وزیراعظم عمران خان کو بڑا جھٹکا، اہم ترین حکومتی عہدیدار نے استعفیٰ دیدیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اٹارنی جنرل انور منصور اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے، انہوں نے اپنا استعفی صدر مملکت عارف علوی کو بھجوا دیا۔صدر مملکت کو بجھوائے گئے استعفے کے متن میں انور منصور نے کہا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے تعیناتی پر سوال اٹھائے تھے، پاکستان بار کونسل نے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، سپریم کورٹ، سندھ اور کراچی بار کا تاحیات رکن ہوں، اس صورتحال کی روشنی میں عہدے سے مستعفیٰ ہو رہا ہوں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے دوران اٹارنی جنرل بیرسٹر انور منصور کے مبینہ متنازع بیان پر پاکستان بار کونسل نے اٹارنی جنرل انور منصور اور وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں اٹارنی جنرل کی طرف سے ججز پر لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل کے الزام

سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ججز کی جاسوسی کا عمل اب بھی جاری ہے، اٹارنی جنرل نے جان بوجھ کرکھلی عدالت میں یہ بات کہی، اور اگر اس بیان میں صداقت ہوتی تو اٹارنی جنرل 133 دن تک خاموش نہ بیٹھتے، اٹارنی جنرل کا بیان سپریم کورٹ کو دبائو میں لانے، دھمکانے اوربلیک میل کرنے کی کوشش ہے۔گزشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے اٹارنی جنرل کو کہا گیا تھا کہ یا وہ اپنے لگائے گئے الزامات کے ثبوت پیش کریں یا اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوں۔ آج اٹارجی جنرل انور منصور نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھیج دیا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل نے مجھ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی کیس کی سماعت ہوئی تھی جس میں اٹارنی جنرل انور منصور کو کہا گیا تھا کہ یا تو وہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف لگائے الزامات کے ثبوت پیش کریں یا اپنا استعفیٰ بھیج دیں۔