فوج اور آرمی چیف تحریک انصاف کے نہیں قومی ادارے ہیں

لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ فوج اور آرمی چیف پی ٹی آئی کے نہیں،قومی ادارے ہیں، حکومت کوبتانا چاہتا ہوں کہ قومی منصوبوں اورقومی معاملات پر سیاست بند کردے، برائے مہربانی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے فوج اورآرمی چیف کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کریں، سپریم کورٹ نے 6مہینے میں قانون سازی کا کہا،وزیراعظم نے پہلے دن ہی اپوزیشن کو غیرمحب وطن قراردے دیا۔انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 15مہینوں سے افسران میں اکھاڑ پچھاڑ کررہی ہے کیوں کہ ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ حکومت کو کیسے چلانا ہے، ڈرائیور کو اگر بس چلانی

نہیں آتی تو وہ 5ہزار کنڈیکٹر بھی بدل دے گاتو بس منزل پر نہیں پہنچ پائے گی۔قصور افسران کا نہیں قصور وزیراعظم کا ہے، کیونکہ ان کو علم ہی نہیں کہ حکومت کو کیسے چلانا ہے، وہ اپنی ناکامی کا بوجھ افسران پر ڈال دیتا ہے، لیکن ان کو پتا نہیں کہ جب بھی نیا افسرآئے گا تو اس کو معاملات چلانے کیلئے تین چار ماہ لگ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہائرایجوکیشن پنجاب سمیت مختلف محکموں میں پچھلے 15مہینوں میں 6سے 7سیکرٹری بدلے جاچکے ہیں۔عوام جان چکی ہے کہ جس طرح معیشت کا بحران پیدا کیا، اور حال ہی میں آرمی چیف کی تقرری کے مسئلے کو جس طرح ہینڈل کیا گیاہے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی،تین دن سپریم کورٹ ان کی غلطیاں درست کرتی رہی، ان کے ہاتھ پکڑ چلایا جارہا ہے، جب بھی ہاتھ چھوڑا جاتا ہے توگھٹنوں کے بل گرجاتے ہیں، ایسی حکومت پاکستان کیسے آگے لے کرجاسکتی ہے؟ وزیراعظم نے اپنی اقتصادی ٹیم اور قانونی ٹیم کومبارکباد دی ہے، پاکستانی یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ کیا ٹماٹرآلو کی قیمت آسمان پر چڑھانے ، تاجروں ،صنعتکاروں اور کسانوں کے لیے مسائل پیداکرنے، طالبعلموں کے وظائف اور لیپ ٹاپ اسکیم ختم کرنے اور تعلیم اور صحت کا بجٹ کاٹنے پر مبارکباد دی ہے؟ 5.8فیصد سے ہم معاشی ترقی میں 2فیصد پر آگئے ہیں،لوگ خط غربت سے نیچے گرگئے،برآمد میں اضافہ نہیں کیا جاسکا، جبکہ وزیر اعظم اقتصادی ٹیم کو مبارکباد دے رہے ہیں۔معیشت کا پہیہ چلے گا تو امپورٹ کی ضرورت ہوگی، جب گاڑی کھڑی ہوگی تو پھر پٹرول کی ضرورت نہیں ہوگی، حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں چوتھی بار اضافہ کردیا ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں یہ اضافہ واپس لیا جائے، اس سے بجلی چوری میں

اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی تقرری کو پوری دنیا میں جگ ہنسائی بنادیاگیا لیکن لیگل ٹیم کو مبارکباد دے دی گئی۔انہوں نے کہا کہ عمرا ن خان صاحب آپ کی حکومت میں جو اسکینڈل جنم لے رہے ہیں جب آپ کی حکومت ختم ہوگی تو لوگ ماضی کے اسکینڈل بھول جائیں گے، جس طرح کی کرپشن آج ہے اس طرح کی کرپشن محکموں میں کبھی نہیں تھی۔یہ کرپٹ ترین حکومت ہے یہ کہتے تھے ہم 90دنوں میں کرپشن ختم کردیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کوبتانا چاہتا ہوں کہ قومی منصوبوں اورقومی معاملات پر سیاست کرنا بند کردے، جوبھی وزیراٹھتا ہے وہ کہتا ہے کہ ہم آرمی چیف کو یہ کردیں

گے ہم وہ کردیں گے؟ بھئی یہ فوج اور آرمی چیف پی ٹی آئی کے ہیں؟ یہ قوم کے ادارے ہیں، برائے مہربانی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے فوج اورآرمی چیف کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کریں۔آپ کے وزراء قوم میں تقسیم پیدا کرتے ہیں توپھرلگتا ہے کہ آپ کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔جب سپریم کورٹ نے حکومت کو کہا ہے کہ 6مہینے میں قانون سازی کی جائے، اس کیلئے وزیراعظم کواپوزیشن کا تعاون بھی درکار ہے،لیکن وزیراعظم نے پہلے دن ہی اپوزیشن کو غیرمحب وطن ،چوراور ڈاکو قراردے دیا۔