اپنے بھی وفانہ کرسکے۔۔نعیم الحق کے گھر پر قبضہ کرنے کی افسوسناک داستان

لاہور(نیوز ڈیسک) معروف صحافی منصور آفاق اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق ابھی زندہ تھے مگر ان کے بنگلے پر قبضے کی جنگ شروع ہوگئی تھی۔ان کا عہدہ وزیرمملکت کے برابر تھا اور انکی رہائشگاہ منسٹر کالونی کے ہاوس نمبر 15 میں تھی۔ڈاکٹرز نے بتا دیا تھا کہ وزیر مملکت چند دنوں کے مہمان ہیں جب بیماری شدت اختیار کر گئی تھی تو ان کی ناقدری کا آغاز ہوا اور پھر روز بروز یہ آگے بڑھتی چلی گئی۔نعیم الحق کراچی نہیں جانا چاہتے تھے انہوں نے باقاعدہ وصیت کی تھی کہ مجھے اسلام آباد دفن کیا جائے۔نعیم الحق نے بنی گالہ کے قبرستان میں اپنے لیے قبر کی جگہ بھی سلیکٹ کی تھی۔افسوس کے جن ساتھیوں پر تکیہ تھا انہوں نے وفا نہ کی۔جب دیکھا گیا کہ سیاسی امور کے معاون خصوصی بس چند دن کے مہمان ہیں تو انہں نے ان کے بیٹے کو کراچی سے بلا لیا کہ

آئیں اور انہیں اپنے ساتھ کراچی لے جائیں۔صاحب بنگلے پر قبضہ کرنے والوں سے ان کی موت کا انتظار نہیں ہو رہا تھا۔نعیم الحق کے بیٹے امان الحق نے اُن کے ساتھیوں سے کہا کہ وہ کراچی آنے پر تیار نہیں تھے ،میں بھی انہیں کئی بار کہہ چکا ہوں۔خیال رہے کہ : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے قریبی ساتھی نعیم الحق کینسر سے طویل جنگ لڑنے کے بعد 15 جنوری کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔کہ نعیم الحق اسلام آباد میں مقیم تھے اور طبیعت مزید خراب ہونے پراسلام آباد سے کراچی آئے تھے ۔ ہفتے کے روز ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں کراچی کے ایک نجی ہسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کر گیا تھا، جہاں وہ انتقال کر گئے۔ نعیم الحق پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سب سے متحرک رہنما تھے، انہیں وزیراعظم عمران خان قریبی ترین ساتھی بھی سمجھا جاتا تھا۔