم پربرسے گا۔ہماری ڈوبتی ہوئی معیشت کوسہارا نہیں، عمودی ترقی کاموقع ملے گا۔مگراس ترقی کے لیے انتہائی سنجیدہ سیاسی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔اس سات سوکلومیٹرپرسرمایہ کاری بھی بیرونی کمپنیوں کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔ہم ایک ٹکہ خرچ کیے بغیرصرف اس

مختصربیلٹ سے ہی ملک کو معاشی طورپرمستحکم کرسکتے ہیں۔ویسے ذوالفقارعلی بھٹونے ایساکرنے کی کوشش کی تھی۔اسے اپنی جدت پسندی کی بھرپورسزادی گئی۔کراچی میں غیرملکیوں کے لیے بنایا گیا کسینو آج کھنڈربن چکاہے۔ اسی کراچی سے گوادرتک کاساحلی علاقہ،ہیروں کی کان سے بھی بڑھ کرہے۔دنیااسی طرح کے بیچزکے لیے ترستی ہے۔آپ کواگریہ خطرہ ہے کہ ان سے آپ کے انتہائی پاک ملک میں فحاشی بڑھے گی،توان تمام کو صرف غیرملکیوں کے لیے مختص کردیجیے۔کوئی مسئلہ نہیں۔اصل نکتہ توغیرملکی سرمایہ کوپاکستان لاناہے۔ویسے کیایہ عجیب سامعاملہ نہیں،کہ گوادرسے صرف چارسومیل دوردبئی جیسا مصنوعی شہر آباد کیا گیا ہے۔جہاں دنیاکی ہرسہولت اورتفریح موجودہے۔جس کی کوئی صنعت نہیں۔صرف سیاحت اور سہولتوں کے بل بوتے پرتمام دنیاکی نظروں میں آچکا ہے۔ مگرہم

ہرقدرتی سہولت ہوتے ہوئے بھی بھکاریوں کی طرح ملکوں سے امداد اورخیرات مانگ کرسرخروہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ یواے ای کے حکمران نے دبئی بنانے کے تمام خیالات ہم سے مستعارلیے تھے۔ہم اس درجہ بیوقوف ہیں کہ اپنی ترقی کو نعروں کی بدولت بربادکرکے پورے مشرقی وسطیٰ کو جدید بناچکے ہیں۔صرف سیاحت پرہی کوئی فیصلہ ہوجائے توملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)