اپنی ناکامیوں پر تبلیغی جماعت کو نشانہ نہ بنائیں۔۔۔تحریر: ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

پوری دنیا اپنے سارے جھگڑوں کو بھلاکر مذہب یا ذات یا علاقہ کے تعصب کے بغیر اس وقت کورونا وائرس سے بچنے کے لئے کوشاں ہے، اور تمام تر صلاحیتیں اس پر لگائی جارہی ہیں کہ کس طرح لوگوں کے جانی نقصان کو کم سے کم کیا جائے، حتی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے حریف چین کے صدر سے اس وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے اُن کے تجربات سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے ٹیلیفون پر بات کی۔ حالانکہ مغرور ڈونلڈ ٹرمپ ابتدا میں اس بیماری اور چین پر بے تکے تبصرے کرکے دنیا کے دورے کرہے تھے، چنانچہ وہ ۲۳ اور ۲۴ فروری کو صرف گھومنے کے لئے ہندوستان بھی آئے، جس پر ہماری حکومت نے بے تحاشہ رقم خرچ کی۔ امریکی صدر کے دورہ کو ملتوی کرکے اگر امریکہ اور ہندوستان مل کر فروری سے ہی اس بیماری سے بچنے کی تدابیر پر کام شروع کردیتے تو شاید یہ نوبت نہ آتی کیونکہ اس وقت یہ وبائی مرض چین سے نکل کر دیگر ممالک میں پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔
افسوس! ہمارے ملک کی میڈیا اس مصیبت زدہ گھڑی میں بھی عالمی تبلیغی مرکز حضرت نظام الدین ؒ(دہلی) کے متعلق غلط پروپیگنڈا پھیلاکر ہندو ومسلم کے درمیان نفرت پیدا کرنا چاہتی ہے اور ہندوستان میں کورونا پھیلنے کا مسلمانوں کو ذمہ دار بنانے کی مذموم کوشش کررہی ہے، حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ اس مرض کی ابتدا چین کے ووہان شہر سے ہوئی تھی جہاں مسلمانوں کی آبادی بہت ہی کم ہے، مگر کسی مسلم ملک یا مسلم تنظیم نے چین پر مذہب کی بنیاد پر کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ ہندوستان کی میڈیا کے رویہ سے امت مسلمہ کا درد رکھنے والے حضرات کو کافی تکلیف اور تشویش ہورہی ہے کہ حضرت مو لانا محمد الیاس کاندھلویؒ (۱۸۸۵۔۱۹۴۴) نے ۱۹۲۷ء میں امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے مخلصانہ کوشش کرتے ہوئے ایک ایسی جماعت کی بنیاد ڈالی تھی جس کی ایثار وقربانی کی بظاہر کوئی نظیر اس دور میں نہیں ملتی، اور یہ جماعت ایک مختصر عرصہ میں دنیا کے چپہ چپہ میں یہاں تک کہ عربوں میں بھی پھیل چکی ہے۔ ۶ خلیجی ممالک، ۲۲ عرب ممالک اور ۷۵ اسلامی ممالک مل کر بھی آج تک کوئی ایسی منظم جماعت تیار نہیں کرسکے ، جس کی ایک آواز پر بغیر کسی اشتہاری وسیلہ کے لاکھوں کا مجمع پلک جھپکتے ہی جمع ہوجائے۔ اس محنت اور فکر کے ذریعہ ایسے اللہ والوں کی جماعت وجود میں آئی کہ وہ راتوں میں اللہ کے سامنے اپنی اور امت کی ہدایت کے لئے روتے ہیں اور دن میں اپنی جان ومال ووقت کے ساتھ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ پیش کرکے مسلم بھائیوں کے گھر پہنچ کر ان کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ یہ اللہ والے سارے نبیوں کے سردار اور سب سے افضل بشر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی پاک سنتوں پر عمل کرکے دوسروں کو دعوت دیتے ہیں کہ دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی ہمارے نبیﷺکے طریقہ میں ہی ہے۔
فاضل دارالعلوم دیوبند حضرت مو لانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی امت محمدیہ کی اصلاح کی فکر کو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ (۱۸۹۸۔۱۹۸۲)، حضرت مولانا محمد یوسف ؒ (۱۹۱۷۔۱۹۶۵)، حضرت مولانا انعام الحسنؒ (۱۹۱۸۔۱۹۹۵)، حضرت مولانا عمر پالنپوریؒ اور دیگر علماء کرام نے نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس کو پروان چڑھایا۔ ۱۸مارچ ۲۰۱۴ کو حضرت مولانا زبیر الحسن ؒ (۱۹۵۰۔۲۰۱۴) کے انتقال کے بعد حضرت مولانا سعد کاندھلویؒ اور حضرت مولانا زبیر الحسن ؒ کے صاحبزادوں کے درمیان امیر بننے کے مسئلہ پر اختلاف ہوا، اور اکابرین امت کی جد وجہد سے وجود میں آئی یہ تحریک دو حصوں میں منقسم ہوگئی، اور متعدد مرتبہ امن وسلامتی کے اس عالمی مرکز میں وہ کچھ دیکھنے میں آیا جس کا حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی فکر میں شریک حضرات کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔
پوری دنیا حتی کہ غیر مسلم حضرات بھی مانتے ہیں کہ حضرت مو لانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی فکر سے وجود میں آئی اس جماعت کے ذریعہ لاکھوں حضرات کی اصلاح ہوئی ہے، بے شمار حضرات نے شراب نوشی، گانے بجانے اور رقص کرنے سے نہ صرف توبہ کی بلکہ وہ دین اسلام کے ایسے داعی بنے جو سینکڑوں حضرات کے کلمہ پڑھنے کا سبب بنے۔ اس محنت کے ذریعہ وہ حضرات جو سورۃ الفاتحہ پڑھنا نہیں جانتے تھے اور اللہ ورسول پر ایمان لانے کا معنی نہیں سمجھتے تھے، انہوں نے علوم قرآن وسنت سے سرفراز ہوکر دین اسلام کی دعوت کے لئے ایسے ممالک کے سفر کئے جہاں اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی اشد ضرورت تھی۔
انفرادی طور پر جب ہمارے اندر کمیاں موجود ہیں تو اجتماعی طور پر کام کرنے کی صورت میں کمیاں ختم نہیں ہوجائیں گی۔ موجودہ دور کی کوئی بھی اسلامی تنظیم یا ادارہ تنقید سے خالی نہیں ہے۔ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒ کی فکر سے وجود میں آنے والی اپنی اور بھائیوں کی اصلاح کی کوشش مجموعی اعتبار سے بے شمار خوبیاں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تبلیغی مرکز کے ذمہ دار حضرت مولانا سعد کاندھلوی نے بعض مسائل میں جمہور علماء امت کے موقف سے انحراف کیا ہے، بین الاقوامی علمی اسلامی درسگاہ ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ نے متعدد مرتبہ ان کی اصلاح کی کوشش کی تاکہ دارالعلوم دیوبند کے اکابر کی قائم کردہ جماعت تبلیغ کے مبارک کام کو غلط نظریات اور افکار کی آمیزش سے بچایا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مخلصین کی اس جماعت کی حفاظت فرمائے۔
میڈیا کی جانب سے تبلیغی جماعت کی آڑ میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، اسی لئے ہندوستان کے سیکولر لوگ تبلیغی جماعت پر میڈیا کے رویہ سے ناراض ہیں۔ مسلم تنظمیں اور ادارے اپنے اختلافات کے باوجود اس مشکل گھڑی میں تبلیغی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم اتحاد واتفاق کے ذریعہ ہی مذہب اسلام کے خلاف غلط پروپیگنڈے کا مقابلہ کرسکتے ہیں ورنہ آج میری تو کل تیری باری ہے۔ حضرت مولانا سعد کاندھلوی کو بھی اس صورت حال سے سبق لے کر علماء کرام سے کسی مسئلہ میں اختلاف ہونے پر اپنی رائے پر ہی عمل کرنے پر مصر نہیں ہونا چاہئے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر جس طرح مدارس اسلامیہ نے حکومت کے اعلان پر اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر کے طور پر مدارس، مساجد اور مکاتب سے ہونے والی دینی خدمات حتی کہ سالانہ امتحانات اور جلسوں کو وقتی طور پر ملتوی کردیا۔ پورے ملک میں عام مسلمانوں نے نمازِ جمعہ کے بجائے نماز ظہر ادا کی جو ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ حضرت مولانا سعد کاندھلوی کو بھی مرکز کے پروگراموں کو مؤخر کردینا چاہئے تھا۔
دہلی پولیس نے وزیر اعلیٰ کیجریوال کے مطالبہ پر حضرت مولانا سعد کاندھلوی کے خلاف ایف آئی آر درج کردی ہے۔ مگر یہی وہ کیجریوال ہیں جنہوں نے صرف ایک ماہ قبل دہلی فسادات کے وقت کپل مشرا اور بعض دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست تک نہیں کی تھی۔ دہلی فسادات میں تقریباً پچاس لوگ مارے گئے، سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے، ہزاروں لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوگئے اور پوری دنیا میں ہندوستان کے سیکولر کردار پر بدنما داغ لگا۔
اس وقت مرکزی اور دہلی صوبائی حکومت ، دہلی پولیس اور انتظامیہ سے سوال ہے، جنہوں نے ملک کے مفاد میں کام کرنے کا حلف اٹھایا ہے کہ حضرت نظام الدین پولیس اسٹیشن سے متصل بنگلہ والی مسجد میں تبلیغی مرکز ۹۳ سال سے چل رہا ہے، جس میں ہر وقت ہزاروں افراد ملک وبیرون ملک سے آتے جاتے رہتے ہیں، وقتاً فوقتاً وہاں عالمی یا ملکی یا علاقائی مشورے بھی ہوتے رہتے ہیں، اور روزانہ باہر سے آنے اور جانے والے حضرات کی مکمل معلومات حضرت نظام الدین پولیس اسٹیشن میں درج بھی کرائی جاتی ہے۔ ۱۳ اور ۱۴ مارچ کو انتظامیہ کی اجازت سے مرکز میں ایک اجتماع ہوا جس میں ملک وبیرون ملک کے افراد نے شرکت کی تھی۔ یہ وہی تاریخ ہے جس میں دہلی کے وزیر اعلیٰ نے دہلی اسمبلی میں خصوصی اجلاس طلب کیا تھا، جس میں ۷۰ اسمبلی ممبران کے علاوہ اس سے دو گنی تعداد میں ان کے خدمت گزار موجود تھے۔ اسی اجلاس کے دوران دہلی حکومت نے NPR اور NRC کے خلاف تجویز پاس کی تھی۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا کا اجلاس ۲۳ مارچ تک چلتارہا، یعنی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ۸۰۰ ممبران کے علاوہ ان کی خدمت پر مامور ۱۵۰۰ سے زیادہ افراد ۲۳ مارچ تک شرکت کرتے رہے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت کو گرانے کے لئے ۲۰ مارچ تک سارا کھیل چلتا رہا اور ۲۳ مارچ کو بھوپال میں دھوم دھام کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی حلف برداری ہوئی۔ جس وقت نظام الدین مرکز میں اجتماع چل رہا تھا اسی وقت دہلی ہی میں ۱۴ مارچ کو ہندو مہا سبھا نے کورونا وائرس سے بچنے کے لئے گائے کے پیشاب کو پینے کے لئے ایک پروگرام کا انعقاد کیا، حالانکہ ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ گائے کے پیشاب میں دور دور تک کورونا وائرس سے بچنے کا کوئی علاج نہیں ہے۔ وزیر اعظم کی آواز پر شروع ہوئے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ۲۵ مارچ کو رام للّا کی مورتی نئے مندر میں منتقل کرنے کے لئے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایودھیا گئے۔ وزیر اعظم نے صرف چار گھنٹے دے کر پورے ملک میں لاک ڈاؤن شروع کیا تو چند روز کے بعد ہی ہزارو ں نہیں بلکہ لاکھوں افراد لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑاکر آنند بہار بس اسٹاف پر پہنچے اور ہزاروں افراد پیدل ہی سینکڑوں کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع اپنے گھروں کے لئے روانہ ہوگئے۔ پھر کچھ بسوں کا انتظام بھی کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سارے پروگرام ملک میں کیوں ہوتے رہے، خاص کر لاکھوں افراد ہلی کے مختلف علاقوں سے لاک ڈاؤن کے باوجود کیسے اور کیوں جمع ہوئے، اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے خلاف اب تک کوئی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟
لاک ڈاؤن کے بعد مرکز نظام الدین کے ذمہ داروں نے دہلی پولیس اور انتظامیہ کو مرکز میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لئے درخواست بھی دی، اور پولیس کے کہنے کے مطابق مرکز نظام الدین نے گاڑیوں کا مکمل انتظام بھی کیا مگر دہلی پولیس اور انتظامیہ نے آخر کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ دوسری بات عرض ہے کہ جب حکومت، حکومتی ادارے اور پولیس اچھی طرح جانتی ہے کہ مرکز نظام الدین میں ہر وقت ہزاروں افراد ملک اور بیرون ملک کے لوگ رہتے ہیں تو انہوں نے خود آگے بڑھ کر مرکز نظام الدین میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کا کوئی انتظام کیوں نہیں کیا؟
آخر میں عرض ہے کہ اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے نفرت کی سیاست کرنے کے بجائے حکومت کو اپنے غلط فیصلوں سے سبق حاصل کرکے مل کر کام کرنا چاہئے، تبھی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔ جہاں ہمیں اس مرض سے اپنے آپ کو اور پوری قوم کو بچانا ہے وہیں ملک میں میڈیا کے ذریعہ پھیلائی جارہی نفرت کو بھی ختم کرنا ہے۔
ہندوستان زندہ آباد۔ ہمارا وطن پائندہ آباد۔