کامیاب جوان پروگرام کے بعد حکومت کا کامیاب دکاندار پروگرام شروع کرنے کا اعلان

کراچی(نیوز ڈیسک)حکومت نے کامیاب دکاندار پراجیکٹ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی معاون خصوصی عثمان ڈار نے کہا کہ کامیاب دکاندار پراجیکٹ میں ایک لاکھ سے50 لاکھ تک قرض دیا جائے گا، کامیاب جوان پروگرام اور کامیاب دکاندارپراجیکٹ کا مقصد روزگار فراہم کرنا ہے، 30ارب کی لاگت سے نوجوانوں کو ہنرسکھانے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے۔انہوں نے گورنرہاؤس سندھ میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ کامیاب جوان پروگرام کے بعد کامیاب دکاندار پراجیکٹ شروع کریں گے۔ ابتدائی طور پر1 سے50 لاکھ روپے تک کا قرض دیا جائے گا۔ حکومت معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے،

وزیراعظم کا پیغام واضح ہے جو کام نہیں کرے گا وہ تبدیل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ سے تقریبا 1 لاکھ نوجوانوں نے اپلائی کیا تھا۔کامیاب جوان پروگرام کا بنیادی مقصد روزگار میں تعاون فراہم کرنا ہے۔ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لیے 30 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے تقریبا 15 ہزار کے قریب نوجوانوں نے بزنس پلان دیا، کئی نوجوانوں نے اپلائی کیا مگر ان کے پاس بزنس پلان نہیں تھا۔ نوجوان پورے بزنس پلان کے ساتھ اپلائی کریں یہ آپ کا پیسہ ہے۔10 ارب روپے سندھ کے نوجوانوں کو کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے ملیں گے۔دوسری جانب کراچی میں کامیاب جوان پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بد دیانتی اور سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ہمیشہ پروگرام ناکام ہوتے ہیں۔ ہماری حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا پروگرام نوجوانوں کیلئے ہے۔ جتنا میرٹ ہوگا، اتنا ہی یہ پروگرام کامیاب ہوگا۔ جو معاشرہ میرٹ سے ہٹتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ کامیاب نوجوان پروگرام میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرٹ کا عمل ٹیلنٹ کو اوپر لاتا ہے۔ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے لیکن ہم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سفارشی کلچر کی وجہ سے پاکستان پیچھے رہ گیا۔ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اسے اوپر اٹھاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر ادارے کو عالمی معیار کے مطابق بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا سسٹم میرٹ کو پروموٹ نہیں کرتا۔ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بیرون ملک پاکستانی بہت آگے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں نے زندگی میں جو خواب دیکھا وہ پورا ہوا۔ پاکستان کیلئے کرکٹ کھیلنا،

دنیا کا سب سے اچھا آل راؤنڈر بننا، ورلڈ کپ جیتنا اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کا قیام اور نمل یونیورسٹی بنانا میرے خواب تھے۔ میرا اب ایک ہی خواب ہے کہ پاکستان کوعظیم ملک بناؤں۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ مشکل اور قوم کی آزمائش کا وقت ہے۔ میرا خواب ہے کہ پاکستان کو وہ عظیم ملک بناؤں جس کا قائداعظم اور علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں اچھے اور برے وقت آتے ہیں لیکن کامیاب لوگ برے وقت سے سیکھتے ہیں۔ میں کابینہ میٹنگ میں اپنے وزرا کو گھبرایا ہوا دیکھتا ہوں۔ میں انھیں بھی کہتا ہوں کہ برے وقت سے گھبرایا نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے عظیم اور کامیاب شخص ہمارے نبی ﷺ تھے۔ ہمیں ان کی زندگی سے سیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن انھیں اقتدار نہیں دے دیا تھا۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے بڑا مشکل وقت گزارا لیکن مدینہ کی ریاست نے دنیا کی تاریخ بدل دی تھی۔