ڈاکٹر نے 32کلومیٹر دور بیٹھ کر روبوٹ کی مدد سے مریض کا کامیاب آپریشن کردیا

لاہور(نیوز ڈیسک)میڈیکل کی دنیا میں روبوٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کے تجربے کافی وقت سے کیے جا رہے ہیں تاہم اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی تھی۔مگر جب سے مصنوعی ذہانت کا وجود آیا ہے تب سے اس کی کامیابی کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔حال ہی میں ایک ایساہی کامیاب آپریشن دل کے مریض کا کیا گیا ہے جس میں روبوٹ کو استعمال کیا گیا ہے۔ایک سرجن نے 32 کلو میٹر دور بیٹھ کر روبوٹ کنٹرول کے ذریعے ایک مریض کے دل کا آپریشن کیا ہے۔اس کامیابی کو ٹیلی میڈیسن کے ذیلی شعبے روبوٹ اسسٹڈ سرجری میں اہم پیش رفت قرار دیاجا رہا ہے۔ آپریشن میں روبوٹ سے مریض کے دل کی رگوں میں اسٹنٹ ڈالنے کا کام

لیا گیا جبکہ آپریشن کے فرائض انجام دینے والے سرجن تیجاس پٹیل آپریشن والی جگہ سے 32 کلومیٹر دور تھے، انہوں نے 32 کلو میٹر دور ایپکس ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں بیٹھ کر روبوٹ کو کنٹرول کیا۔آپریشن میں کورنڈس نامی کمپنی کا تیار کردہ کورپاتھ جی آر ایکس روبوٹ استعمال کیا گیا جو شعبے کیلئے بنائے گئے روبوٹس کے مقابلے میں کم خرچ بھی ہے۔ کامیابی کی تفصیلات ریسرچ جرنل ”ای کلینیکل میڈیسن“ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔ سرجری کے میدان میں ”ٹیلی آپریٹڈ سرجری“ کے عنوان سے روبوٹس کے مؤثر استعمال کی کوششیں 30 سال سے جاری ہیں جو چند برسوں کے دوران ہی (مصنوعی ذہانت میں غیرمعمولی ترقی کے باعث) کامیاب ہونا شروع ہوئی ہیں۔البتہ مذکورہ کامیاب آپریشن اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ اب تک کی گئی تمام روبوٹ اسسٹڈ سرجریز کے مقابلے میں خاصا مشکل کام تھا جسے کامیابی سے سر انجام دیا گیا۔ اس آزمائشی لیکن حقیقی انسانی آپریشن کے لیے ایپکس ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں آپریٹنگ ٹیبل پر مریض کے قد و قامت جتنا ایک پتلا لٹایا گیا تھا جبکہ سرجن کے ہاتھوں میں موجود سرجری کے آلات کو ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کے ذریعے مریض کے کمرے میں موجود روبوٹ سسٹم سے مربوط کیا گیا تھا۔ آپریشن کے دوران سرجن نے طاقتور کیمروں کے ذریعے دور دراز مریض پر بھی پوری نظر رکھی ہوئی تھی۔ اضافی اقدام کا مقصد غلطی کے امکان کو کم سے کم رکھنا تھا۔ توقع ہے کہ کامیابی کے بعد دل کے آپریشن میں بھی روبوٹس کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔