پاکستان کی فضائی حدود ایک بار پھر بند،سول ایوی ایشن نے اہم اعلان کردیا

کراچی(نیوز ڈیسک) سول ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ 26 جولائی تک ہر قسم کی ٹرانزٹ پروازوں پر پابندی ہے، اس سے قبل ٹرانزٹ اور اوور فلائی پر 12 جولائی تک پابندی عائد تھی۔ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اوور فلائی پر پابندی کا نیا نوٹم جاری کر دیا ہے۔ بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستانی فضائی حدود 27 فروری سے بند ہے۔ پاکستان کی مشرقی فضائی حدود مکمل طور پر بند ہے تاہم ملک کی مغربی فضائی حدود میں جزوی آپریشن بحال ہے۔دوسری جانب پاکستان نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود کی بندش کی مدت میں مزید اضافہ کردیا،

سول ایو ی ایشن اتھارٹی نے اوور فلائی پر پابندی کا نیا نوٹم جاری کر دیا، بھارت کیلیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں 26 جولائی تک توسیع۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے سول ایو ی ایشن اتھارٹی نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔سول ایو ی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں ٹرانزٹ اور اوور فلائی پر 12 جولائی تک پابندی عائد تھی۔ تاہم اب پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی کی مدت میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان نے بھارت پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی میں 26 جولائی تک کا اضافہ کر دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس فیصلے کے باعث بھارتی طیارے اوور فلائی کی بندش کےبعد پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ پاکستانی فضائی حدود میں ٹرانزٹ اور اوور فلائی نئے حکم نامے تک بند رہے گی۔ فیصلے ک تحت ایسٹرن ایئر سائیڈ بند اور ویسٹرن فضائی حدود میں آپریشن جاری ہے۔ واضح رہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستانی ایسٹرن فضائی حدود 27 فروری سے بند ہے۔فروری کے ماہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی اور زمینی محاذ پر جھڑپیں ہوئی تھیں اور صورتحال جنگ کے دہانے تک جا پہنچی تھی۔ اسی باعث پاکستان نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، جو اب تک بند ہے۔ پاکستان کے اس فیصلے کے باعث بھارت کی سرکاری اور نجی ائیرلائنز کو زبردست نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارتی ائیرلائنز کو اب تک کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ خاص کر ائیر انڈیا اس بندش کے باعث سب سے زیادہ نقصان کا شکار ہوئی ہے۔