منظور پشتین کے بعد علی وزیر اور محسن داوڑ بھی گرفتار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ اور علی وزیر کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب پشاور کے علاقے شاہین ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا۔پی ٹی ایم کی جانب سے منظور پشتین کی گرفتاری پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔محسن داوڑ نے اعلان کیا تھا کہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کریں گے۔تاہم اب محسن داوڑ اور علی وزیر کی گرفتاری کی بھی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔جب کہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کو دو روز قبل ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔بتایا گیا ہے کہ محسن داوڑ اور علی وزیر منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کر رہے تھے۔دونوں کی جانب سے منظور پشتین کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔اس دوران پولیس نے دونوں رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔دوسری جانب پشاور

کی مقامی عدالت نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں ڈیرہ اسمٰعیل خان (ڈی آئی خان) بھیجنے کا فیصلہ سنا دیا۔منظور پشتین کو گذشتہ رات پشاور کے علاقے شاہین ٹاون سے گرفتار کرکے پیر کی صبح عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں سے انہیں 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔پی ٹی ایم سربراہ کے خلاف ڈی آئی خان میں ایک مقدمہ درج تھا جس میں وہ پولیس کو مطلوب تھے۔مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق منظور پشتین نے کہا تھا کہ ’وہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے کیونکہ یہ آئین مکمل طور پر غلط اور انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ یہ آئین بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ ساری زندگی پنجاب اکثریت میں اور پشتون اقلیت میں رہیں۔‘ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی ایم کے سربراہ نے ’ریاست پاکستان کے خلاف توہین آمیز اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی۔‘