سول ایوی ایشن نے رن وے کی انسپکشن رپورٹ تیار کرلی

کراچی (نیوزڈیسک) سول ایوی ایشن نے رن وے کی انسپکشن رپورٹ تیار کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن طیارہ حادثے سے قبل کپتان نے طیارے کو لینڈ کرانے کی دو بار کوشش کی جبکہ رن وے پر اترنے کی کوشش کے دوران طیارے کے لینڈنگ گیئر بند تھے۔کپتان نے لینڈنگ کے وقت اے ٹی سی کو ہنگامی لینڈنگ کی اطلاع نہیں دی جبکہ طیارے کے بائیں انجن رن وے پر 4500 فٹ آگے جاکر ٹچ کیا اور 5500 فٹ دور جاکردائیں انجن نے بھی زمین کو ٹچ کیا۔رن وے پر 6 ہزار سے7 ہزار فٹ پر دونوں انجن کے نشانات ہیں۔طیارہ بیلی نے رن وے کو ٹچ نہیں کیا جس سے کپتان نے دوبارہ ٹیک آف کرلیا۔

ذرائع کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کا رن وے 9 ہزار سے دس ہزار فٹ لمبا ہے جبکہ طیارہ دوبارہ ٹیک آف ہونے کے بعد لینڈنگ کی کوشش میں آبادی پر گر کر تباہ ہوا۔جہاز کے انجن پر رن وے سے ٹکرانے سے پیدا رگڑ کے نشانات ہیں۔اس بات کا امکان ہے کہ جہاز کے رن وے کو ٹچ کرتے وقت انجن میں آگ بھڑک اٹھی اور رن وے پر انجن گھسنے کی وجہ سے ممکنہ خرابی پیدا ہوئی۔واضح رہے کراچی ایئرپورٹ کے قریب جمعہ کی دوپہر سوا دو بجے کے قریب پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 8303 گر کر تباہ ہوگئی۔ ایئربس میں 107 افراد سوار تھے جن میں 99 مسافر اور عملے کے 8 افراد شامل ہیں۔ ایئربس 320 ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ایئرپورٹ سے کراچی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ پی آئی اے کی پرواز لاہور سے کراچی پہنچی تھی کہ لینڈنگ سے قبل طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ابتدائی طور پر یہ پتا چل سکا تھا کہ طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے لیے بالکل تیار تھا۔ پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا۔لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا جس کے بعد طیارہ ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارہ گرنے کے فوراََ بعد امدادی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا ۔