لاہور ہائیکورٹ کا پرویز مشرف کے حق میں بڑا فیصلہ، خصوصی عدالت کی تشکیل غیر قانونی قرار

لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست منظور کر لی ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،سابق صدر پرویز مشرف نے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائرکی ہے جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف لاہور

ہائیکورٹ میں درخواست زیر ِسماعت ہے. بق لاہورہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویزمشرف کی سزائے موت پرعملدرآمدرکوانے کیلئے دوبارہ متفرق درخواست دائرکردی گئی، جوسماعت کے لیے بھی مقررکردی گئی ہے درخواست گزار کا موقف ہے کہ خصوصی عدالت نے غداری کیس کا فیصلہ عجلت میں سنایا، خصوصی عدالتی کی تشکیل سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر التوا تھا درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پرویز مشرف کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کرے. پرویز مشرف کی جانب سے 85 صفحات پر مشتمل درخواست میں عدالتی فیصلے کے پیرا گراف 66 پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ خصوصی عدالت نے عجلت میں فیصلہ سنایا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق صدر کو دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، جبکہ خصوصی عدالت کے رکن جسٹس نذر اکبر نے اختلافی فیصلے میں لکھا کہ 2007ءمیں آئین کی معطلی غداری کے زمرے میں نہیں آتی تھی.درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد روکا جائے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں 3 رکنی فل بنچ 9جنوری کو درخواست پر سماعت کرے گا.درخواست گزار کا موقف ہے کہ خصوصی عدالت نے غداری کیس کا فیصلہ عجلت میں سنایا، خصوصی عدالتی کی تشکیل سے متعلق معاملہ عدالت میں زیر التوا تھا درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پرویز مشرف کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کرے. پرویز مشرف کی جانب سے 85 صفحات پر مشتمل درخواست میں عدالتی فیصلے کے پیرا گراف 66 پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ خصوصی عدالت نے عجلت میں فیصلہ سنایا ہے