موجودہ حکومت نے صرف ایک سال کے دوران کتنے ارب ڈالرزکے بیرونی قرضے حاصل کیے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے مختلف ممالک و اداروں سے 10 ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ لیا۔پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں لیے گئے قرضوں کی تفصیلات پیش کردیں، قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میںوزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے مختلف ممالک و اداروں سے 10 ارب 36 کروڑ 81 لاکھ امریکی ڈالر کا قرضہ لیا، پہلے سال مجموعی سرکاری قرضے میں 9 اعشاریہ 3 کھرب روپے کا اضافہ ہوا جب کہ رواں مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے 3 اعشاریہ 7

کھرب روپے کے قرضے لیے گئے۔حماد اظہر نے کہا کہ کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے 2 اعشاریہ 6 کھرب روپے کا قرضہ لینا پڑا، زیادہ نقد بیلنس کی وجہ سے 3 کھرب روپے کے قرضے کا اضافہ ہوا۔ بد ھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دور ان بتایاگیا کہ موجودہ حکومت نے دس ارب ڈالر سے زائد قرضہ 24سے زائد ممالک اور مالی اداروں سے قرضہ لیا، چین سے ایک ارب تریپن کروڑ ستر لاکھ اکہتر ہزار ڈالر قرض لیا گیا ،فرانس سے چھ کروڑ چھیاسی لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا ،جرمنی سے چار لاکھ ڈالر اور جاپان سے چھ کروڑ چوبیس لاکھ قرضہ لیا گیا ، بتایاگیا کہ سعودی عرب سے پندرہ کروڑ سترہ لاکھ ڈالر لیے گئے ، اے ڈی بی سے نناوے کروڑ چوہتر لاکھ ڈالر لیے گئے ،اے آئی آئی بی سے دو کروڑ تیس لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا ،آئی بی آر ڈی ساڑھے پندرہ کروڑ ڈالر قرضے لیا گیا ،آئی ڈی اے سے پچپن کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر لیے گئے ،آئی بی ڈی سے اکسٹھ لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا ،آئی ڈی بی سے مختصر مدت پر بانوے کروڑ اٹھائیس لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا ،آئی ایف اے ڈی سے چار کروڑ بائیس لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا ۔بتاگیا کہ اوپیک فنڈ سے اسی لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا ،ای سی او ٹی بنک سے تین کروڑ اٹھانوے لاکھ ڈالر قرضہ لیا گیا ،اجمان بنک سے ساڑھے چھتیس کروڑ ڈالر قرضہ لیا گیا ،کنسورشیم آف چائینز بنکس سے دو ارب ساڑھے تئیس کروڑ ڈالر قرضہ لیا گیا ،سٹی بنک سے پندرہ کروڑ ڈالر قرضہ لیا گیا ۔ بتایاگیاکہ ڈی آئی بی نور سے اکتالیس کروڑ ڈالر قرضہ لیا گیا ،ڈی آئی بی سے ساڑھے انیس کروڑ ڈالر قرضہ لیا گیا ،ایمریٹس این بی ڈی سے پچاس کروڑ ڈالر قرضہ لیا گیا ،آئی سی بی ڈی سے تیس کروڑ ڈالر کریڈٹ سوئیسی پینسٹھ کروڑ ڈالر

قرضہ لیا گیا ،آئی ایم ایف سے نناوے کروڑ بارہ لاکھ ڈالر لیئے گئے۔اجلاس کے قیصر احمد شیخ نے کہاکہ موڈیزکی رپورٹ کا حوالہ حکومت کیوں دے رہی ہی بڑی صنعتوں کی پیداوار کم ہوئی ہے، مہنگائی عروج پر ہے،موڈیز کی رپورٹ تو حکومت کے خلاف ہے ۔پارلیمانی سیکرٹری زین قریشی نے بتایاکہ مالی سال 2019 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 32 فیصد کمی آئی ہے، پاکستان کا کاروباری سہولیات کے حوالے سے درجے میں بہتری سے 108 واں نمبر ہوگیا۔وزارت خزانہ نے تحریری جواب میں بتایاگیاکہ اس سے قبل یہ درجہ 136 ویں نمبر پر تھا، حکومت نے قومی زرعی ہنگامی پروگرام کے تحت 287 ارب روپے کے 13 منصوبے

منظور کیے ہیں۔وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے گذشتہ ایک سال کے دوران مالیاتی اداروں سے چار ارب اسی کروڑ پچاس لاکھ ڈالر قرضہ لیا۔بتایاگیاکہ دوست ممالک نے نیشنل بنک میں پانچ ارب پچاس کروڑ ڈالر جمع کرائے۔وزارت خزانہ کے مطابق مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرضے مختصر مدت کیلئے ہیں۔وزارت خزانہ نے بتایاکہ یہ قرضے تین ماہ کے سود بشمول لاگت تین اعشاریہ اٹھائیس فیصد ایک تا تین سال کیلئے ہیں۔وزارت خزانہ کے مطابق دوست ممالک سے حاصل کردہ قرضوں پر شرح سود تین فیصد ہے۔