اہم یورپی ملک نے اپنےشہریوں کیلئے پاکستان کا بذریعہ سڑک سفر محفوظ قرار دیدیا

لاہور(نیوز ڈیسک) برطانیہ نے پاکستان کو محفوظ ملک اور امن وامان کی صورتحال بہتر قرار دیتے ہوئے سفری ایڈوائزری تبدیل کر دی ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ گزرے پانچ سال کے دوران امن کی بحالی حکومتی کاوششوں کا نتیجہ ہے۔برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے سفری ایڈوائزری تبدیل کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو قراقرم ہائی وے پر سفر کے لیے بابوسر پاس کا راستہ استعمال کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ چترال اور کیلاش وادی جانے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے تاہم کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شہروں میں سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ تمام تبدیلیاں سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کی گئیں۔ 2015ء کے بعد پہلی بار ٹریول ایڈوائزری میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی ٹریول

ایڈوائزی میں تبدیلی کا کریڈٹ پوری قوم اور مسلح افواج کو جاتا ہے۔ میری ٹریول ایڈوائزری پر اپنے برطانوی ہم منصب سے بات ہوئی تھی جبکہ امریکی صدر سے بھی اس معاملے پر گفتگو ہوئی۔زنہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، ترکی اور ملائیشیا سے سیاحت کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔ توقع یہ ممالک سیاحت کے فروغ میں ہماری مدد کریں گے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے سرمایہ کاری کی درخواست کی ہے۔ میرٹ پر کیس دیکھا گیا تو پاکستان گرے لسٹ سے بھی نکل جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی شہریوں کے لئے سفری ایڈوائزری میں مثبت تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ برطانوی شہریوں کے پاکستان کے سفر سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔ پاکستانی حکومت اور عوام سفری ہدایات میں تبدیلی پر برطانوی حکومت کے مشکور ہیں۔