سب کچھ جھوٹ ہے، جھوٹ کے سواکچھ نہیں۔۔۔ سعد اللہ جان برق

اور یہ ہم کسی گیتا، سیتا یا ببیتا، نمیتا پر ہاتھ رکھے بلکہ نظر ڈالے بغیر کہتے ہیں کیوں کہ گیتا، سیتا ، ببیتا اور نمیتا بلکہ کسی بھی خاتون پر ہاتھ رکھ کر جو کچھ بولا جاتا ہے وہ کم از کم وہ نہیں ہوتا جس کے لیے قسم کھائی گئی ہو۔اور جھوٹ بھی آپ شاید حسب عادت، حسب فہم اور حسب معمول وہی سمجھ رہے ہوں گے جو بولا جاتا ہے یا لکھا جاتا ہے یا سنا اور سنایا جاتا ہے، بالکل بھی نہیں کیوں کہ یہ تو جھوٹ کی بہت پرانی قسم یا ماڈل ہے۔ اب تو جھوٹ میں اتنے اضافے کیے گئے ہیں، اتنی گلکاریاں پرکاریاں، فنکاریاں اور کلاکاریاں کی گئی ہیں کہ اب بولنے اور سننے کے علاوہ دیکھنے دکھانے ، کرنے کرانے ، کھانے پینے اوڑھنے، پہننے ، چلنے چلانے مطلب یہ کہ سب کچھ میں سرایت کر چکا ہے، انسان کی صرف باتیں ہی جھوٹی نہیں ہوتیں اس کا حلیہ اس کا جسم آنکھیں کان ناک ہاتھ پیر بھاگ دوڑ، اٹھک بیٹھک بھی جھوٹ

ہوتا ہے بلکہ سب سے بڑا جھوٹ تو آدمی خود ہوتا۔کیا خیال ہے جو اس وقت دکھائی دے رہے ہیں، سنائی دے رہے ہیں ، سب کچھ ہانک رہے ہیں گا گا، گی گی اور گے گے کر رہے ہیں یہ جھوٹ نہیں ہیں۔ یہ لیڈر، یہ پارٹیاں، یہ جلسے جلوس، دھرنے مرنے یہاں تک شاعر و صورت گرو، افسانہ نویس اور چینل و ٹاک شوز و اینکر و بیان نویس جھوٹ نہیں ہے،جہاں تک ہمارا اپنا تعلق ہے ہم نے آج تک ’’سچ‘‘ کو کہیں پایا ہے جو سچ نظر آیا وہ بھی جھوٹ ہی نکلا سوائے ایک ’’سچ‘‘ کے جو سچ تھا سچ ہے اور سچ رہے گا، اور وہ ہے جھوٹ ۔ جھوٹ ایک ایسا سچ ہے جس سے خود سچ کو بھی انکار کی مجال نہیں ہے۔ جو کچھ آپ کے سامنے ہو رہا ہے، اس میں سچ کہاں ہے؟ کہیں بھی نہیں۔ غالبؔ نے اس کا اعلان بہت پہلے کر رکھا ہے۔بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے۔۔ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے۔۔اور تماشا تو جھوٹ ہی ہوتا ہے۔ کیا آپ خود کو بازیچہء اطفال میں نہیں پاتے جسے جھلایا جا رہا ہے اور جھولنے والے بچے کو ’’چاند‘‘ کی طرف متوجہ کیا گیا، اسے لٹایا اور جھلایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اسے صرف چاند نظر آئے اور وہ ہمک ہمک کر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اٹھا کر اسے پکڑنے کی کوشش کرے اور کچھ اور مانگنے کا دھیان ہی نہ آئے، لگا رہے ’’منا بھائی‘‘ کسی اور کا کیا جاتا ہے اور چاند کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ویسے تو دوسرا شعر بھی کم معنی خیز نہیں کہ ۔ایک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک۔۔ایک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے۔۔سلیمان کا تخت اور اعجاز مسیحا میں دونوں ہی ناممکنات کے سمبل ہیں اور اگر تھے بھی تو سلیمان اور مسیحا کے ساتھ ہی گئے۔ اب جو لوگ اس کے مدعی ہیں وہ انھیں کہاں سے لائیں گے اور۔۔جُز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور۔۔جز وہم نہیں صورت اشیاء مرے آگے۔اس زیادہ زبردست منظر کشی اس منظر کی ہو ہی

نہیں سکتی ہے۔ ہم دنیا کہتے ہیں ذرا ذہن پر زور دیجیے اس سامنے منظر کو بھی دیکھیے بیانوں، مکالموں، اخباروں، چینلوں میں سارے آنے والے ’’ناموں‘‘ پر دھیان دے دیجیے، صرف نام کے سوا اور کچھ ہیں؟ اور نام میں کچھ بھی نہیں رکھا ہوتا ہے۔ بہت سارے نام ہیں، گنتے گنتے زندگی کی شام ہو جائے گی۔ یہ عوام ان کے خادم ، بہبود ترقی حرکات سکنات ، تعمیرات، تقریبات، انصاف عدل قانون اور قانون کی چھوٹی بڑی سونیا۔ محکمے دفاتر، افسر، وزیر، ممبر کونسلر، ان میں کسی ایک کو بھی سچ کہا جا سکتا ہے؟ غلط فہمیوں کی اور بات ہے وہ تو آدمی ایک میل دور برف پر بیٹھ کر پہاڑ کی آگ کو بھی تاپ سکتا ہے ، خاکروب بھی کہہ سکتا ہے کہ یہ لوگ ’’ہم‘‘ سے آزادی مانگ رہے ہیں۔ وہ ایک قصہ تو ہم نے آپ کو سنایا ہے نا…کسی جگہ چار لوگ بیٹھے تھے ، اندھا ، بہرا، اپاہج اور ننگا۔ اندھے نے اپنی دھاک جماتے ہوئے کہا

وہ دیکھو، پہاڑ کی چوٹی پر دو چیونٹیاں لڑ رہی ہیں، بہرے نے کہا ٹھسا ٹھس کی آوازیں یہاں تک آ رہی ہیں، اپاہج نے کہا چلو دوڑ کر جاتے ہیں اور قریب سے تماشہ کرتے ہیں، وہ جو سر سے پیر تک ننگا تھا بولا، نہیں یار راستے میں ہمیں کوئی لوٹ لے گا۔کہیں بھی چیونٹیاں نہیں لڑ رہی ہیں، ہر ایک کو اپنی پڑی ہے اور دوسروں سے اپنا عیب چھپاتا ہے ورنہ کہیں پر کچھ بھی نہیں سوائے جھوٹ کے جو سب سے بڑا اور رائج الوقت سچ بھی ہے۔کتنے آئے کتنی بڑی بڑی سچائیوں کی پٹاریاں ساتھ لائے اور نایاب سانپ دکھانے کی امید دلا کر اپنی دوائیاں بیچ گئے، نہ سانپ سچ ہوتا ہے نہ پٹاری کے اندر کچھ ہوتا ہے، جھوٹ کی دوائیاں ہی دوائیاں ہیں جو بیچی جا رہی ہیں، کبھی اس بازار میں کبھی اس بازار میں۔فقیروں کا جمگھٹ گھڑی دو گھڑی۔۔شرابیں تری بادہ خانے ترے۔۔۔ایک زمانے میں ہم ایک ایسی جگہ رہتے تھے جہاں ان گشتی

حکیموں کی اکثریت تھی جو کسی مجمعے میں کوئی خاص ’’دوا‘‘ لانچ کر کے لوگوں کو بیوقوف بلکہ بیوقوفوں کو مزید بے وقوف بناتے تھے ، ان کے ہاتھ اگر کوئی پراڈکٹ چلے تو اپنے دوردور کے رشتہ داروں کو بھی اس کی خبر دیتے ہیں، وہ سارے حکیم یا مداری فارسی بان تھے اور ان کے رشتہ دار افغانستان، پاکستان، ہندوستان بلکہ سری لنکا اور نیپال تک بکھرے ہوئے تھے اور خطوط ہم سے لکھواتے تھے، تب ہمیں ان طبیبوں کی اور ان دواؤں کی حقیقت معلوم ہوئی تھی، ان دنوں ایک ’’حلوہ‘‘ (معجون) ان کے ہاں بیسٹ سیلر تھا۔البتہ ایک کمال ان میں تھا کہ ہر ملک کے حالات اور لوگوں کے ’’نباض‘‘ بلا کے تھے۔ اور یہ جان کاری رکھتے تھے کہ کن دنوں کن لوگوں کو کن امراض کی دوا بیچنی ہے۔ مطلب یہ کہ پورے پاکستانی لیڈر تھے کہ کب سوشل ازم بیچنے کا وقت ہوتا، کب اسلام کا ، کب انصاف کا اور کب استحکام کا ، ڈیموں کا، روزگار کا یا گھروں کا، یا کارڈوں کا، اور اس میں ان کا جاتا کیا ہے، ایک کی جیب سے نکال کر دوسرے کے ہاتھ پر رکھ دیتے ہیں اور آج کل تو یہ سلسلہ مزید تیز اور وسیع ہو گیا ہے ۔ایسے میں ’’جھوٹ’’ کو کہاں کہاں ڈھونڈا جائے گا، اس سے بہتر ہے کہ سب کچھ جھوٹ سمجھ کر آرام سے اپنا کام دیکھیں۔ اور اس چیز کی تلاش ہی نہ کریں جو سرے سے ہے ہی نہیں۔شاہد ہستئی مطلق کی کمر ہے عالم۔۔لوگ کہتے ہیں کہ ’’ہے‘‘ پر ہمیں منظور نہیں۔(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)