کفر کی گستاخی اور مسلمانوں کا ایمان!!۔۔۔ تحریر: آصف اقبال انصاری

دنیا کی تمام علوم وفنون کی کتابیں ایک طرف، قرآن کی شان و عظمت، رفعت و بلندی اور مقام ومرتبہ کا مقابلہ کرہی نہیں سکتیں۔ اس کتاب مقدس کی فضیلت اور عظمت کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ اس کے محافظ خود رب تعالیٰ کی ذات ہے۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” ہم نے ہی قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں”۔مسلمان چاہے کتنا ہی عملی طور پر کمزور کیوں نہ ہو، غیرت ایمانی ،جذبہ، بہادری اور حمیت حد درجہ ایک مسلمان کے سینے میں ضرور موجود ہوتی ہے اور اس کے اظہار کے لیے ہمہ وقت مستعد رہتا ہے۔ جب بھی کسی نے شعائر اسلام کی طرف بد نگاہی کی کوشش کی، تاریخی اوراق میں درج ہے کہ کوئی نہ کوئی مرد قلندر میدان میں کود پڑتا ہے۔ گزشتہ ہفتے یورپی ملک ” ناروے” میں قرآن کی بد

ترین بے حرمتی کی گئی۔ یہ کوئی ناگہانی واقعہ نہیں، ایک پری پلان تھا اور ہاں!! غیر مسلموں کی طرف سے یہ کوئی پہلا واقعہ بھی نہیں۔ آئے دن اس طرح کی کمینگی کے ذریعے مسلمانوں کی دل آزاری کی جاتی رہی ہے۔ بر موقع ھذا دو شکوے کرنا چاہتا ہوں ایک اپنائیت کے لباس میں ملبوس غیروں سے اور دوسرا ان غیروں کے اپنوں سے۔ افسوس ہے، تف ہے، ان نام نہاد مذہبی اسکالرز، اور ڈالر خوروں پر کہ جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے لیے خطرے کی علامت ہیں، اس قدر بھیانک گستاخی پر دو الفاظ ان کے لب پر نہ آسکے۔ پھر میڈیا جو ساری رات ،سارا دن، دنیا کے فنکاروں کی مچلتی ، بہکتی عادات کو دکھانے پر تو راضی ہے۔لیکن اس بد ترین گستاخی کے سامنے گویا سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ یہ تو شکر ہے کہ دنیا بھر سے اظہار رد عمل پر ناروے حکومت کے دماغ ٹھکانے لگ گئے۔ اگر یہ معاملہ عیسائیت اور یہودیت کا ہوتا ، تکلیف انہیں ہوتی تو میڈیا لمحہ بہ لمحہ چینخ و پکار کررہا ہوتا اور اس چینخ کی آواز دور تک سنائی دیتی لیکن بد قسمتی سے مسئلہ اسلام کا ہے تو انہیں بھی چپ کا سانپ سونگھ گیا ہے۔ سونے پہ سہاگا تو یہ کہ حالیہ گستاخی کے بعد ایک طبقہ منظر عام پر وہ بھی آیا جو صبر و تحمل کا درس دیتا رہا۔ برداشت کے قصے سناتا رہا کہ اس طرح کرنا مناسب نہیں تھا۔ اس نوجوان کو از خود اقدام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پولیس موجود تھی وہ سنبھال لیتی جب کہ مصدقہ رپورٹ کے مطابق 10 سے 12 سیکنڈ تک کتاب مقدس کے جلتے رہنے پر یہ اقدام کیا۔ان نام نہاد صبر کی تلقین کرنے والوں سے سوال یہ ہے کہ اگر ادارے موجود تھے، پولیس موجود تھی تو کیا کررہی تھی؟؟ کیا گستاخی کا انتظار کر رہی تھی؟ یہ تو ایسی بات ہے جیسے کسی

کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرکے ،بعد ازاں اس کی مرہم پٹی کی جائے۔ کیا عقل مندانہ فیصلہ ہوگا؟ کیا یہ سمجھداری کی بات ہوگی؟ ہرگز ہرگز نہیں!!! مذہبی رواداری کا درس دینے والے یورپی ممالک، آخر کیوں گستاخیوں کی جرات کرتے ہیں۔ کہاں ہیں وہ پادری۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کہاں ہیں وہ پوپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ جو امن کا ڈھکوسلہ کرتے ہیں۔ دنیائے کفر کا مقصد پوری دنیا کو یہ باور کروانا ہےکہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام مار کاٹ کی بات کرتا ہے۔ اسلام انتہاء پسندی سکھلاتا ہے۔یہودی یہودیت اور عیسائی، عیسائیت کو امن پسند مذہب دکھلانا چاہتے ہیں۔ اور اسلام کا پر نور چہرہ ، گدلا کرنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہے کہ تمام آسمانی کتابوں کو تہہ دل سے تسلیم کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ واقعہ اور قبل ازیں گستاخی

کے دیگر واقعات کیا امن کے تقاضوں میں سے ہیں؟ یہودیت اور عیسائیت جس امن کا ڈھونگ رچاتی ہے کیا اس کی صورت یہ ہے؟ اگر امن سے یہی امن مراد ہے تو کفر یہ بات بھی جان لے کہ ایسے امن و امان کا جواب بھی لاتوں کے ذریعے دیا جاتا رہے گا اور ایسے عمر پیدا ہوتے رہیں گے۔ شاید کفر وہ سبق بھول چکا ہے کہ ایک مسلمان اپنی سب سے قیمتی چیز جان تو دے سکتا ہے مگر شعائر اسلام کے ساتھ گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا۔