قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء منظور

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آج پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس ترامیمی ایکٹ 2020 پر رائے شماری کے لیے قومی اسمبلی کا اہم اجلاس ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔وزیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں آرمی ایکٹ 2020ء پیش کیا گیا۔وزیر دفاع نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء قومی اسمبلی میں پیش کیا۔آرمی ایکٹ کی ترمیمی بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا گیا۔آرمی ایکٹ ترمیمی بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک منظور کی گئی۔جس کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء منظور کر لیا گیا۔قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل

2020ء منظور کیا۔قومی اسمبلی میں نیوی، ائیرفورس ایکٹ ترمیمی بل 2020ء بھی منظور کر لیا گیا ہے۔تینوں بل کثرت رائے سے منظور کیے گئے۔اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2020ء کی حمایت کی۔جمعیت علمائے اسلام ف، جماعت اسلامی اور فاٹا ارکان قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ 3 جنوری کو کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں برائے دفاع کے اجلاس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے اعلان کیا تھا کہ مذکورہ بلز منظور ہوگئے اور سینیٹ کمیٹی سے علیحدہ منظوری کی ضرورت نہیں تاہم جب اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی غیرمعمولی جلدبازی پر احتجاج کیا گیا تو حکومت کو 4 جنوری کو دونوں ایوانوں کا طلب کیا گیا اجلاس ملتوی کرنا پڑا تھا اور حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مطالبہ کیے گئے نئی ٹائم لائن پر اتفاق کیا تھا.گزشتہ روز وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا تھا کہ قائمہ کمیٹی کی جانب سے متفقہ طور پر ترامیم کی منظوری دی گئی انہوں نے کہا تھا کہ کوئی ٹریک سے پیچھے نہیں ہٹ رہا، ہمیں افواہوں سے گریز کرنا چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں واضح رہے کہ 3 جنوری کو قومی اسمبلی میں پاک آرمی ایکٹ 1952، پاک فضائیہ ایکٹ 1953 اور پاک بحریہ ایکٹ 1961 میں ترامیم کے لیے علیحدہ علیحدہ بل وزیر دفاع پرویز خٹک نے پیش کیے تھے. اس سے قبل یکم جنوری کو پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں آرمی ایکٹ پر ترامیم کی منظوری دی تھی.وزیر قانون فروغ نسیم نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے

اجلاس میں ترامیمی بلز کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی تھی. اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی نے بلز میں کچھ ترامیم متعارف کروانے کی کوشش کی تھی لیکن ویزر قانون نے بتایا کہ مجوزہ تبدیلیوں کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی قائمہ کمیٹی کے رکن کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے ترامیم کے لیے دباؤ نہیں ڈالا تھا اور بلز متفقہ طور پر منظور کیے گئے تھے.