بس بہت ہوا۔۔اب مودی سے بات نہیں ہوگی، وزیراعظم عمران خان نے دبنگ اعلان کردیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جب تک مقبوضہ کشمیر کے حالات بہتر نہیں ہوتے، بھارت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان سے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی ارکان کانگریس سینیٹرز کرس وان اور میگی حسن نے ملاقات کی۔ ملاقات میں امریکی سینیٹرز کرس وان اور میگی حسن نے وزیراعظم کو آزاد کشمیر کے دورے اور مشاہدے سے آگاہ کیا جبکہ اس موقع پر امریکی ناظم الامور پال جونز بھی موجود تھے۔اس دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر کے حالات بہتر نہیں ہوتے، بھارت سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے وہ پاک بھارت مذاکرات کے سب سے

بڑے حامی تھے لیکن مودی نے بھارت کا چہرہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔امریکی سینیٹرز کے وفد نے گزشتہ روز آزاد کشمیر کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے صدر مسعود خان اور وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقاتیں کیں۔ خیال رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ وادی میں 5 اگست سے لاک ڈاؤن جاری ہے جس کے باعث وادی میں انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ مقبوضہ وادی میں بچوں کے دودھ، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہے جبکہ ٹیلیفون، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی مکمل بند ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن کو 64 روز ہوگئے ہیں اور وہاں کاروبار زندگی بند ، مواصلاتی رابطے بدستور منقطع ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی حالیہ کوششوں سے امن کے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے، انہوں نے جنرل اسمبلی میں جس جرات کے ساتھ یہ مسئلہ اجاگرکیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ سلامتی کونسل میں 54سال بعد مسئلہ کشمیر زیربحث آیا ہے۔وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ امت مسلمہ مسئلہ کشمیر پر کب جائے گی۔ دین اسلام سے عقیدت کامظاہرہ کب کرے گی۔انہوں نے کہاکہ کیا دنیا میںکہیں اورچرچ، گوردوارے اور مندر بند ہوئے ہیں۔وزیرخارجہ نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں مساجد کے تالے کھولے جائیں۔ جمعہ کی نماز کے لیے ہی نرمی کردی جائے۔ کشمیریوں کوآزادی دی جائے۔آج62 واں دن ہے وہاں لاک ڈائون ہے، ہسپتال بند ہیں،مریض گھروں میں وفات پاگئے ۔ بھارت عالمی نے میڈیا کو دکھانے کے لیے سکول کھول دیئے لیکن وہ سکول اندرسے خالی ہیں۔بھارتی میڈیا عالمی برادری کو دھوکا دینے کی کوشش کررہاہے۔انہوں نے کہاکہ امریکی سینیٹرز ملتان بھی آئے تھے ۔ یہ وہ سینیٹرز تھے جنہوں نے مودی کوخط لکھا کہ مقبوضہ

کشمیر سے کرفیو ختم کرو۔ بھارت نے ان امریکی سینیٹرز کو مقبوضہ کشمیر جانے نہیں دیا۔ سینیٹر کرس وان آزاد کشمیر گئے اوروہاںحالات آنکھوں سے دیکھے۔ میری امریکی سینیٹرز سے درخواست ہے کہ وہ جائیں اور ٹرمپ کو آنکھوں دیکھا حال بتائیں۔انہوں نے کہاکہ جس ملک کاوفد چاہے آئے اور کشمیر کے دونوں طرف کے حالات دیکھے۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے دوران انتخابات کا انعقاد کیسے ممکن ہے۔