میر شکیل کی گرفتاری،جنگ ،جیو کے صحافیوں کی حکومت پر شدید تنقید

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جنگ اور جیو گروپ سے مالک میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر سینئرصحافیوں نے وزیراعظم عمران خان اورنیب کو شدید تنقید کا نشانہ بنادیا ہے۔ سینئرتجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ عمران خان میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرکے خدا کے قہر کو دعوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہ “ات خدا دا ویر ہوندا اے”۔سہیل وڑائچ نے مزید کہا کہ عمران خان نے میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرواکر تمام حدیں پار کرلی ہیں۔عمران خان خدا کے قہر کو دعوت دے رہے ہیں۔اس حوالے سے سینئیر صحافی حامد میر نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ میر شکیل الرحمان بہت سخت بیمار ہیں، گرفتار نہیں اغوا کیا گیا ہے اور

یہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہ اے آروائی نے الزام لگایا تھا کہ نوازشریف نے میرشکیل الرحمان کو 1986 میں فیور دی تھی لیکن نیب بھول گیا کہ 1998 میں نوازشریف نے انکے ساتھ کیا کیا؟یادرہے کہ 1998 میں نوازشریف نے جنگ گروپ کے خلاف سخت کاروائی کی تھی اور کاغذ کی بندش کے باعث جنگ گروپ کا اخبار بند ہونے کے قریب آگیا تھا اور دو صفحات تک محدود ہوگیا تھا۔حامد میر ان دنوں روزنامہ اوصاف میں تھے۔ روزنامہ اوصاف انہیں اخبار شائع کرنے کیلئے کاغذ دیتا تھا۔ واضح رہے کہ میر شکیل الرحمان کو آج نیب نے گرفتار کرلیا۔ ان پر الزام تھا کہ میر شکیل پر سرکاری پلاٹس فیر قانونی طریقے سے اپنے نام کرا لئے تھے۔ نواز شریف دور میں نوازا گیا تھا۔ میر شکیل الرحمان پر سابق وزیراعظم نواز شریف سے 54 پلاٹوں پر غیر قانونی رعایت حاصل کرنے کا الزام ہے۔اس سے پہلے میر شکیل الرحمان 5 مارچ کو نیب میں پیش ہوئے جہاں ان سے 2 گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔میر شکیل الرحمن آج دوسری بار نیب میں سوالوں کے جواب دینے کے لیے پیش ہوئے تھے۔ غیر قانونی پلاٹس پر میر شکیل الرحمن تسلی بخش جوابات نہیں دے سکے۔جس کے بعد آج اُنہیں حراست میں لیا گیا۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمن پر نواز شریف دور میں 54 پلاٹس پر غیر قانونی رعایت لینے کا الزام ہے۔میر شکیل الرحمن نے زمین سے ملحقہ گلیوں کو بھی پلاٹس میں شامل کرایا۔