’ہندتوا‘ کی سیاسی معاشیات ۔۔۔ ڈاکٹر لال خان

اکیسویں صدی میں جنون بھی اتنا بے عقل اور نا سمجھ نہیں ہے جتنا باور کرایا جاتا ہے۔ اِس سرمایہ دارانہ سماج میں سیاست سے لے کے ریاست اور صحافت سے لے کے اخلاقیات تک سارے معاملے مالیاتی سرمائے کے غلبے میں ہوتے ہیں۔ یوں ان معاشی مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن کے حصول کے لئے مذہبی بنیاد پرستی کو ابھارا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی سماجی یا سیاسی رجحان اس وقت تک پنپ نہیں سکتا جب تک کسی طبقے یا طبقے کے کسی حصے کے مفادات کی نمائندگی نہ کرتا ہو۔ ہندوستان میں ‘ہندتوا‘ کا ابھار بھی کوئی حادثہ نہیں تھا۔ مقامی اور بین الاقوامی اجارہ داریوں کے منافعوں کے رستے میں مزدور تحریک اور قوانین کی جو رکاوٹیں حائل تھیں انہیں کچلنے کے لئے ہندومت کو ایک نئے انداز سے استعمال کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ پھر اِس مجوزہ مذہبی ریاست کو بہت سے ”بیرونی

خطرات‘‘ لاحق کروائے گئے۔ دنیا کی سب سے بڑی نیم فسطائی تنظیم ‘راشٹریا سوائم سیوک سنگھ‘ (RSS)، جس کے اراکین کی تعداد 50 لاکھ تک ہے، کے وحشی جتھوں کو استعمال کرتے ہوئے ‘سنگھ پریوار‘ کی پارٹیوں کو یکجا کیا گیا۔ اس سارے پراجیکٹ پر امبانیوں سمیت بھارت کے بڑے سرمایہ داروں نے بیش بہا پیسہ لگایا اور گھاگ سیاسی، سماجی اور تنظیمی ماہرین کے ذریعے ‘ہندو مت‘ کی ایک یکجا سیاسی قوت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی شکل میں ابھاری گئی۔ اس کی قیادت نریندر مودی کو دی گئی جو آر ایس ایس کے ایک ‘پرامپرک‘ (کیڈر) کے طور پر تربیت یافتہ تھا۔ ایک طرف کانگریس جیسی ”سیکولر‘‘ سرمایہ دارانہ پارٹیاں نام نہاد آزادی کے بعد کی کئی دہائیوں میں عوام کو کوئی آسودگی اور ترقی دینے سے قاصر رہیں تو دوسری طرف بڑا حجم اور حمایت رکھنے کے باوجود کمیونسٹ پارٹیوں کی سیاست بھی اسی نظام کی اصلاح پسندی میں غرق ہو کے رہ گئی۔ اِس فسطائیت کا مقابلہ ”جمہوریت‘‘ اور ”سیکولرازم‘‘ کی بنیاد پر کبھی ممکن نہ تھا۔ لیکن کمیونسٹ قیادتوں نے طبقاتی جدوجہد اور انقلابی سوشلزم کے نظریات کو یکسر فراموش کرتے ہوئے ‘ترقی پسند‘ سرمایہ دارانہ پارٹیوں کے ساتھ الحاق کی تباہ کن پالیسی اپنائی۔ ایسے میں کسی انقلابی متبادل کی عدم موجودگی میں ایک بحران زدہ معاشرے میں پھیلی وسیع بیگانگی اور غربت نے بی جے پی کو درمیانے طبقات اور محنت کش طبقے کی پچھڑی ہوئی پرتوں میں مقبولیت دی۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 34 سالوں میں سب سے بڑی پارلیمانی اکثریت والی بی جے پی کو ملنے والے کُل ووٹوں کی تعداد صرف 31 فیصد بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر جبر اور رجعتی اقدامات کے باوجود یہ حکومت ایک حد تک ہی لیبر قوانین کا خاتمہ، نجکاری اور معیشت کی ڈی ریگولیشن وغیرہ کر سکی۔ بھارتی

سرمایہ دار جتنی اور جن امیدوں سے مودی کو برسر اقتدار لائے تھے وہ پوری نہیں ہو سکیں؛ تاہم مودی کے زیادہ قریبی لوگوں نے بد عنوانی سے خاصا مال بنایا ہے۔ جس کا اندازہ ‘رافیل ڈِیل‘ کے سکینڈل سے ہوتا ہے جس میں بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی انیل امبانی، جو دیوالیہ ہو چکا تھا، کو مودی سرکار نے 30 ہزار کروڑ روپے کا ٹھیکہ دلوایا۔ اِس سکینڈل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ‘چمکتے ہندوستان‘ کا سرمایہ دار طبقہ کتنا بد عنوان اور رجعتی ہے۔ اِس خطے کے دوسرے ممالک کی طرح یہ حکمران طبقہ سات دہائیوں بعد بھی ہندوستان کو جدید صنعتی بنیادوں پر قائم یک جا اور صحت مند قومی ریاست بنانے میں نا کام رہا ہے۔ لیکن سرمایہ داری نے جس بیہودہ طریقے سے ہندوستانی سماج میں سرایت کی ہے اِس سے پسماندگی اور جدت کا بھیانک ملغوبہ بن گیا ہے۔ ایک طرف انفارمیشن

ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے۔ دوسری طرف ماضی بعید کے پسماندہ ترین رجحانات اور تعصبات سماج پر حاوی ہیں۔ یہی کیفیت یہاں کی تاخیر زدہ سرمایہ داری کی تاریخی نا مرادی کی غمازی کرتی ہے۔ گزشتہ کچھ دہائیوں سے ہندو بنیاد پرستی کو جو معاشی اور سماجی بنیادیں ملی ہیں اُن کا تعلق 1991ء کے بعد اپنائی جانے والی نیولبرل پالیسیوں سے ہے‘ جب اُس وقت کے کانگریسی وزیر اعظم نرسمہا رائو اور ورلڈ بینک کے سابقہ ملازم اور وزیر خزانہ من موہن سنگھ نے ”نہرووین سوشلزم‘‘ (ایک طرز کی ریاستی سرمایہ داری) کو منہدم کرنے کا آغاز کیا‘ اور اس پالیسی کے تحت تعلیم، علاج، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، کان کنی، مواصلات وغیرہ جیسے کلیدی شعبوں کو ریاستی تحویل سے نکال کر نجی ملکیت میں دینے (پرائیویٹائزیشن) کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ یہ ‘ٹریکل ڈائون اکانومی‘ کا وہی ماڈل تھا جو 1980ء کے بعد پوری

دنیا میں نظر آتا ہے کہ سرمایہ داروں کے جام اِس قدر بھر دئیے جائیں کہ چھلک کر نیچے گرنے والے چند قطرے باقی سماج کی پیاس بجھائیں۔ لیکن جب نظام تاریخی طور پر متروک اور اقتصادی طور پر دیوالیہ ہو جائے تو حکمران طبقہ نیچے گرنے والے قطروں کو بھی چاٹنے سے باز نہیں آتا۔ ان پالیسیوں سے ہندوستان میں ایک نسبتاً بڑا درمیانہ طبقہ تو پیدا ہوا لیکن وسیع تر آبادی پہلے سے زیادہ غربت اور محرومی میں غرق ہوتی گئی۔ آکسفیم کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2017ء میں ہندوستان میں پیدا ہونے والی کُل دولت کا 73 فیصد صرف ایک فیصد امیر ترین لوگوں کے تصرف میں آیا‘ جن کی دولت میں 4891 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ غریب ترین 50 فیصد یعنی 67 کروڑ لوگوں کے حصے میں صرف ایک فیصد دولت آئی۔ بھارت میں73 کروڑ لوگ اس وقت بھی بیت الخلا اور 23 کروڑ لوگ بجلی کی سہولت

سے محروم ہیں۔ 2001ء سے 2010ء تک ہندوستان کی اوسط معاشی شرح نمو 10 فیصد رہی جبکہ غربت میں رہنے والے 77 کروڑ سے بڑھ کے 87 کروڑ ہو گئے۔ لیکن قدامت پرستی اور مذہبیت کی زیادہ تر سماجی بنیادیں درمیان میں موجود تیس پینتیس کروڑ کی مڈل کلاس میں پائی جاتی ہیں‘ جس کے وسیع حجم اور ثقافتی اثر و رسوخ کی وجہ سے ہندتوا کا غلبہ بظاہر زیادہ لگتا ہے۔ اگرچہ درمیانے طبقے کے مخصوص خلفشار اور تذبذب کی وجہ سے اب مودی کی حمایت کو خطرات لاحق ہیں‘ لیکن مودی سرکار کی سب سے بڑی ناکامی اس حقیقت سے عیاں ہوتی ہے کہ آنے والے انتخابات میں اس کے پاس بیچنے کو پاکستان دشمنی کے سوا کچھ نہیں ہے‘ جسے جنگی جنون کی انتہائوں تک لے جایا گیا ہے۔ تمام تر جبر کے باوجود مودی کو اپنے دورِ حکومت میں مسلسل محنت کش طبقے کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس

دوران تین ملک گیر عام ہڑتالیں ہوئیں جن میں سے ہر ایک میں پندرہ سے بیس کروڑ محنت کش شریک ہوئے۔ یوں یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتالیں تھیں۔ لیکن سیاست چونکہ دولت والوں کی ہے اور محنت کشوں کی انقلابی قیادت کا فقدان ہے لہٰذا دولت والوں کی پارٹیاں ہی اس نام نہاد جمہوریت اور پارلیمنٹ پر حاوی نظر آتی ہیں۔ ہندوستان کے ایک ارب مفلوک الحال اور استحصال زدہ انسانوں کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ وہاں کے حکمرانوں کی پالیسیاں جنگی جنون جیسی وحشتوں کو غذا فراہم کرتی ہیں۔ یہ کھلواڑ کرنے والوں کا طبقہ اور مفادات ایک ہیں۔ دوسری طرف اس خطے کے عام انسانوں کے مسائل اور ان مسائل کی وجوہات بھی ایک سی ہیں۔ ہزاروں سالوں پر محیط مشترکہ تاریخ ہے۔ راہِ نجات بھی ایک ہے۔ یہ ان گنت خلق جب انقلاب کی اِس راہ پر گامزن ہو گی تو نہ صرف یہ تعصبات اور نفرتیں بلکہ انہیں جنم دینے والے طبقات اور نظام بھی عوامی طوفانوں کے سامنے پاش پاش ہو جائیں گے۔ (بشکریہ روزنامہ دنیا)