کرتارپورراہداری،معاہدہ ہوگیا، ترجمان دفتر خارجہ نے بڑی خبر سنادی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے مثبت پیش رفت ہوئی، 80 فیصد کے قریب معاہدہ ہوگیا ہے، 20 فیصد معاملات طے کرنے پر بات چیت جاری ہے گی۔کرتار پور راہداری پر ہونے والے پاک بھارت مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام پر میڈیا سے گفت گو میں پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کافی مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو ممکن ہوگا تعلقات اور امن کیلئے اس حد تک جائیں گے۔اس موقع پر صحافیوں کی جانب سے مذاکرات کی تفصیل پر پوچھے گئے سوالات پر ترجمان نے تفصیل بتانے سے انکار کردیا، ترجمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات

مکمل ہونے تک تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا جاسکتا، کوشش ہے کہ جلد معاملات طے پا جائیں، کرتار پور راہداری کھولنے کا مقصد امن کا حصول ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مدعو کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اس کا جواب دینا قبل از وقت ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہونے والے کے مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات میں اہم امور زیرغور آئے، بھارت سے آنے والے سکھوں کیلئے کرنسی کی مقدار، رجسٹریشن اور ویزوں کی معیاد پر بات چیت ہوئی۔ منصوبے کے افتتاح کی تقریب کیلئے تاریخ کے تعین کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کرتاپور راہداری منصوبے پر پاکستان اور بھارت میں مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ واہگہ بارڈ پر ہوا، بارہ رکنی پاکستانی وفد کی قیادت ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کی۔ بھارت کی جانب سے جوائنٹ سیکریٹری داخلہ ایس سی ایل داس آٹھ رکنی وفد کے ہمراہ شریک ہوئے۔راہداری کے افتتاح کی تقریب کیلئے تاریخ کے تعین کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ منصوبے کی تعمیر کیلئے پاکستان کی جانب سے سڑک کی تعمیر اوردریا راوی پر پل کا کام بھی کافی حد تک مکمل ہوگیا ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہنا تھا کہ معاہدہ ہونے سے قبل اس کی تفصیلات نہیں بتائی جاسکتیں اور یہی بین الاقوامی اصول ہیں۔انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔خیال رہے کہ ’سیاست اور اعتراضات سے قطع نظر مشکل راہوں پر نیا آغاز‘ کے عنوان سے ان مذاکرات کی میزبانی ریجنل پیس انسٹیٹیوٹ نے کی۔بات چیت کے اس دور میں بھارت کی جانب سے 6 افراد پر مشتمل وفد نے شرکت کی۔ایک

روز قبل تقریب کے میزبان اور ریجنل پیس انسٹیٹیوٹ کے بانی رؤف حسن نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کر کے کہا تھا کہ ’یہاں ہم بالآخر اس مشکل گِرہ کو کھولنے کی کوشش کریں گے۔’ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ممکنات کی مہک ہمیشہ مستبقل کے بارے میں میری امیدوں کو برقرار رکھتی ہے، چلیں امن و مصالحت کے لیے کل ایک کام کرتے ہیں‘۔یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا آخری اجلاس گزشتہ سال 28 سے 30 اپریل کو ہوا تھا جو دونوں ممالک کے درمیان ٹریک ٹو کے قدیم ترین اقدامات میں سے ایک تھا۔رواں برس دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی اور بھارتی انتخابات نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے پچھلے تمام سلسلوں کو روک دیا تھا۔