ہزاروں افراد کا آزادی مارچ کنٹرول لائن کراس کرنے کیلئے ایل او سی کی جانب رواں دواں

مظفرآباد(نیوز ڈیسک)ہزاروں افراد کا کنٹرول لائن کی طرف مارچ تیسرے روز بھی جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ میں شامل ہزاروں افراد گڑھی دوپٹہ سے چکوٹھی کی طرف مارچ کررہے ہیں۔ مارچ میں شامل ہزاروں افراد گزشتہ روز گڑھی دوپٹہ پہنچے تھے جہاں سےان کی منزل چکوٹھی ہے۔ مارچ میں شامل شرکا نے کشمیر کی آزادی کے حق میں بینرز، کشمیر کا پرچم، جے کے ایل ایف کے رہنماؤں امان اللہ خان اور یاسین ملک کی تصاویر اٹھارکھی ہیں۔مارچ کے شرکا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیرمیں محصور اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کنٹرول لائن کشمیریوں کے لئے نہیں، ہمارے لئے یہ سیز فائر لائن ہے، اقوام متحدہ ہمیں سیز فائر لائن عبور کرنے کی اجازت دیتی ہے، اقوام متحدہ فوجی مبصرین کی تعیناتی کا مقصد جنگ بندی کی خلاف

ورزی کو مانیٹر کرنا ہے۔دوسری جانب حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کو نوٹس دے ،اب مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل نہیں ہو گا ہم 50 سال سے مذاکرات ہی کر رہے ہیں ،بھارت نے ہمیں مسلسل دھوکے میں ہی رکھا۔ایک انٹرویو میں یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کو تہاڑ جیل کی ڈیٹھ سیل میں رکھا گیا ہے اور دو ماہ بعد عدالت میں اور میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یاسین ملک نے حالت انتہائی خراب ہے اور وہ بالکل بھی پہچانے نہیں جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری قوم کی قیادت کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ قوم کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہ ہو۔ بھارت کسی بھی قسم کا ہتھیار استعمال کرنے کے بعد بھی کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ختم نہیں کر سکا۔