پاکستانی خاتون سائنسدان کا بڑا کارنامہ، بارش برسانے والاہوائی جہاز تیار کرلیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان کی خاتون سائنسدان ڈاکٹر سارا قریشی نے بارش برسانے والا ہوئی جہاز کا انجن تیار کرلیا ہے۔ غیر ملکی جریدے کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والی خاتون ایرو اسپیس انجینئر ہوائی جہازوں کے لئے آلودگی سے پاک انجن تیار کر رہی ہیں جس سے گلوبل وارمنگ میں کمی آئے گی اور پرواز کے دوران مصنوعی بارش پیدا ہوگی۔ڈاکٹر سارہ قریشی نے ایرو اسپیس ڈائنامکس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور کرین فیلڈ یونیورسٹی برطانیہ سے ایرو اسپیس پروپولشن پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔ ڈاکٹر سارا قریشی پراعتماد ہے کہ ان کی یہ ایجاد ہوا بازی کی صنعت میں انقلاب برپا

کردے گی۔ ڈاکتر سارا نے بتایا ہے کہ وہ اپنے والد ڈاکٹر مسعود لطیف قریشی جو کہ معروف سائنسدان ہیں، ان کے ساتھ مل کر اس انجن پر کام کر رہی ہیں۔ڈاکٹر سارا نے ’ایرو انجن کرافٹ‘کے نام سے اپنی کمپنی بھی قائم کی ہے جو اس میدان میں اہم ریسرچ کر رہی ہے۔ انجن میں دباؤ پر مبنی سنڈینسشن کا انوکھا نظام ہوگا ، جو طیارے کے راستے میں پانی کے بخارات کو ٹھنڈا کردے گا۔ یہ پانی ہوائی جہاز پر موجود رہے گا اور ضرورت کے مطابق بارش کے طور پر جاری کیا جاسکتا ہے۔ یہ انجن ہوا کو آلودہ ہونے سے بچائے گا اور ہوا میں موجود بخارات کو پانی میں بدل کر بارش بھی برسائے گا، انجن میں دباؤ پر مبنی کنڈینسشن کا خاص نظام ہوگا، جو طیارے کے راستے میں پانی کے بخارات کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔یہ پانی ہوائی جہاز پر موجود رہے گا اور ضرورت کے مطابق بارش کے طور پر برسایا جاسکتا ہے۔ ڈاکتر سارہ نے کہا ہے کہ ’’ہم نے ایک انجن تیار کیا اور اور اسے کنڈینسسیشن سسٹم کے ساتھ منسلک کیا ہے‘‘۔ ڈاکٹر قریشی نے انکشاف کیا کہ ان کے پروجیکٹ نے دو بین الاقوامی پیٹنٹ حاصل کیے ہیں اور اسے تجارتی لحاظ سے دستیاب ہونے میں کم از کم چھ سال لگیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فضائی آلودگی ماحول کے لئے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا زمینی آلودگی۔ انہوم نے مزید کہا کہ ملک کے نجی شعبے نے پہلی بار ماحول دوست انجن کے حوالے سے کام کیا ہے، جو عالمی سطح پر گلوبل وارمنگ کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرے گا۔