بھارت سے پانی روکنے کا بدلہ! پاکستان ہندوستان جانے والی صرف ایک چیز روک لے تو پورے بھارت کی عقل ٹھکانے آجائے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حال ہی میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب ہو گئے جس کے بعد بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے اور بدنام کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر ڈالی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ بھارت نے پاکستان کو بھیجے جانے والے ٹماٹر بھی بند کر دئے اور ظاہر کیا کہ اب پاکستان خوب ترسے گا لیکن پاکستان کے شہر فیصل آباد کے ایک ادارے نے ایسے ہائبرڈ بیج تیار کر لیے جن سے سارا سال ٹماٹر اُگائے جا سکتے ہیں۔اس محاذ پر بھی بھارت کو ناکامی کا سامنا ہوا اور بھارت کے اپنے کسان ٹماٹروں کی فروخت نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہو گئے ۔ حال ہی میں بھارت نے پاکستان سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات پر

ٹیکس عائد کر دیا لیکن نمک پر ٹیکس عائد نہیں کیا۔نمک بھارت کی اہم ضرورت ہے اور بھارت میں نمک پاکستان کےمقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا بھی ہے۔ بھارت کو سبق سکھانے کے لیے مطالبہ کیاجا رہا ہے کہ پاکستان بھارت کو نمک بھیجنا بند کر دے تاکہ بھارت کے ہوش ٹھکانے آ سکیں کیونکہ پاکستان میں کھیوڑا کی کانوں سے نکلنے والا نمک بھارت کی بہت بڑی ضرورت ہے۔پاکستانی نمک بھارت میں ہونے والی ہندؤوں کی رسومات کے لیے تیار کیے جانے والے کھانے کا بہت بڑا اور اہم جزو ہے۔ بھارت میں نمک کی کانیں نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی نسبت نمک کی قیمت کہیں زیادہ ہے۔ بھارت اپنی نمک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ 1947ء میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا اور اس معاہدے کے مطابق پاکستان بھارت کو امن اور جنگ ہر طرح کے حالات میں بھارت کو نمک فراہم کرتا رہے گا اور اس کی ترسیل بند نہیں کی جائے گی۔ایسے ہی بھارت نے بھی پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کرے گا لیکن بھارت نے دریاؤں پر ڈیمز بنا کر پاکستان کا بہت سارا پانی روک رکھا ہے جو اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان چونکہ امن پسند ملک ہے ، لہٰذا پاکستان بھارت کو بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل نمک فراہم کرتا آ رہا ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کھیوڑا کی گلابی نمک کی کانوں کا نمک دوسرے ملکوں کو اپنی مہر کے ساتھ فروخت کر رہا ہے۔پاکستانی نمک بھارت سے ہو کر اسرائیل جاتا ہے جہاں سے اسے پیک کر کے پوری دنیا میں فروخت کیاجاتا ہے اور اس سے بھارت اربوں روپے کی کمائی کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی نمک سے آمدنی صرف چند کروڑ روپے ہے۔ بھارت اس نمک کو ”ہمالیہ کا نمک” کے نام

سے فروخت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ کھیوڑا میں یہ نمک 300 سال قبل ازمسیح میں اُس وقت دریافت ہوا تھا، جب سکندرِاعظم کی فوج نے جہلم کے اس علاقہ میں قیام کیا تو ان کے گھوڑے گھاس چرنے کی بجائے پتھر چاٹنے لگے تھے۔کھیوڑا میں گلابی نمک کی کانیں دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ اور کہیں موجود نہیں ہیں۔ پاکستان کے علاوہ گلابی نمک دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ پاکستان سے نمک براستہ واہگہ بارڈ بھارت بھیجا جاتا ہے ، بھارت میں اس نمک کو بھیجنے پر آنے والا خرچ ، اسی نمک کو کراچی بھیجنے پر آنے والے خرچ سے بھی کم ہے۔نمک چونکہ بھارت کی ضرورت ہے اسی لیے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو چاہئیے کہ وہ ایک مرتبہ کچھ عرصہ کے لیے بھارت کو نمک بھیجنا بندکر دے تاکہ بھارت کی عقل ٹھکانے آئے۔