سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع تو دے دی لیکن 3 سال کی نہیں صرف کتنے ماہ کی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا اور چھ ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ راہی صاحب کہاں ہیں؟ ساتھی وکلا نے کہا کہ راہی صاحب کھانا کھانے گئے تھے۔عدالت نے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا۔ حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کی توسیع چیلنج ہوئی۔ حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل

243 فور بی کے تحت کی۔ انہوں نے کاہا کہ حکومت ایک سے دوسری پوزیشن لیتی رہی۔تین دن میں حکومت نے بہت سی پوزیشنز تبدیل کیں۔ ہم نے آرمی ایکٹ 1952 اوررول 1954 سمیت دیگر قوانین کا بھی جائزہ لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ چھ ماہ میں قانون سازی کر لی جائے گی۔ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں۔ آرمی چیف کی مقررہ تقرری چھ ماہ کے لیے ہو گی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج مختصر فیصلہ سنا رہے ہیں، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے۔ جس کے بعد عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس زیر سماعت ہے جس پر آج عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو ہمیں ”را” اور ”سی آئی اے” کا ایجنٹ کہا گیا۔ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ قرار دیا گیا۔جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت میں مؤقف دیا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اُٹھایا گیا۔ اٹارنی جنرل کی اس دلیل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ سوال پوچھنا ہمارا حق ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئے کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی مرتبہ آرمی قوانین پڑھے ہوں گے۔ آپ تجویز کریں کہ آرمی ایکٹ کو کس طرح درست کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ آپ نے پہلی مرتبہ کوشش کی ہے کہ آئین پرواپس آئیں ، جو چیز آئین وقانون کے مطابق ہو توہمارےہاتھ بھی بندھ

جاتےہیں، لیکن سمری میں سپریم کورٹ کا ریفرنس ہمیں نہیں چاہیے، معاملے میں جوبات کھٹک رہی ہےوہ 3 سال کی مدت ہے، آئین کے آرٹیکل 243 میں ایسا کچھ نہیں لکھا ہے ، آج ہم نے توسیع کردی تو 3 سال کی مدت پرمہرلگ جائے گی۔سپریم کورٹ نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق مشروط منظوری بھی دی اور فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل کو چار نکات پر مشتمل بیان بھی عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سمری سے عدالت کا ذکر ختم کیا جائے، سمری میں مدت ملازمت کا تعین ختم کیا جائے، تنخواہ اور مراعات کے حوالے سے تصحیح کی جائے اور پارلیمنٹ سے قانون سازی کی یقین دہانی کروائی جائے۔ جس کے بعد اٹارنی جنرل کی جانب سے سمری پیش کی گئی جس کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔