مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر وزیراعظم نے اہم فیصلہ کرلیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے کہا ہے کہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں، خطے میں تنازع سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے۔عمانی وزیر مذہبی امور سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں مزید کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے تنازعات ختم کرنے کے لیے بھی کاوشیں کیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا پارٹنر بنے گا اور خطے میں امن اور تنازعات کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا۔وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی صورتحال سے بھی عمانی وزیر کو آگاہ کیا گیا اور کہا کہ عالمی برادری کو صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔بدھ کی صبح ایران نے

عراق میں موجود امریکہ کے دو فوجی اڈوں پر حملے کیے۔ امریکہ کے محکمہ دفاع کے مطابق ایران سے 12 بلیسٹک میزائل داغے گئے جن سے الانبار اور اربیل میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔پینٹاگان کی طرف سے جاری ابتدائی بیان کے مطابق ایران نے امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بنایا تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق فی الحال نہیں کی گئی۔دوسری جانب ایران کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ حملے میں 80 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرنا تھا جس کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے گرد سیکیورٹی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔امریکی فیڈرل ایویشن نے مسافر طیاروں کومشرق وسطیٰ کی فضائی حددود استعمال کرنے سے منع کر دیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ جمعے امریکہ نے عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ڈورن حملے میں ہلاک کر دیا تھا جو ایران امریکہ کشیدگی میں اضافے کا سبب بنا۔