پولٹری فارم سے کورونا سے بھی زیادہ خطرناک وبا کے جنم لینے کا خدشہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکہ میں ایک ماہر غذائیات نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر مرغی کی افزائش کے نتیجے میں کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک وبا دنیا میں پھیل سکتی ہے۔جس سے دنیا کی آدھی آبادی ختم ہوجائےگی۔اپنی نئی کتاب” ہائو ٹو سروائیو اے پیناڈیمک” میں ڈاکٹر مائیکل گریگر نے لکھا ہے کہ پولٹری مصنوعات میں پائی جانے والی بیماریاں انسانوں کے لئے کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ڈاکٹر گریگر کہتے ہیں کہ جب تک ہم گوشت خوری پر انحصار کرتے رہیں گے اس وقت تک انسان نئی بیماریوں کی زد میں آتا رہے گا۔ڈیلی ٹیلی گراف اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا

ہے کہ ڈاکٹر گریگر خود سبزی خور ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وباؤں کے نتیجے میں وائرس تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیلتا ہے۔یہ معاملہ ’اگر ایسا ہوا تو‘ کا نہیں بلکہ’ ایسا کب ہوگا‘ کا ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں اگر یہ نئی وبا آئی تو یہ حد سے زیادہ بھرے ہوئے اور حفظان صحت پر عمل نہ کرنے والے پولٹری فارم سے آئے گی۔دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسو سی ایشن نے سوشل میڈیااور اخبارات پر چکن میں کرونا وائرس کی بے بنیاد موجودگی کی خبر کی سختی سے تردید کردی ہی ،پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نادرن ریجن کے وائس چیئر مین چوہدری محمد فرغام نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر نجی بلاگرز کے ذریعے چکن میں کرونا وائرس کی موجودگی کی بے بنیاد خبریں نشر ہوتی نظر آرہی ہیں،ان تمام تر گردش کی جانے والی خبروں کی پاکستان پولٹری ایسو سی ایشن سختی سے تردید کرتی ہے۔مورخہ 24مارچ2020کو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے اورپروفیسر محمد اشرف نظامی صدر، پاکستان میڈیکل ایسوسی ا یشن،ڈاکٹر سومیہ اقتدارجنرل سیکرٹری پاکستان سوسائیٹی آف انٹرنل میڈیسن،پروفیسر زرفشا ڈین، انسٹیٹوٹ آف پبلک ہیلتھ،پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشاوائس چانسلر، یونیورسٹی آف ایجوکیشن،ڈاکٹر محمد ناصر جنرل سیکرٹری، پاکستا ن سوسائیٹی آف فوڈسائنسز اینڈ ٹیکنالوجی،پروفیسر مسعود صادق صدر، پاکستان پیڈاٹرک ایسوسی ایشن اورڈاکٹر طارق محمود میاں صدر،پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشن کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے بہت علمی غوروخوض کے بعد عوام الناس کو مسلسل کئی روز تک بذریعہ میڈیا بتاتے رہے ہیں کہ انسانی جسم کی قوت مدافعت

بڑھانے کے لیئے تمام ڈاکٹر صاحبان نے سفارشات دی ہیں کہ ہر فرد،خاندان،سوسائٹی اور ریاست اعلیٰ قسم کی پروٹین والی غذائوںمثلاً دودھ، مرغی،گوشت،مچھلی،انڈے والی متوازن غذائوں کو ترویج دیں اور ریاست کی سطح پر موجودہ بیماری کی اعلاج کے لئے مندرجہ بالا 8 میڈیکل اداراجات میں سے کسی ایک سے رابطہ کیا جائے۔نیز منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکورٹی،گورنمنٹ آف پاکستان اورپولٹری ریسرچ انسٹیوٹ گورنمنٹ آف پنجاب اس قسم کے گمراہ کن پروپیگینڈہ جو غذائیت سے بھرپور اور صحت بخش چکن کے گوشت کے استعمال کو متاثر کر رہا ہے اس کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔