ایمان اور نوجوان آبادی کی طاقت سےاس وبا کا مقابلہ کرینگے،وزیراعظم

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ہمارے بھی چین جیسےحالات ہوتےتو سارے شہروں کو بند کر دیتا۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مسئلہ ہےکہ ہماری 25 فیصد آبادی غریب ہے، جو دووقت کی روٹی نہیں کھا سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ چین نے ووہان شہرمیں 2 کروڑ لوگوں کولاک ڈاؤن کردیا، ہرملک اپنی صلاحیت کےمطابق کورونا سے جنگ لڑ رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر ہم لاک ڈاؤن کرتے اور ان غریبوں کا خیال نہ کرتے تو کوئی لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہو سکتا، یہ ایسی بیماری ہےکہ غریب امیرمیں فرق نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیراعظم کو کوروناوائرس ہو گیا ہے،

حکومت اور قوم مل کر لڑے گی تو کورونا کےخلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم لاک ڈاؤن کردیں اورکھانا نہ پہنچا سکیں تولاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کےوزیراعظم نےمعافی مانگی کہ بغیر حکمت عملی کےلاک ڈاؤن کیا۔وزیراعظم نے کورونا کے خلاف ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں کوہم لاک ڈاوَن کریں گے وہاں ٹائیگر فورس رضا کار کھانا پہنچائیں گے اور لوگوں کوقرنطینہ سے متعلق آگاہی دیں گے، لاک ڈاؤن کرکے لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے، کورونا سے ڈرنا نہیں، کوروناصرف چارپانچ فیصد بزرگوں اور بیماروں کو ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایمان سب سےبڑی ہماری طاقت ہے جبکہ ہماری دوسری طاقت یہ ہےکہ پاکستان نوجوان آبادی پرمشتمل ہے۔اس دوران وزیراعظم نے پرائم منسٹر کورونا ریلیف فنڈ بنانےکا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس میں جمع رقم پرکوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔ بیرون ملک پاکستانی ریلیف فنڈمیں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو کمپنیاں اپنے ملازمین کو فارغ نہیں کریں گی انہیں اسٹیٹ بینک سستے قرضے فراہم کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں کو کہنا چاہتا ہوں آپ کی وجہ سےلوگ مریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں، ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سےلوگ بھوکےرہ جاتےہیں۔