وہ بلڈ گروپ جس سے تعلق رکھنے والے افراد میں کورونا سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہیں

لندن (نیوز ڈیسک) ایک نئی طبی تحقیق میں مہلک کورونا وائرس کے انسان کے بلڈ گروپ سے تعلق کو جوڑا گیا ہے، ابتدائی ڈیٹا میں یہ تجویز کیا گیا ہے برطانیہ میں ’’او‘‘ بلڈ گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے کم امکانات ہیں۔ بدھ کو برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ تحقیق جنیاتی ٹیسٹنگ کمپنی 23 اینڈ می کی جانب سے کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سی ٹیمیں یہ تحقیق کر رہی ہیں کہ کس طرح جنیاتی عناصر اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں میں کورونا وائرس کی نسبتاً کم علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن کچھ لوگ اس سے بہت بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے اٹلی اور سپین میں کورونا کے ایسے مریضوں پر تحقیق سامنے آئی جن کے بلڈ گروپ کی ٹائپ اے تھی۔بتایا گیا ہے کہ انھیں آکسیجن کی زیادہ ضرورت پڑی اور انھیں وینٹی لیٹر تک بھی جانا پڑا۔اس سے قبل چین میں سامنے آنے والی تحقیق میں بھی یہی نتائج سامنے آئے تھے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کسی انسان کا بلڈ گروپ کا اس کے کورونا کے خطرے کا شکار ہونے پر اثر ہوتا ہے یا پھر اس میں کوئی اور جنیاتی عناصر شامل ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ خون کے کل چار گروپس ہوتے ہیں، آپ کا بلڈ گروپ کیا ہے یہ آپ کو اپنے والدین سے منتقل ہونے والے جیز کے ذریعے طے ہوتا ہے۔