احسن اقبال کے بھائی بھی نیب کے شکنجے میں آگئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)نیب راولپنڈی نے مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے بھائی کو شامل تفتیش کرلیا، مصطفیٰ کمال کی کمپنی کو میٹرو منصوبے کی تزئین و آرائش کا ٹھیکا دیا گیا تھا، مصطفیٰ کمال نے گرفتاری سے بچنے کیلئےاسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس منصوبے کی تزئین وآرائش میں مبینہ کرپشن اسکینڈل میں مصطفیٰ کمال کو شامل تفتیش کرلیا، مصطفیٰ کمال کی کمپنی کو میٹرو منصوبے کی تزئین و آرائش کا ٹھیکا دیا گیا تھا۔احسن اقبال کے بھائی مصطفیٰ کمال نے گرفتاری سے بچنے کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائرکردی ہے۔مصطفیٰ کمال نے مئوقف اختیار کیا کہ نیب نے میرے بھائی احسن اقبال کو جھوٹے کیس میں گرفتار کررکھا ہے۔ دوسری جانب احتساب عدالت نے نارووال سپورٹس سٹی کیس

میں نیب کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر احسن اقبال کو جو ڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔پیر بیس جنوری کونارووال اسپورٹس کمپلیکس اسکینڈل میں نیب نے احسن اقبال کو جسمانی ریمانڈ مکمل پر احتساب عدالت میں پیش کیا ۔ دور ان سماعت نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ متعلقہ ریکارڈ قبضے میں لیا ہے ، گواہوں کے بیانات قلمبند کئے ہیں، کچھ بنک ریکارڈ مل چکا ہے جبکہ بعض بنکوں سے ریکارڈ ملنا ہے۔نیب پراسیکوٹر نے کہاکہ نو اضلاع میں سے بعض سے جائیداد کا ریکارڈ مل چکا ہے۔عدالت نے استفسار کیاکہ 28 دن کا جسمانی ریمانڈ ہوگیا، کیا 90 روزہ ریمانڈ لیں گے۔ نیب نے کہا کہ احسن اقبال کو 23 دسمبر کو گرفتار کیا، تحقیقات جاری ہیں،احسن اقبال کی گرفتاری کے بعد گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے۔ دور ان سماعت نیب کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے احسن اقبال کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔